کھیل کھیل نہ رہا۔۔

سکردو فٹبال کھیل سکردو عوام کے درمیان نفرت پھیلانے اور سکردو شہر کا امن خراب کرنے کی بہت بڑی سازش ہے۔ فٹبال کھیل کو دنیا بھر امن و محبت اور اخوت و بھائی چارگی کا ہتھیار سمجھا جاتا ہے لیکن سکردو شہر میں فٹبال کھیل کا میدان ہر وقت جنگ کا میدان بنتے دیکھا گیا۔
سکردو شہر جسے امن کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، یہاں کیوں بار بار کھیل کو محبت دشمنی ذریعہ بنا کر سکردو شہر کے لوگوں کے درمیان نفرت اور دشمنی کے درمیان نفرت اور دشمنی کے بیج بوئے جا رھے ہیں؟؟
ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ہار تسلیم کرنے کی ہمت نہیں ہے تو لڑائی جگڑا اور پتھراو کرنے سے بہتر ہے گھر پہ بیٹھ کے کام کاج میں خواتین کا ہاتھ بٹائے ۔ شاہین پولو گراونڈ سکردو میں فتنہ و فساد کا مرکز بن چکا ہے اس کی بنیادی وجہ گراونڈ کا شہر کے قلب میں واقع ہونا ہے لہذا قبل اس کے کہ کوئی بڑا حادثہ رونما ہو جائے اسے فوری طور کہیں اور منتقل کر دینا چاہیے- عجیب رواج ہے کھیلو جیت گیے تو ٹھیک ورنہ پتھراؤ کرو ایک دوسرے پر لاٹھیاں برساؤ سر پھوڑو اور بلتستان کی ادب ، ادب و تمدن اور کلچر کا جنازہ نکال دو-ہمیں فٹبال میچوں کے روایتی رجحان کو تبدیل کرنا ھوگا اور یہ رجحان صرف دونوں ٹیموں کے لیے نہیں بلکہ پورے بلتستان کے لیے شرمناک عمل ہے۔
عرصہ بیت گیا ، کوئی ٹورنامنٹ ایسا نہ دیکھا جس میں لڑائی جھگڑے نہ ہوئے ہوں ۔ ۔ ۔ لاتوں ، مکوں کا استعمال نہ ہوا ہو ، لاٹھی نہ چلی ہو، سر نہ پھٹے ہوں، مٹی نہ اڑی ہو، پتھر نہ برسے ہوں ۔ ۔ خیال آتا ہے کہ ہم فٹ بال کے مقابلوں کی بجائے ، پھتراو کے مقابلے کیوں نہیں کراتے ۔ ؟؟؟ مثلا اس بار ہونا چاہیے تھا ۔ ۔ ۔ بربادی کپ پتھر بازی ٹولامن 2017 ۔ ۔ توتو کلب بمقابلہ میں میں کلب ۔ حیران ھوں ان پتھر برسانے والے سنگ دلوں کے مردہ ضمیری پر جو اتنے جوش کے ساتھ گالییاں بگتے ھوئے پتھر سے وار کرتے ہیں جیسے سامنے موجود لوگ باپ کے قاتل ھو۔
کھیل کے نام پے ہمارے قوم کو جو نقصان ہو رہا ھے۔ وہ ناقابل تلافی ہے۔اگر اتنے لوگ یادگار پے جمع ہو کر پرامن احتجاج کرے تو سکردو روڈ بھی بنے گا بجلی پانی اور دیگر مسائل بھی حل ہوگا۔
انتظامیہ سکردو، علمائے دین اور اساتذہ حضرات سکردو کی امن اور خوش حالی کی بگھڑتی صورتحال کو سازگار بنانے میں اپنی زمہ داری انجام دے۔
تحریر۔اعجاز حسین بلتی

 

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc