مشیر اطلاعات شمس میر کا لب ولہجہ اسکی اخلاقی پستی کا ثبوت دے رہا ہے۔

استور(پ،ر). پیپلز پارٹی استور کے سنیر نائب صدر مظفر علی ریلے ، ڈپٹی سیکریٹری انفارمیشن وزیر نعمان ، نایب صدر شبیر حسین ، ڈپٹی انفارمیشن سکیٹری بابر خان و دیگر نے کہا کہ شمس میر کا لب ولہجہ اسکی اخلاقی پستی کا ثبوت دے رہا ہے۔ بورڈ آف انویسمینٹ سے جس طرح ذلیل کرکے نکلا گیا اسکا غصہ پی۔پی پر اتارنے کی کوشش کرکے آپنا غم کم کررہا ہے۔ انشاء اللہ ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد مشیر اطلاعات دوسری تنخواہ لینے سے محروم ہوجائینگے۔ پھر فٹ پاتھ پر آکر بانسری بجائینگے کہ مجھے کیوں نکالا۔ سیاست میں اخلاقیات کا دامن چھوڑنے والوں کو پیپلز پارٹی کے کارکنان اخلاقیات سکھانا جانتے ہیں۔ کرپشن اور چوری چکاری کے پیسوں پہ ہی مشیر اطلاعات نے آپنے زندگی کے دن گزارے ہیں۔ غیرمقامی دکان داروں سے بھتہ لینے میں شمس میر جیسے مسلم لیگی پیش پیش رہے ہیں۔ آج وہی بھتہ خور زیادہ آچھل کود کرکے آقاء کی خوشنودی حاصل کررہے ہیں۔ مغربی ممالک کی مثالیں دینے والا مغرب جاکر بداخلاقی کا بدترین نصاب پڑھ کر آئے ہیں۔ آمجد ایڈوکیٹ گلگت بلتستان کی محروم عوام کے لئے امید کی کرن ہیں۔ انشاء اللہ آگلے الیکشن میں پیپلز پارٹی کلین سویپ کرکے شمس میر جیسوں کو مزید باولا بنا کر رکھ دے گی۔ مشیر اطلاعات جسطرح کی بدتمیزی کررہے ہیں۔ اسکا جواب ہم دینا جانتے ہیں۔لیکن ہماری قیادت نے ہمیں اخلاقیات کا دامن تھامے رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمس میر گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کے شیخ رشید بننے کی کوشش کرکے اخلاقیات اور علاقائی اقدار کو پامال نہ کریں۔ وہ جس قسم کی بانسری بجا رہے ہیں۔اسکو حقیقی سیاسی کارکنان پسند نہیں کرتے ہیں۔ بورڈ آف انویسمینٹ سے بے عزت کرکے دھتکارے جانے کا غصہ سیاسی قیادتوں پر نکالنے کی کوشش نہ کرے ورنہ فٹ پاتھ پر آنے میں ٹائم نہیں لگے گا۔ اور ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد اس قسم کی غیر اخلاقی بانسری بجانے والوں کی حثیت کیا رہ جائے گی۔ تمام حالات کو سامنے رکھ کر زبان کھولیں تو بہتر رہے گا۔ پیپلز پارٹی رکن اسمبلی جاوید حسین نے بینک سے قرض لے کر کاروبار کیا ہے۔ اور سینکڑوں بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع فراہم کیا ہے۔ مسلم لیگی قیادتوں کی طرح بھتہ خوری۔ کرپشن اور کمیشن کے حصول کے دھندے میں ملوث نہیں رہے ہیں۔ آمجد ایڈوکیٹ جی۔بی کے ایک ناموار قانون دان ہیں۔ اور معاشی حوالے سے مستحکم ہیں۔ کمیشن کے حصول کے لئے ٹریڈنگ کمپنیاں تو حکومتی اراکین نے کھول رکھی ہیں۔ اور انہی کرپشن اور کمیشن سے حاصل آمدنی سے انکا گھر چلتا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc