ریڈیو سیٹ | تحریر عقیل نواز | پانچویں قسط

ریڈیو سیٹ پانچویں اور آخری قسط۔۔۔۔۔۔
پھر کیا تھا کئی مہینے یوں ہنستے ہنساتے گزر گئے۔اس مدت کے دوران ریڈیو سیٹ نے ہمارے ساتھ خوب نبھائی۔دنیا بھر کے حالات سے واقفیت بخش دی۔
ایک دن اچانک اس کی آواز ڈھگمگانے لگی ۔اس کے اسپیکر میں کوئی خرابی پیدا ہوچکی تھی۔کبھی آواز اچھی طرح سُنائی دیتی ، کبھی مبہم اور کبھی کبھار مکمل خاموشی چھاجاتی۔اس آنکھ مچولی سے تنگ آکر ہم نے فیصلہ کیا کہ اب اس کی مرمت کا وقت آگیا ہے۔ ہمارے علم میں پورے گاوں میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اس کی مرمت کرتا۔اس بحرانی کیفیت کا ادراک کرتے ہوئے ہم نے خود اپنے چہیتے ریڈیو کی مرمت کا فیصلہ کیا۔
وہ فروری کی ایک دوپہر تھی۔ہم نے سوچا کہ کوئی بھی بندہ ماں کی پیٹ سے کاریگری سیکھ کر نہیں آتا۔ ہر ایک کو اس کے حالات کاریگر بنادیتے ہیں۔اور اب ہمارا بھی کاریگر بنے کا وقت آگیا ہے۔انہیں خیالات کے ساتھ پیچ کس ہاتھ میں لیا اور اسم اعظم کا ورد کرتے ہوئے اس کو کھول بیٹھے۔ہم یہ بھول بیٹھے تھے کہ ہمارا کام تو محض سنّا تھانہ کہ اس کو کھولنا۔خیر جیسے تیسے کرکے ہم نے آواز کی تاروں کو جوڑلیا۔اور ساتھ ہی ساتھ دیگر کئی خرابیاںبھی پیدا کردیں۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بے چارے ریڈیو کو بند رکھنے والی تمام کیلیں غائب ہوگئی تھیں۔اس کے دونوں حصوں کو جوڑنے کے لئے ایک ناڑے کا سہارا لیا جاتا۔آن یا آف کرنے کے لئے اس ناڑے کو کھول کر اندرونی تاروں کو جوڑا جاتا یا اُتارا جاتا۔اور اس کام میں جلد ہی ہمیں مہارت حاصل ہوگئی۔
المختصر جس طرح ہر چیزکے مقدر میںزوال ہے۔ ہر شے کو فنا ہونا ہے۔ یہی کچھ اُس ریڈیو کے ساتھ بھی ہوا۔
اس زمانے میں 2008 کے عام انتخابات ہورہے تھے۔ابّا نے ہدایات دیں کہ انتخابات کی اہمیت کے پیشِ نظر ریڈیو کا بلا روک کام کرنا ضروری ہے۔ہم نے سوچا بات تو درست ہے۔اس حالت میں ریڈیو کسی بھی وقت مکمل طور پر خاموش ہوسکتا ہے۔اس سے پہلے کہ یہ مکمل جواب دے ایک مرتبہ اس کی مرمت لازمی ہے۔ایک دوست نے باتوں باتوں میں بتایا کہ گاوں میں ایک حضرت ہیں جو برقی آلات کی مرمت فرماتے ہیں ۔یہ سن کر ہمیں ایسا لگا جیسے صحرائے تھر میں کسی کو پانی میسّر آیا ہو،جیسے بلوچستان میں کسی کو تعلیم کی سہولت حاصل ہوئی ہو، جیسے گلگت بلتستان والوں کو آئینی حقوق ملے ہوں، جیسے پنجاب کے دور دراز گاوں میں کسی کو چودھری صاحب کے ظلم سے نجات ملی ہو۔ہم ہزاروں امیدوں کے ساتھ ان کے در پر حاضر ہوئے۔اس وقت شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا۔بجلی بھی کئی گھنٹوں سے غائب تھی۔موصوف نے کھلے دل سے ہمیں خوش آمدید کہا اور ایک موم بتی کی روشنی میں ریڈیو کو کھولنے لگے۔ریڈیو کی مرمت کے دوران جو واقعات و حادثات پیش آئے ان کو کہیں الگ سے بیان کریں گے ۔لیکن اتنا ضرور عرض ہے کہ ان کی ہوئی مرمت گرتی ہوئی دیوار پر آخری دھکا ثابت ہوئی۔اور یوںہنستا بستا ریڈیو سیٹ اپنے انجام کو پہنچا۔ اگلے دن اس کا شمار بھی خراب اور ناکارہ چیزوں میں ہونے لگا۔
بعد میں ہمیں کسی نے بتایا کہ مذکورہ کاریگر صاحب اس سے قبل بھی کئی چیزوں کو اللہ میاں کے پاس بھیج چکے تھے ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ان کی ایک آنکھ کافی عرصے سے کام نہیں کررہی۔ایک آنکھ کے ساتھ وہ بھی موم بتی کی روشنی میں۔۔۔۔ یُہی تو ہونا تھا۔
شوکت تھانوی نے لکھا ہے کہ سائیکل کی توڑ پھوڑ کے بعدگھر والوں نے سائیکل کے بجائے ان کی اچھی خاصی مرمت کی۔ہمارے معماملے میں ایسا نہ ہوا۔اس بچاو کی دو وجوہات تھیں۔ اول یہ کہ اب گھر والوں کو اس ریڈیو سے نہ کوئی دلچسپی تھی نہ ہی کوئی ہمدردی۔۔۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ اس بات سے خوش تھے کہ اب ہماری خرافات سے بھر پور زندگی کو بریک لگ جائے گی اور ہمارا دھیان ایک مرتبہ پھر کُتب کی جانب ہوگا۔
ریڈیو سیٹ تو چلا گیا۔اپنے ساتھ ہمارے شوق و اشتیاق کو بھی لے ڈوبا۔اور اس کے دوبنے میں ہمارا کردار روزِ روشن کی طرح عیاں تھا۔
اس دن کے بعد سے گھر میں اگر کسی ٹیپ ریکارڈر یا ریڈیو کی بات ہوتی تو ہم جلدی سے موضوع کو بدلنے کی کوشش کرتے اور کئی بار اس کوشش کا راز فاش بھی ہوا۔لیکن اتنا طے ہے کہ جانے انجانے میں ہم نے اس مظلوم اور زوال یافتہ ریڈیو سے وہ کچھ سیکھا جو ہم بڑے بڑے اساتذہ سے نہ سیکھ پاتے۔اگر آج دو چار کاغذ کے اوراق کو داغدار کر رہے ہیںتو اس کا سبب وہی ریڈیو سیٹ ہے ۔ اُس کے ذریعے ہی خبریں سن کر اور دیگر ادبی پروگرامات سن کر ہماری طبیعت صحافت و ادب کی طرف مائل ہوئی۔
ختم شد

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc