سامری اور صوبائی گوسالے

حقیقت اور حقائق سے دو ہی قسم کے لوگ انحراف کر جاتے ہیں۔ ان میں سے اول وہ جو حقیقت اور حقائق سے ناآشنا ہیں ، دوئم وہ جنہیں حقائق کا علم تو ہے لیکن وہ اپنے مفاد اور فائدے کے لئے انحراف کر جاتے ہیں۔پہلی قسم کے لوگوں کو اگر سمجھایا جائے تو بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دوسری قسم کے لوگ معاشرے اور سماج کے لیے بہت زیادہ مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کی فطرت میں چاپلوسی اور ان کے چال چلن اور اعمال میں منافقت رچ بسی ہوتی ہے۔ ان لوگوں کے سامنے حق و باطل واضح اور عیاں ہے۔ انہیں فقط اپنے مفاد سے غرض ہوتا ہے۔ تاریخ کی کتابوں کے اوراق کو جب پلٹا جائے تو صفحات ایسے ناموں سے بھرے پڑے ملیں گے۔ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے انسان کس حد تک سر کش بن سکتا ہے ، وہ اپنے خالق سے بغاوت پہ اتر جاتا ہے۔ اس قسم کے لوگ فرعونیت کا روپ دھار لیتے ہین۔ آج کے دور میں ایک مسلم معاشرے میں رہنے والا شخص فقط خدائی کا دعوی نہیں کرسکتا۔مگر ان کے اعمال بتا رہے ہوتے ہیں کہ وہ فرعون سے بڑھ کے سرکش ہیں۔ اس معاشرے میں کوئی کیسے خدائی دعوے کا ہمت کر سکتا ہے ، یہاں تو زرا سی بات بات پہ قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوتا رہا ہے۔ اب بھی مذاہب وعقائد کے بنیاد پر سرعام موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ۔پھر ایسے لوگوں کی پشت پناہی اور حمایت کے لے پورا معاشرہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔خیر ان باتوں کو ایک طر ف رکھ لیتے ہیں۔ ایسے واقعات و حادثات کو جتنا کریدا جائے زخم اتنے ہیں گہرے ملیں گے۔
میرا ماننا ہے کہ جو بھی شخص حقائق پر پردہ ڈالے وہ آج کا فرعون ہے، نمرود ہے، شداد ہے، شمرو یزید ہے ، سامری ہے۔ ایسے لوگ جیتے جی اپنی انفردادی جنت بنانا چاہتے ہیں۔ ایسے ایسے کرتب دیکھاتے ہیں کہ دیکھنے والی ہر آنکھ ان کے جادو سے فریب کھاتی ہے۔مجھے اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو کہیں اور سے مثال تلاش کرنے کی قطعانہ تو ضرورت ہے نہ ہی ہمارے پاس وقت ہے۔ ہم ستر سال سے ایسے بہت سارے سامریوں اور گوسالوں کا سامنا کرتے آئے ہیں۔جنہوں نے اپنے کرتب سے لوگوں کو گمراہ رکھا۔ ستر سال تک پوری قوم ان سامریوں کی باتوں پہ یقین ، ان کے بنائے گئے گوسالوں کی پرستش اور ان کے بنائے گئے جال میں پھنستے رہے۔ مگر ان ادوار میں مثل موسی ہدایت کے لئے باطل قوتوں کے خلا ف حق پرست آتے رہے۔ ان حق پرستوں کو غدار، ایجنٹ، اور پاگل قرار دیا گیا۔ انہیں کورٹ کچہری، تنگ کوٹھریوں کے بعد یا تو ابدی نیند سلا دیا گیا یا جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس دور کا سب سے بڑا گوسالہ صوبائی گوسالہ تھا۔ لوگوں کو صوبہ بنانے کا اعلان کرتے ہیں۔اب تک عوام اسی صوبائی بیماری کا شکار ہے۔
ان ستر سالوں میں جو غدار ٹہرے تھے،اب وقت کے سامری نے انہی کا نعرہ چرا لیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ اب عوام گلگت بلتستان بیدار ہو رہی ہے، چوک چوراہوں پہ حقوق اور اپنے مسائل پہ بات کرتے دیکھ کر وہ سہم سے گئے۔ گلگت بلتستان کے حق پرستوں نے شروع ہی دن سے صوبائی سیٹ اپ کو مسترد کیا تھا۔ کل تلک عوام گلگت بلتستان فکری طور پر نابالغ تھی اور لاعلم تھی۔شعور اور بصیرت کے فقدان کی وجہ سے سامریوں کے گوسالوں کا مقابلہ کر نہیں سکے۔اب جب عوام گلگت بلتستان نے آدھا سچ دیکھ لیا تو سامری وقت ایک نیا گوسالہ بنا دے گا اور ایک نئی چال چلے گا۔

تحریر ؛حمایت خیال

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc