علاج معالج کی بنیادی سہولیات سے محروم گلگت بلتستان میں معذوری کی شرح میں ہوشرباء اضافہ۔

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) پچھلے ستر سالوں سے بییادی سیاسی اور آئینی حقوق سے محروم خطہ گلگت بلتستان  آبادی کے لحاظ سے 20 لاکھ نفوس سے زیادہ پر مشتمل تعلیمی، معاشی، طبی اور ترقیاتی طور پر انتہائی پسماندہ علاقہ ہے۔ یہاں کی کل آبادی میں سے 46 ہزار پانچ سو سے زائد افراد معذور ہیں۔ جبکہ غیرسرکاری اعداد شمار کے مطابق گلگت بلتستان کی کل آبادی میں معذوری کی شرح 20 فیصد کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی ڈیٹا موجود نہیں اور نہ ہی پورے خطے میں معذوروں کی بحالی کے لئے کسی قسم کا سرکاری ادارہ موجود ہے۔ غیر سرکاری سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں معذوری کی ایک اہم وجہ پولیو کیلئے بروقت علاج میسر نہ ہونا اور مختلف قسم کی بیماریوں کیلئے تشخیص کا فقدان بتایا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے دس اضلاع  کے کسی بھی سرکاری ہسپتالوں میں آج بھی پیچیدہ قسم کے بیماریوں کی علاج کیلئے سہولیات اور جدید الاجات نہ ہونے کی وجہ سے راولپنڈی ریفر کرتے ہیں جوکہ ایک عام آدمی کیلئے موت کے برابر مصیبت سے کم نہیں کیونکہ غربت کے مارے عوام جہاں معاشی مسائل سے دوچار ہیں وہیں معمولی نوعیت کی بخار کیلئے راولپنڈی آنا اور علاج معالجے کی اخراجات کے ساتھ دیگر رہن سہن کے اخراجات نے گلگت بلتستان میں بیماری آنا بھی قیامت سے کم نہیں۔

 

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc