گلگت بلتستان میں قصائی کیلئے بیمار بھنسیوں کی سپلائی کا انکشاف۔

سکردو( بیورو رپورٹ) پنجاب میں بھینس سے ذیادہ دودھ نکالنے کیلئے ویکسن کا استعمال اور اُس وجہ سے بھینس کی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات اوراُس بھینس کا گوشت کھانے کے بعد پیدا ہونے والی بیماریوں کا چرچہ میڈیا پر آچُکی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں اس حوالے سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔اس وقت گلگت بلتستان میں مختلف شہروں سے ذیادہ انجکشن لگانے کی وجہ سے ناکارہ اور بیمار ہونے والے بھینسوں کو قصائی کیلئے سپلائی کرنے کی خبریں ہیں لیکن اس حوالے سے ذمہ دارے کہیں نظر نہیں آرہا۔سکردو شہر میںہمارے نمائندے نے کئی قصائیوں سے اس سلسلے میں خصوصی طور پر بات کیا تو اُنکا بھی یہی کہنا تھا کہ پنجاب سے اس قسم کی بھینسیں لائی جاتی ہے لیکن اس میں ہمارا قصور نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس سلسلے میں کو روکنے کیلئے قانونی کاروائی کریں۔ گلگت بلتستان کے عوام گوشت تو گوشت اُجڑیاں بھی بڑے شوق سے کھاتے ہیں جو امراض قلب ،کینسر اور ہپیٹائٹس کی بیماری کی اصل وجہ ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں نامعلوم بیماریوں کی وجہ سے شرح اموات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جسکی بنیادی وجہ غیرمعیاری مواد غذاد اس بیمار بھنیسوں کی گوشت کا استعمال بتایا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان کے کسی بھی اضلاع میں اس حوالے جدید سائنٹفیک طریقے سے انسپکشن کیلئے لیبارٹری موجود ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ عوام کوpain killerگولیاں کھلا کر بیماری کی جڑوں کا مزید مضبوط کیا جاتا ہے ۔ حکومت چاہئے کہ اس خطرناک مسلے کی طرف توجہ دیں اور بھینسوں کی مکمل میڈیکل کے بعد قصائی کی اجازت دیں اور اُجڑیوں کی فروخت پر پابندی لگائیں۔ ڈسڑک ہسپتال سکردو کے ایک ڈاکٹر سے جب ہم نے اس حوالے پوچھا تو اُنکا بھی یہی کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے لیکن آج پہلی بار کسی میڈیا والے نے یہ سوال کیا جوکہ تعجب کی بات ہے ورنہ ہمارے ہاں اخبارات کو بیان چھاپنے سے فرصت نہیں ملتے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc