بلتستان میں تعصب اور بد امنی پھیلانے کی کامیاب اور ناکام کوششوں کی تاریخ اور عوامل ۔

نمبر ایک : جہالت۔
نمبر دو: غیر مقامی افراد کے مفادات۔
نمبر تین : ریاستی مفادات اور ایجنسیز۔
جہالت ۔
فٹ بال یا دیگر کھیلوں میں اپنی مہارت دکھانے کے بجاے لڑائی جھگڑا کر کے اپنی ناک اونچی کرنے کی بھونڈی کوشش کو شائقین کے علاوہ عام لوگ اور باشعور افراد جہالت کا نام ہی دے سکتے ہیں یہ سلسلہ یہی نہیں رکتا اس میں سیاسی و مذہبی معاملات میں بھی لوگ عقلیت اور حقائق کے بجاے جاہلانا اور فرسودہ نظریات پے تکیہ کئے نظر آتے ہیں۔لیکن کھیل کے نام پے لڑائی یا معاشرے میں پا بازی یا فرقہ پرستی کے بنیاد پے تعصب پھیلانے کی ناکام کوشش کی سو فیصد ذمداری جہالت پر عائد نہیں ہوتی اس کے اور بھی بہت خطرناک وجوہات ہیں۔
غیر مقامی افراد کے مفادات ۔
بلتستان میں غیر مقامی افراد کے مفادات یہ بھی ایک بہت بڑا عامل رہا ہے زمانہ قدیم سے ہی بلتستان میں باہر سے لوگ آکے آباد ہوتے رہے ہیں جو کہ مقامی ثقافت اور رنگ میں ڈھلتے گئے ان کے مفادات بھی بلتی قوم اور بلتستان کے مفادات میں ڈھل گئے مگر تاریخ میں پہلی بار بڑی تعدات میں راجاؤں نے خانساماں،ذراعت اور دیگر گھریلو صنعتوں کے لئے کاریگر منگواے جو اپنی زبان اور ثقافت ساتھ لے آے جس کی وجہ سے وہ بلتی سماج میں خود کو ڈھال نہیں سکے نتیجے میں انہوں نے اپنے مفادات بھی الگ مطعین کر لئے اور مقامی بلتی سماج میں پا بازی کی بنیاد رکھی صدر مقام میں اپنے پاؤں جمانے کے لئے سکردو پا شگر پا خپلو پا کھرمنگ پا روندو پا جیسی اسطلاحات استعمال ہونے لگے ایک دوسرے کے لئے طنزیہ لطایف تخلیق ہونے لگے اور غیر محسوس طریقے سے بلتی سماج میں تقسیم کا عمل غیر مقامی عناصر کے مفادات کے لئے شروع ہوا۔
پا بازی(علاقہ پرستی) کے بعد فرقہ پرستی یا مذہب کے بنیاد پر نفرتیں پھیلانے کی ناکام کوشش کا آغاز پاکستان کے بننے کے بعد خاص کر 70 کی دہائی میں تجارت کاروبار اور ٹھیکداری کے لئے آئے غیر مقامی غیر بلتستانی افراد نے اپنے سماجی اور کاروباری مفادات کے لئے شروع کی یہ لوگ اکثر پر امن خطے میں اپنے قدم جمانے کے لئے پر امن بلتستان کے لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے اور خود کو زیادہ مذہبی غیرت مند اور بلتی سماج کو مذہبی بیغرتی کے طعنے دیتے اکساتے نظر آتے ہیں۔یہ سلسلہ ناکام ہونے کے باوجود یہی پے نہیں رکتا اس میں مزید تیل ریاستی ادارے چھڑکتے ہیں۔
ریاست اور ایجنسیز ۔
جہالت غیر مقامی عناصر کی کارستانیوں کے باوجود 80 کی دہائی تک کوئی نا خوش گوار واقعہ کبھی رونما نہیں ہوا مگر 80 کی دہائی میں بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام سے پہلی قومی پلیٹ فارم معرض وجود میں اتا ہے جس کی جدوجہد کے بدولت بلتستان میں طویل غلامی کے خلاف عوامی شعور بیدار ہونا شروع ہو جاتا ہے لوگ آئینی حق مانگنے لگتے ہیں تعلیم صحت آمدو رفت اور سیاسی مسائل پے آواز اٹھانا شروع کرتے ہیں۔
اس قومی شعور و اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے سب سے مزموم اور خطرناک کھیل شروع کروایا جاتا ہے۔ جس میں سب سے پہلے شیعہ نوربخشیہ مسالک میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی پھر اس کے بعد نوربخشی مسلک کے دو ٹکرے کئے گئے پھر اس کے بعد شیعہ سنی تعصب پھیلانے کی کوشش کی گئی تو دوسری طرف سیاست اور کھیل میں پا بازی کی بنیاد رکھی گئی اور کھیل میں الڈینگ اور بازار کے نام پے جھگڑے کرواے گئے۔
اب یہ تعصب اور جہالت اتنی راسخ ہو چکی ہیں کی زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی بس کوئی موچی میچ رکھتا ہے اور قوم گوتھم گوتھا ہو جاتی ہے۔
ان موچیوں کی اولادوں سے کوئی کہے کوئی جشن آزادی کا میچ جہلم اور گجرات کے بیچ بھی رکھیں۔
سنو۔ بلتستان والو لڑنا ہے تو 70 سالہ غلامی کے خلاف لڑو
گلگت سکردو روڈ کے لئے لڑو ۔
کارگل سکردو روڈ کے لئے لڑو ۔
بلتستان یونیورسٹی کے لئے لڑو ۔
این ایف سی ایوارڈ مشترکہ مفادات کونسل میں نمائندگی کے لئے لڑو ۔
سیاحت معدنیات جنگلات پانی ہوائی راستوں اور سی پیک میں رائلٹی کے لئے لڑو ۔
طبقاتی نظام نو آبادیاتی نظام کے خلاف لڑو۔
سنو موچیوں کی اولادو تم بھی دیکھ لو یہ آپس میں کھیل کود میں ایسے لڑتے ہیں جس دن انکو تمھارے مظالم سمجھ آگئے اور یہ تمھارے خلاف نکل کھڑے ہوے تمہارا کیا حشر کریں گے۔

تحریر: آصف ناجی ایڈوکیٹ

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc