ضلعی ہیڈکوارٹر کھرمنگ کا مسلہ گلگت بلتستان صوبے کی طرح ہوگیا۔

کھرمنگ(نامہ نگار خصوصی) ضلعی ہیڈکوارٹر کھرمنگ کی تعین کیلئے مسلسل قرادادیں پاس ہونے کے باوجود مسلہ حل  ہونے کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آرہا۔ ایسا لگتا ہے کہ ضلعی ہیڈکوارٹر کا مسلہ بھی گلگت بلتستان آئینی صوبے کیلئے ماضی میں قانون ساز اسمبلی سے پاس کرائے گئے قراداد کی طرح ہوگیا ہے جسکا کوئی شنوائی ہونے والا نہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے اندر انتظامیہ اور عوامی سطح پر ضلعی ہیڈکوارٹر کی تعین کیلئے علاقے کے علماء کے مختلف گروہوں پر مشتمل کئی متفق قراداد پاس ہوچُکی ہے لیکن اس سلسلے میں ابھی بھی عوام کی ترجمانی کرنے والے علماء سمیت عمائدین کھرمنگ مسلے کو حل کی طرف لے جانے میں ناکام نظر آتا ہے۔ کمشنر بلتستان کی جانب سے گوہری سے ملحق میدان کیلئے فائنل حکم نامہ جاری کرنے اور اہلیان گوہری سے قانونی طور پر میدان کی ملیکت ظاہر کرنے کے مطالبے کے بعد علماء نے خالصہ کے خلاف متفقہ فتویٰ جاری کردیا جس مقصد اہلیان گوہری کیلئے معاوضے کی حصول میں راہ ہموار کرنا بتایا جاتا ہے۔ مگر دوسرے ہی دن ایک اور علماء کے گروہ نے اپنا الگ لائحہ عمل طے کرکے ضلعی ہیڈکوارٹر کیلئے الگ فلسفہ طے کردیا۔ دوسری طرف سیاسی طور پر طاقتور مخصوص علاقے کے لوگوں نے بھی کچھ علماء کو استعمال کرکے اس مسلے کو مزید خراب کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں تاکہ ہیڈکوارٹر اُنکے علاقے میں بنایا جاسکے۔ یوں اس حوالے سے خلوص کم بلکہ محلہ جاتی مفادات سیاست کا عنصر ذیادہ نظر آتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوارٹر کے مسلے پر کمشنر بلتستان کو جلد از جلد قانون کے مطابق عمل درآمد کرنا چاہئے اور گوہری سے ملحق میدان کو خالصہ کے نام پر ہڑپ کرنے کے بجائے قانونی طور پر اس میدان کے مالک ثابت ہونے والے فریق کو معاوضہ دیا جائے ورنہ یہ مسلہ فتووں اور کمیٹیوں کے چکر میں مزید گبھمیر ہونے کا امکان ہے اور کھرمنگ کے عوام اس وقت ضلعی ہیڈکوارٹر کے مسلے پر شدید تذبذب کے شکار ہیں۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc