وزیرتعمیرات ڈاکٹرمحمد اقبال نے وزارت کو لات مارنے کا اعلان کردیا۔

اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی) وزیر تعمیرات حکومت گلگت بلتستان ڈاکٹر محمد اقبال نے مقامی پرنٹ میڈیا رپورٹر کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ آئینی حقوق کا معاملہ صرف آج کا نہیں بلکہ 70سالوں سے ہے اور اتنا آسان نہیں کہ ایک لمحے میں یہ ختم ہو جائیگا۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام گندم اور ٹیکس پر متحد ہوتی ہے لیکن آئینی حقوق کے معاملے پر متحد نہیں ہوتے ہے اگر پیسے بچانے کا معاملہ آئے تو بلتستان سے گلگت تک سارے سٹرکوں پر آتے ہیں لیکن آئینی حقوق کے معاملے میں اختلافات کاشکارہوتے ہیں اگر کسی دن عوام آئینی حقوق کیلئے متحد ہو جائیں اور سڑکوں پر آئیں تو وزارت کو لات مار کر عوام کے ساتھ کھڑا ہو جائوںگا انہوں نے کہا کہ ہماری منزل اور مقصد پاکستان ہے اور متبادل آپشن نہیں ہے اور نہ ہی ہم قوم پرستوں کی طرح منفی نعروں پر یقین رکھتے ہیں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے منظم اورمتحدجدوجہد کی ضرورت ہے فاٹا والے آکر اسلام آباد میں دھرنا دے سکتے ہیں تو گلگت بلتستان والے اتنے اہم اورسنجیدہ مسئلے پر دھرنا کیوں نہیں دے سکتے ہیں۔

یاد رہے گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دینے کے حوالے سے سرتاج  عزیز کمیٹی کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ ہے مگر اس حوالے سے گلگت بلتستان مسلہ کشمیر سے منسلک ہونے کی وجہ سے اقوام متحدہ کی قرادادیں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے پاکستان کو مسلہ کشمیر سے پیچھے ہٹنا پڑے گا ورنہ جب تک مسلہ کشمیر کی حل کیلئے اقوام متحدہ کی قرادادوں کی روشنی میں رائے شماری نہیں کرائے جاتے گلگت بلتستان کی حیثیت متنازعہ ہی رہے گا اس میں کسی قسم کی تبدیلی پاکستان کیلئے ممکن ہی نہیں۔ لیکن گلگت بلتستان کے حکمران اپنی حکومتی مدت پورا کرنے کیلئے آئینی حقوق کے نام پر عوام کو بیووقف بنا کو ووٹ حاصل کرتے ہیں۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc