گلگت بلتستان کی سیاحت۔

گلگت بلتستان سیاحت کے حوالے سے پوری دُنیا میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے،یہاں کی جھیلیں،ندی نالے،سرسبزوشاداب کھیتیں،بلند و بالا آبشاریں ،برف پوش پہاڑیں،بہترین اور مہذب ثقافت ،میٹھی زبانیں،کسی بھی مُلکی اور غیر ملکی سیاح کیلئے جنت کے نظارے سے کم نہیں۔خصوصاً موسم گرما میں ٹھنڈے موسم اور میٹھے پھل کیلئے لوگ جوق در جوق اس علاقے کا رُخ کرتے ہیں،گلگت بلتستان کی معیشت کا ستر فیصد سیاحت سے وابستہ ہے،مگر حکومت کی نا اہلیوں کی وجہ سے یہاں سیاحت کیلئے خاطر خواہ فنڈز اور دوسرے سہولیات فراہم نہیں کرتے مگر مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت جتنا ہو سکتا ہے سیاحوں کی مدد کرتے ہیں،اگر فیملی والا ہو تو سر آنکھوں پر بٹھا دیتے ہیں تاکہ ان کے مہمان کو کوئی تکلیف نہ ہو۔یہی گلگت بلتستان والوں کی خوبصورتی ہے،یہی ہماری ثقافت اور پہچان ہے،مہمان نوازی ہمارے رگ رگ میں بسے ہوئے ہیں،
مہمانوں کی خدمت کو ہم اپنے لئیے فرض سمجھتے ہیں،اسی لئے پوری دُنیا اس علاقے کو دنیا کا پرُامن اور خوبصورت ترین علاقہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے،دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے کئی چوٹیاں گلگت بلتستان میں واقع ہیں، جن میں دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو،نانگا پربت،مشہ بروم،راکا پوشی، گشہ بروم سرِ فہرست ہیں،دنیا کا چھت کہنے والی دیوسائی کا میدان، دنیا کی بلند ترین محاذِ سیاچن،دنیا کا سرَد ترین صحرا کتپنہ صحرا سکردو، نلتر،ہنزہ،غذر،فیری میڈوز، کھرفوچو فورٹ،شگر فورٹ،خپلو فورٹ، سدپارہ،شنگریلا وغیرہ یہ وہ جگہیں ہیں جنہیں دیکھنے کیلئے سیاح ترستے ہیں،جنت نظیر وادی گلگت بلتستان کسی بھی چیز کی محتاج نہیں،اللّٰہ تعالٰی نے اپنی نعمتوں کی انبار لگا دی ہے۔
مگر کچھ ایسے سیاح بھی آتے ہیں جن کی وجہ سے دوسرے لوگوں یعنی سیاحوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتے ہیں۔ان میں منچلے حضرات شامل ہیں جو فیملی کو تنگ کرنا اپنا قومی فریضہ سمجھ کے ادا کرتے ہیں،اس کام میں بھی زندہ دلانِ لاہور سر فہرست ہے،کچھ دنوں پہلے ایک لڑکی کا پوسٹ میری نظروں سے گزری،جو سیاحت کی غرض سے اپنی فیملی کے ساتھ گلگت بلتستان کی حسین وادیاں دیکھنے چلی گئی، اس نے شکایت کی کہ کچھ لڑکے خنجراب پاس سے اس کے ساتھ نامناسب حرکات اور طوفانِ بدتمیزی کرنا شروع کر دی،یہ حرکات وہ دوسرے فیملی والوں کے ساتھ بھی کرتے رہے،اُن لڑکوں کا تعلق لاہور سے تھا،ایک اور شکایت میں ایک لڑکی نے شکایت کی ہے کہ دیوسائی شیوسر جھیل میں کیمپنگ کے دوران کچھ منچلے سیاحوں نے اُن کے ساتھ بدتمیزی کی،مگر مقامی افراد اور دوسرے سیاحوں کے روکنے پر وہ لوگ باز آئے ۔
یہ صرف شکایت نہیں ہمارے منہ پہ طمانچہ ہے،یہ کیا حرکات کر رہے ہیں ہم؟؟فیملی کو تنگ کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟؟کیا یہ لوگ اپنی گندی زہنیت کو دیکھانا چاہتے ہیں؟،کیا اپنی تعلیمی قابلیت دیکھانا چاہتے ہیں ؟،کیا وہ اپنی بہترین تربیت کو دیکھانا چاہتے ہیں؟؟جو بھی ہو اپنے علاقے میں جا کے دِیکھائیں ،اپنے گھر میں کریں، اپنی گندی حرکات میرا گھر میرا دیس گلگت بلتستان میں جا کے نہ کریں،اپنی گندی زہنیت اور تربیت سے میرے گھر کو بدنام نہ کریں،تم لوگوں کی حرکتوں سے اصلیت معلوم ہو رہی ہے،مگر یہ کام جا کے اپنے علاقے میں کریں،سیاحت کی غرض سے جائیں تو گھومیں پھریں، انجوائے کریں اور واپس چلے جائیں، اپنی گندی حرکات سے میرے علاقے کا امن برباد نہ کریں تو بہتر ہے،ہم پرُامن لوگ ہیں،ہماری تعلیم و تربیت ہمارے والدین نے اچھی طرح کی ہے، لوگوں کی عزت،ماوں بہنوں کی حرمت اور ناموس کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔اس لئے برائے مہربانی ہمیں سختی پر مجبور نہ کریں،آپ لوگوں کو کوئی تکلیف ہو تو مقامی افراد سے رابطہ کریں انشااللُّٰہ ضرور آپ کی مدد کریں گے، مگر اپنی گندی زہنیت کی بیج کو میرے پُرامن علاقے میں نہ بوئیں۔
سیاحوں سے گزارش ہے صفائی کا خاص خیال رکھیں،جگہ جگہ گندگی کا ڈھیر نہ لگائیں ، استعمال شُدہ چیزوں کو شاپر میں ڈال کر سائیڈ کریں،یا قریبی کوڑا دان میں پھینکیں، فیملی والوں کا خاص خیال رکھیں ان پہ گندی نظر ڈالنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں آپ کے گھر میں بھی ماں بہن موجود ہے،۔
صفائی نصف ایمان ہے اس لئے برائے مہربانی صفائی کا خاص خیال رکھیں ۔
مقامی افراد اپنی بہترین ثقافت کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاحوں کا خیال رکھیں،اُن کی مدد کریں، قارون کا خزانہ سمجھ کے لوٹنے سے باز رہیں،مہمان نوازی آپ کا قومی فریضہ اور ثقافت کا حصہ ہے اسے احسن طریقے سے ادا کریں، دنیا کی بہترین قوم ہونے کا ثبوت دیں۔
رات کے وقت اگر کوئی سیاح ملے اور اس کو مدد کی ضرورت ہو تو بلا ججھک اُس کی مدد کریں،فیملی والوں کی عزت و ناموس کا خاص خیال رکھیں۔
حالیہ دنوں میں گلگت بلتستان میں سیاحوں کا رش بڑھ گیا ہے، لاکھوں کی تعداد میں مُلکی اور غیر ملکی سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رُخ کیا ہوا ہے،یہ سیاح ہمارے لئے سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے مقامی افراد کا فرض بنتا ہے وہ اِن کی جتنی ہو سکے مدد کریں۔

تحریر فیصل اکاش

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc