وزیر اعلی گلگت بلتستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد، حقیقت کیا فسانہ کیا؟ نمبر گیم کیا کہتا ہے؟

بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت تخت دھڑن ہو چکی۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ان ہاوس تبدیلی کی افواہیں گرم ہیں۔ اب یہ “گرم افواہیں” چنار باغ گلگت کی سرد ہواوں سے بھی ٹکرا رہی ہیں۔ اسلام آباد کے ڈرائنگ رومز کے مکین سمجھتے ہیں کہ آصف علی زرداری نے اپنے ترپ کے پتے پھینکا شروع کئے ہیں۔ گزشتہ 5 سال تک حکومت میں نہ ہونے کے باوجود انہوں نے نواز شریف حکومت کی ناک میں ایسی نکیل ڈالے رکھی کہ ان کا ہر مطالبہ منہ مانگے دام ہی پورا کیا گیا۔ زرداری نے ستمبر 2013 میں منصب صدارت سے جاتے جاتے کہا تھا کہ میں 4 سال ان کو حکومت کرنے دوں گا، پانچواں سال سیاست کروں گا۔ اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت زرداری سے کافی مرعوب نظر آتی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان کے وزیر اعلی کو چند گھنٹوں کے اندر اندر چلتا کئے جانے کے بعد ن لیگی پیپلز پارٹی سے رحم کی اپیل کرتی نظر آتی ہے۔ نواز شریف کی تاکیدی ہدایت پر ن لیگی پیپلز پارٹی پر تنقید سے گریزاں ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس حالیہ دنوں میں مفاہمت کے کئی رقعے جا چکے ہیں۔ ن لیگ کے چھوٹے بڑوں کے علاوہ سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ کوئٹہ سے پشاور تک حکومتوں کے اکھاڑ پھاڑ کے منصوبہ ساز آصف زرداری ہیں۔ زرداری بلوچستان میں ن لیگی باغی ارکان کی مدد سے سینیٹ کے 12 میں سے کم از کم آدھی نشستیں ہتھیانا چاہتے ہیں۔ جبکہ کے پی کے اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان اور اے این پی سے ملکر پی ٹی آئی کی 2 سے 3 سیٹیں چھیننے کی پوزیشن بنا رہے ہیں۔ لیکن اب تحریک عدم اعتمادکی بازگشت گلگت بلتستان کے حلقوں میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ جی بی اسمبلی میں 2 سیٹوں والی پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما پہلے ہی حافظ حفیظ الرحمان کو ہٹانے کی کوششوں میں مصروف تھے مگر صرف اخباروں کی حد تک۔۔۔ تاہم اب “زرداری آپریشن” نے انہیں حوصلہ عطا کیا ہے اور شدومد کے ساتھ تحریک عدم اعتماد لانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔  سوال یہ ہے کہ کیا حفیظ الرحمان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے؟ نمبر گیم کے حساب سے اس سوال کا جواب ہے۔۔ قطعا نہیں۔ مگر سودے بازی، ہارس ٹریڈنگ، فلور کراسنگ، بکاو مال بھی تو ایسی اصطلاحیں ہیں جو ہماری پارلیمانی لغت میں عام دستیاب ہیں۔ اگلا سوال:- کون کونسے گھوڑے ہیں جو فلور کراس کر سکتے ہیں؟ گلگت بلتستان اسمبلی کے 33 میں سے 21 ارکان مسلم لگ ن سے تعلق رکھتے ہیں۔ تحریک اسلامی کے 3 اور پیپلز پارٹی کے 2 ممبران ہیں۔ تحریک انصاف ایک، بی این ایف ایک، ایم ڈبلیو ایم ایک اور جے یو آئی بھی ایک ممبر رکھتی ہے جبکہ 2 آزاد امیدوار ہیں۔ یعنی حکومت کے پاس 21 اور اپوزیشن کے پاس 12ووٹ ہیں۔ جبکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے 17 ووٹ درکار ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حافظ حفیظ الرحمان کو وزارت اعلی کی مسند سے ہٹانے کے لئے پہلے اپوزیشن متحد ہو۔ پھر ن لیگ سے 5 ارکان باغی بنائیں۔ جب جا کے یہ تحریک کامیاب ہو سکتی ہے۔ فرض کر لیتے ہیں اپوزیشن متحد ہو گئی۔ کاچو امتیاز سمیت 2 آزاد ارکان بھی مل لئے۔ کپٹن سکندر پی اے سی کی مراعات پر لات مارتے یوئے امجد ایڈوکیٹ کے در پر حاضر ہو گئے۔ مگر ن لیگ سے 5 ارکان کون توڑے گا اور کیسے توڑے گا؟ کچھ لوگوں کی خواہش پر مبنی خبر یہ ہے کہ گورنر کے بیٹے پرنس سلیم (جی بی ایل اے6) اور اہلیہ رانی عتیقہ ( مخصوص نشست) حفیظ الرحمان کے خلاف جائیں گے۔ ایسا ہو بھی گیا تو 3 ووٹ پھر بھی کم ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بلتستان سے کچھ ارکان باغی ہو سکتے ہیں۔۔۔ تو عرض یہ ہے کہ فدا محمد ناشاد سپیکر ہیں۔ سپیکر اسمبلی میں ہونے والی کسی ووٹنگ میں اپنا ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ ہاں اگر حکومت اور اپوزیشن میں ٹائی پڑ جائے تو سپیکر اپنا فیصلہ کن ووٹ کاسٹ کرتا ہے۔ بلتستان سے دوسرے رکن اسمبلی اکبر تابان ہیں۔ سینئر وزیر اکبر تابان نواز شریف سے اپنے دیرینہ کمٹمنٹ کے باعث باغی نہیں ہو سکتے۔ کھرمنگ کے اقبال حسن حفیظ الرحمان کے قریبی وزیر سمجھے جاتے ہیں۔ رہی بات گانچھے کی تو ابراہیم ثنائی تو کسی طور بک نہیں سکتے۔ رکن اسمبلی غلام حسین اور شفیق کے بارے کچھ کہہ نہیں سکتے۔ مخصوص نشست پر منتخب میجر امین کی اصول پسندی یہی بتلاتی ہے کہ وہ بے وفائی نہیں کریں گے۔ لھذا بلتستان سے تو حفیظ الرحمان کو مطمئن ہو جانا چاہئے۔ وزیر اعلی کی جنگ در اصل گورنر سے ہے، یعنی انا کی جنگ، نمود و نمائش کی جنگ، اختیارات کی جنگ۔ جاتی عمرہ کا زیادہ خوش آمد کون ہو، خوش آمدی کی جنگ۔ سو حفیظ الرحمان کو اگر “زرداری آپریشن” سے اپنی وزارت اعلی کو محفوظ بنانا ہے تو اپنی صفیں سیدھی کریں۔ گورنر سے معاملات تھیک کر لیں۔ بلتستان کے ممبران پر شک نہ کریں۔

تحریر : سکندر علی زرین

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc