ہمیں اس زاویے سے بھی سوچنا چاہیے۔

تفکر وتعقل کرنا انسان کی خصوصیت ہے- عقلی قوت ہی انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے – ہر سلیم الذہن انسان غور وخوض ضرور کرتا ہے اس فرق کے ساتھ کہ عاقل پہلے سوچتا ہے پهر بولتا یاعملی میدان میں قدم اٹهاتا ہے جب کہ جاہل واحمق انسان پہلے بولتا یا عمل کرتا ہے پھر سوچتا ہے، مگر پانی سر سے گزرنے کے بعد سوچنے کا نتیجہ پشیمانی اور ندامت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ پاکستانی حکمرانوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کا شمار سوچ وبچار کے بغیر میدان عمل میں کود کر قسمت آزمائی کرنے والوں کی فہرست میں ہوتا ہے- عوامی ووٹ سے مسند اقتدار پر قدم رکهتے ہی وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے تو چاروں طرف سے غور کرتے ہیں مگر ملک اور قوم کو ترقی وپیشرفت سے ہمکنار کرانے کے لئے سوچ وبچار کرکے پالیسیز بنانے میں وہ ناکام رہتے ہیں- ہمارے حکمرانوں کے تفکر وتعقل سے عاری ناقص منصوبہ بندیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان مسائلستان بن گیا ہے، جس میں عوامی مسائل کم ہونے کے بجائے روز بروز پیدا ہونے والے نت نئے مسائل نے عوام کا جینا حرام کررکها ہے- اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک میں اب اسلام صرف نام کی حد تک باقی ہے عملی میدان میں اسلام کا کوئی نام ونشان نہیں- پاکستان کے جوان ونوجوان بہت سارے عوامل کی وجہ سے آہستہ آہستہ اسلام سے دور ہوتے جارہے ہیں ، تفکر وتعقل کرکے زندگی کے لمحات گزارنے کے بجائے وہ اندہی تقلید میں خسارے کا سودا کررہے ہیں -عفت، غیرت اور حیا کی جگہ بے غیرتی- بے شرمی اور فحاشی وعریانی کا مظاہرہ کرنے میں لوگ ایک دوسرے پر سبقت لینے کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھ رہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں لوگ ایسے ایسے خلاف انسانیت کام کرنے میں کوئی جهجک محسوس نہیں کرتے جنہیں دیکھ یاسن کر آسمان سے عذاب الہی نازل نہ ہونے یا زمین شق ہوکر ایسے جرائم میں ملوث افراد اس میں نہ دہنسنے پر تعجب ہوتا ہے۔ قصور سمیت پاکستان کے لاہور، کراچی اور دیہاتوں میں اب بچوں کی عزت سے کهیل کر انہیں لقمہ اجل بنانے جیسی قبیح حرکتیں معمول بنتی جارہی ہیں، اس انسانیت سوز حرکت نے وسیع پیمانے پر کاروبار کی شکل اختیار کرچکی ہے، آئے روز اخبارات کا پورا ایک صفحہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کی خبروں سے بهرا رہتا ہے- حالیہ قصور میں زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم کے واقعے نے پورے پاکستان کو ہلاکر رکهہ دیا ہے- میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے ابهی تک مختلف تعلیم یافتہ لوگ تبصرہ و تجزیہ کررہے ہیں – قلمکار اور تجزیہ نگاروں نے اس موضوع کے مختلف پہلووں سے بہت کچھ لکها گیا ہے – واقعتا ان کی کاوشیں لائق تقدیر ہیں- اس سے پڑهے لکهے طبقوں کو بہت کچھ سمجهنے کا موقع ملا اس حوالے سے ایک اہم پہلو جو میڈیا پر شدت سے تجزیہ نگاروں کا موضوع بحث رہا وہ اس قبیح حرکت میں ملوث افراد کی نشاندہی ہے -بالآخر یہ ثابت ہوا کہ بعض نادان حکمرانوں کے اشارے سے ہی کرایے کے قاتل معصوم بچوں کی عزت اور جان سے کهیلتے ہیں – قصور سمیت پورے پاکستان میں روزانہ کوئی نہ کوئی عورت ,بچہ یا بچی جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے اور پنجاب سمیت بہت سارے مقامات پر بچوں سے جنسی زیادتی کر کے ویڈیوز بناکر انسان نما درندے اپنے لئے جہنم کا ایندهن تیار کرتے ہیں مگر اس مافیا کا محرک اصلی حکمران ہونے کی وجہ سے اس دهندے کا کاروبار کرنے والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی-اس سنگین جرم کے حقیقی مجرم براہ راست حکمران اور اشرافیہ طبقہ ہے تو وہیں اس گھناونے جرم میں پاکستانی عوام بھی برابر کے شریک ہیں- روز قیامت عوام سے یہ سوال ضرور ہوگا کہ تم نے ایسے جاہل انسانیت کے دشمنوں کو ووٹ دے کر اپنا حکمران منتخب کیوں کیا گیا -آج قومی اسمبلی میں عوامی ووٹ سے بے شمار جرائم میں ملوث افراد پہنچے ہوئے ہیں جو دولت اور طاقت کے نشے میں ہی ایسی ناروا حرکتیں کرنے میں کوئی خوف محسوس نہیں کرتے – سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی معاشرے کو ایسے گهناونے جرائم سے پاک کرنا ممکن ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے؟ کیسے ایسے جرائم سے معاشرہ کو پاک کیا جاسکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کو خلاف انسانیت بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی جیسے جرائم سے پاک کیا جاسکتا ہے مگر نہ یہ کہ بچوں کو سیکس کی تعلیم دلاکر بلکہ بچوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت کی دولت سے مالامال کرکے ہی پاکستانی معاشرے کو جرائم سے نجات دلاسکتے ہیں -اہل لغت نے تربیت کے معنی پالنا ،تربیت کرنا اور کسی کو تدریجاً نشو ونما دے کر حد ِکمال تک پہنچانا بیان کیا ہے -اہل عرف وعقلاء کی اصطلاح میں تربیت کا مفہوم کچھ اس طرح ہے ۔
١ ،یعنی انسان کی پوشیدہ اور چھپی ہوئی صلاحیتوں کی تربیت کرنا ،
٢ :انسان کو پستی سے نکال کر بلندی اور تکامل کی راہ پر گامزن کرنے اور اسے آگے بڑھانا،میں جن صفات کی ضرورت ہو ان کی دیکھ بھال کرکے صحیح پروان چڑھانے کا نام تربیت ہے ۔
٣۔ یعنی کسی کے اندر مناسب رفتار پیدا کرنے اور اس کو اچھے ہدف تک پہنچانے اور اس کی استعداد کو اجاگر کرنے کیلے کمالات کی طرف حرکت دینے کا نام تربیت ہے
٤۔تربیت میں کسی چیز کو وجود میں نہیں لایا جاتا بلکہ تربیت میں ان موجود صفات کی پرورش کی جاتی ہے جیسے مالی اور باغبان اپنے باغ میں پودوں اور پھولوں کی اچھی طریقے سے دیکھ بھال کرتاہے اور باغ کے ہر ایک پھول ور پودے کی پرورش کرتاہے اور انہیں مختلف موذی امراض سے بچانے کی کوشش کرتارہتاہے تاکہ اس سے اپنا مطلوبہ مقصد حاصل کرے ۔
٥۔ کسی فرد، معاشرہ یا گروہ کی ایسی نشوونما کانام ہے جو اسے بلند انسانی مرتبوں تک پہنچاسکے 1) ایک مرتبہ رسولّ اسلام اپنے اصحاب کے ساتھ ایک گلی سے گزر رہے تھے اس گلی میں چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رہے تھے آپ نے بچوں کو دیکھا اور ٹھنڈی سانس بھر کر کہا اللہ اکبر ،اصحاب نے جب رسول خدا کے چہرے پر غم کے اثرات دیکھے تو آپ سے عرض کی یا رسول اللہ کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا کہ ہائے آخری زمانے کے بچے کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اپنی اولاد کے کھانے پینے رہنے سہنے کی فکر تو بہت ذیادہ کریں گے مگر ان کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دیں گے – بچوں کی کردار سازی کرنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں مغربی اندہی تقلید کو خیر باد کرکے اسلام کی تعلیمات کے زیر سایہ پناہ لینا ہوگی اور اس پر باور قلبی پیدا کرنا ہوگا کہ اسلامی تعلیمات ہی انسان کو دنیا وآخرت کی سعادت سے ہمکنار کراسکتی ہیں پهر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے بچوں کی کردار سازی کرنا ہوگی-
توجہ کیجئے کہ کسی انسان کے کردار سے مراد اس کے مجموعی افعال و عادات ہیں۔ انسان کی زندگی کے معاشی، معاشرتی اور اخلاقی معاملات اس کے کردار کو متعین کرتے ہیں۔ انسان جو کچھ معاشرے میں کرتا یا سوچتا ہے، وہ اس کے کردار میں شامل ہے۔ تربیت و کردار کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ اس میں انسان کے تمام افکار و خیالات اور حرکات و سکنات شامل ہیں۔انسان جو بھی فعل کرتا ہے وہ اس کے کردار سے منسلک ہوتا ہے چاہے وہ فعل ایک مرتبہ سرزد ہو یا عادت بن چکا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر معاشرہ اپنے افراد سے ایک ایسے کردار کی توقع کرتا ہے جو اس معاشرے کے مقاصد کے حصول کے لیے مفید ہو(2)۔لیکن جب تک تعلیمات اسلامی کی روشنی میں بچوں کو تربیت سے آراستہ نہ کریں کل کلاں وہ معاشرے کے لئے مفید وسودمند انسان ثابت ہونے کی توقع رکهنا لغو وعبث ہے – آج کے والدین کو بچوں کی تعلیم کی فکر ضرور ہے مگر تربیت کی یا سرے سے فکر ہی نہیں اگر ہے تو مغربی طرز پر ان کی تربیت کرنے میں عافیت تلاش کررہے ہیں جو صد در صد خطا ہے بچوں کی تربیت کے حوالے سے ہم تعقل وتفکر کرنے کی بالکل زحمت ہی نہیں کرتے۔ ہماری سوچ اور فکر کا محور مادی امور ہی ہوتے ہیں- ہم پوری توجہ سے غور کرتے ہیں کہ ہمارا اچھا گھر کیسے بنے گا ؟ ہمیں اچهی گاڑی کیسے ملے گی؟ ہمارے بینک بیلنس میں اضافہ کیسے ہوگا ؟ہماری تنخواہ کب اور کیسے بڑهے گی؟ ہماری جاب میں ترقی کب ہوگی؟ ہم ثروتمند افراد کے زمرے میں کب شامل ہوں گے ؟لوگ کب ہمیں امیر کھاتا پیتا گھرانہ کہلائیں گے؟ یوں ہماری سوچ مادیات کے زندان میں قید ہونے کی وجہ سے ہمارا معاشرہ روز بروز ترقی کے بجائے پستی اور تنزلی کی طرف رواں دواں ہورہا ہے- اگر پاکستانی معاشرے کو جرائم سے پاک کرنا ہے تو ضروری ہے کہ قرآنی اصولوں کے مطابق والدین اپنے بچوں کی تربیت کرنے کا بیڑا اُٹھائیں اور جہاں مادیات کے بارے میں ہم خوب سوچ وبچار کرتے ہیں وہیں اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے بھی تعقل وتفکر کرنا ضروری ہے – بے شک ہمیں اس زاویے سے بهی سوچنا چاہیے”

تحریر :  محمد حسن جمالی
اسلامک ریسرچ اسکالر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc