الحاق بھارت کے اعلان سے بغاوت اس لئے نہیں کی تھی کہ ہمیں کشمیر کا حصہ یا متنازعہ قرار دے کر عبوری پیکیج پر ٹرخایا جائے۔

گلگت(پ،ر) اسلامی تحریک پاکستان کےگلگت بلتستان جنرل سکریٹری شیخ مرزا علی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہماری منزل پاکستان تھی اور ہے اور اپنی منزل کو پانے کیلئے ہر قسم کی قربانی بھی دینے کیلئے تیار ہیں ہم امید رکھتے ہیں کہ وفاقی حکومت جی بی کی آئینی حیثیت کے تعین کی بنیاد کو سامنے رکھتے ہوئے حساس خطہ کو ان حساس دنوں میں مزید مایوسی کی طرف دھکیلنے کی حماقت نہیں کرے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ  گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کی بنیاد الحاق پاکستان کا اعلان ہے ۔ آزادی گلگت بلتستان کے روح کے منافی کسی پیکیج کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اگر قومی مفاد جی بی کے متنازعہ ہونے میں ہے تو متنازعہ حیثیت کی وضاحت کی جائے ۔ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کی بنیاد اکتوبر 1947 کی آزادی اور نومبر کو ریاست کی جانب سے الحاق پاکستان کا اعلان ہے اور اسی بنیاد پر ستر سالوں سے جی بی کے محب وطن عوام حقوق کے منتظر ہیں اس کے علاوہ ستر سال انتظار کی کیا بنیاد ہو سکتی ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہمارے قومی ہیروز کی عظیم قربانیوں کو نظر انداز کرنے اور الحاق پاکستان کے اعلان کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جسے دیکھ کر حب الوطنی سے سرشار دل خون کے آنسو روتا ہے ہم آئینی کمیٹی اور سیاسی عمائدین پرواضح کردینا چاہتے ہیں گلگت بلتستان کی آزادی اور الحاق پاکستان کے روح کے منافی کسی بھی پیکیج کو ہر گزقبول نہیں کریں گے اس لئے گلگت بلتستان کی تاریخ کو مسخ نہ کیا جائے اور گلگت بلتستان کی آزادی اور الحاق پاکستان کے اعلان سے متصادم کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا جائے گلگت بلتستان نے مہاراجہ کشمیر کی جانب سے الحاق بھارت کے اعلان سے بغاوت اس لئے نہیں کی تھی کہ ہمیں کشمیر کا حصہ سمجھا جائے یا متنازعہ قرار دے کر عبوری پیکیج پر ٹرخایا جائے اگر قومی مفاد اسی میں ہے کہ خطہ متنازعہ رہے جیسا کہ بارہا وفاقی حکومت اظہار کر چکی ہے تو متنازعہ حیثیت کی وضاحت کی جائے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc