عجیب آغوش!!!۔ تحریر: شریف ولی کھرمنگی

سال2014 کے بہار کے مہینے تھے اور ہر طرف پھول کھلے تھے۔ موسم کافی خوشگوار تھا اور لوگ اپنے حقوق کے لیے سرگرم عمل تھے۔ اس وقت ایک دفترہر طرح کی سرگرمیوں کے ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال ہوتا تھا اور اس دفتر میں لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ یہی نماز خانہ، کھانے کی جگہ ،اجلاس کی جگہ، آرام گاہ، مختصر یہ کہ یہی عوام کے اٹھنے، بیٹھنے ،سونے ،جاگنے کا محل تھا۔یہ دفتر ایم ڈبلیو ایم کا ڈویژنل سیکرٹریٹ تھا۔ ہم اسی دفتر کے ایک کمرہ میں بیٹھے گپیں لگا رہے تھے کہ ایک جوان جلدی میں ہمارے کمرے میں داخل ہوا اورکہا کہ فورا کمرہ خالی کریں کوئی سیدہ آرہی ہیں۔ سیڑھیوں اور راستوں سے بھی لوگوں کو ہٹایا گیا اورہم نکل کر برابر والے کمرہ میں چلے گئے۔ایک ضعیفہ سیدہ محترمہ ساتھ والے کمرے میں چلی گئی اور اپنے لخت جگر سے کوئی دو گھنٹے باتیں کرنے کے بعد واپس گئی۔ یہ ایام گندم سبسڈی کے خاتمے کی تحریک کے تھے اور وہ سید زادی غریب عوام کے دلوں کی دھڑکن ،مرد آہن آغا علی رضوی کی والدہ محترمہ تھیں۔ ہمیں دھچکا سا لگا کہ ٹیکس کے خلاف آج دسواں روز ہے آغا علی رضوی کی گرفتاری کی خبریں بھی گردش کر رہی تھی،اور عورتیں کمزور ہوتی ہیں۔۔۔۔ فوری فوری ہم نے ہر پاکستانی کی طرح تبصرہ شروع کیا۔۔ ۔ اس تبصرے اور تجزے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افلاطو ن اور سقراط بھی شامل تھے، مختصر تبادلہ خیال کے بعد ہم اس نتیجے پہ پہنچ گئے کہ ٹیکس کی تحریک کی بساط الٹ گئی ہے کیوں کہ ان کی والدہ ماجدہ ان کو اس تحریک سے واپس بلانے کے لیے آئی ہیں۔ طرح طرح کے وسوسے ، خدشے اور سوئے ظن میں مبتلا ہوگئے اورہم نے سبسڈی پر فاتحہ پڑھ لی۔ اسی شام کی آغا کی یادگار پہ تقریر کے ہر جملے پر دل دھڑکتا رہا اور اپنے تبصرے کا نتیجہ سننے کے لیے بیتاب رہا اور آغا صاحب کی تقریر ہماری امیدوں اور توقعات پر پانی بہاگئی ۔ انہوں نے نہ کوئی ایسا اشارہ دیا اور نہ ہی انکے لہجے میں کوئی تھکن یا حوصلے میں کمزوری نظر آئی۔ رات کو ان کی مادر گرامی کی آمد کے بارے میں تفتیش شروع کی تو انکے ہی کسی قریبی جوان نے کہا کہ آغا صاحب دس روز سے ایک گھنٹے کے لیے بھی گھر نہیں گئے تھے چنانچہ انکی والدہ انکی دیدار کرنے اور انکی کامیابی کے دعا کرنے آئی تھی۔ اس لمحے میری آنکھوں میں آنسو آگئے بعد میں معلوم ہوا کہ ٹیکس کی تحریک کے خاتمے کے بعد ہی یعنی چودہ روز بعد گھر جانے والا دھرنے کا واحد فرد ہے۔ ورنہ ہر کوئی فارغ اوقات میں وہاں بیٹھ جاتے تھے۔ اس مرد مجاہد کی تربیت میں یقیناًانکی مادر گرامی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے ۔آج خبر آئی کہ آغا علی رضوی کی والدہ محترمہ اس دنیا سے رحلت کرگئی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس وقت آغا علی رضوی سفر زیارت میں نجف اشرف میں موجود ہے۔ اپنے آباء کی طرح آغا صاحب جو کہ صبر کا پیکر نے ماں کی وفات کی المناک خبرعالم مسافرت میں سنی ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہے ۔ خدا لواحقین بلخصوص آغا علی رضوی کو صبر اور حوصلہ عطا فرما۔مزید یہ کہ انکی مادر گرامی پر سلام ہو کہ انہوں نے اپنی نیک آغوش سے غریبوں، بیواوں، مظلوموں، مسکینوں اور کمزوروں کے سہارے کے لیے آغا علی رضوی جیسے مجاہد کو جنم دیا اور یقیناًعجیب نورانی آغوش تھی وہ آغوش۔ گلگت بلتستان کی تمام ماوں کے لیے آغا علی کی مرحومہ والدہ نمونہ اور انکی آغوش ماوں کے لیے رشک آمیز ہیں۔ شاید جی بی کی مائیں صدیوں تک آغا علی رضوی کی طرح کی بے لوث، مخلص، نڈر، بابصیرت، بہادر ، بے لاک،انتھک اورمیدان عمل کے شہسوار پیدا کرسکیں۔ تمام قارئین سے سورہ فاتحہ کی التماس ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc