یایسن کا مرکزاوردفاعی جنگیں۔ تحریر: شکورخان ایڈووکیٹ

غیرملکی لشکر قتل و غارت گری سے گاؤں کےگاؤں اجاڑتا ہوا ملک یاسن پہنچا جس کی اطلاع پاتے ہی یاسن کی آبادی دارلتخت طاؤس میں جمع ہوئیں۔ عورتیں بچے طاؤس کے بحری خان (بحری کھن) میں محصور ہوگئےاور لشکری جوانوں نےجنگی سپہ سالاروں کی معیت میں دشمن کےمقابلے کے لیےکھلے میدان میں صف بندی شروع کردیں۔ غنیم کا لشکر راہ میں آئی آبادیاں لوٹتا، تاخت و تاراج کرتا دارلحکومت طاؤس آپہنچا۔ جنگ کےلیےصفےبچھ گئیں۔نقارہ جنگ بجا، زمانے کےدستور کےمطابق دشمن کےلشکر کا نامی گرامی پہلوان اہل طاؤس کوللکارتا میدان جنگ کےمرکز میں آکھڑا ہوا اور صدا لگائی: تم میں سے کون ہے جو مجھ سےمقابلے کی جرعت کرے گا؟ ہے کوئی توسامنے آئے! للکار کےجواب میں اونی لباس اور پوستین خوش گاؤ Yak skinمیں ملبوس شخص اہل طاؤس کےلشکر میں سےنمودار ہوا اور غراتا، دندناتا للکارنے والےکےسامنے جا کھڑا ہوا، نظروں نظروں میں اسےتولا اور مبارزد کی دعوت دی۔ مقابلہ شروع ہوتےہی حملہ آور لشکر کا سورما پوستین پوش کے شکنجے میں تھا، جس نے اسےزمین پر پٹخا، کنپٹی پراتنی شدت کےساتھ ضربیں لگائیں کہ وہ بےحس و حرکت ہوگیا، وہ مرچکا تھا۔ دوبدو لڑائی شروع ہوگئ، طرفین کے لاتعداد جوان ہلاک و زخمی ہوئے، سورج ڈھلنے سےقبل دفائی لشکر کا پلہ بھاری ہوچکا تھا، دشمن کا لشکرفرار ہونا شروع ہوا، جنگ بحری کھن میں اہل طاؤس نے اپنےملک کا کامیابی سےدفاع کیا وہ گمنام ہیرو جو طبل جنگ بجتےہی میدان میں کودا، قوی ہیکل چیلنجرکونہ صرف شکست دی بلکہ موقعےپرہلاک کردیا جس کےنتیجےمیں اہل طاؤس کوشروع ہی سےنفسیاتی برتری حاصل ہوگئ تھی ، وہ قرقلتی کا رہنےوالا تھا، کہتےہیں کہ اس نےکھبی قرقلتی پل پرقدم نہیں رکھا، وہ آتےجاتے ہمیشہ تنگ مقام سے ندی پھلانگتا تھا، کانوں سےبہرا تھا اس لیےباتیں کم کرتا اورکم سنتا تھا، زندگی بھرناقابل شکست رہا، اسےموت نےشکست دی، اپنےزمانے کےاس نامی گرامی پہلوان کوآنےوالی نسل نے گمنامی میں دھکیل دیا
ہم ازالہ نہ کرسکیں جن کا
لوگ ایسےبھی ہم نےکھوئےہیں
ہر شخص کی خواہش ہوتی ہےکہ موت کے بعد بھی اسےیاد رکھا جائے، اس عام خواہش کےبرعکس چنگیزخان نےکہا تھا: خبردار، مرنےکےبعد مجھےیاد نہ رکھا جائے، اس نصیحت کی تعمیل میں منگول قبائل نے ہراس شخص کا قتل عام کیا جوچنگیزخان کی موت اوراس کی آخری آرام گاہ کےبارے ذرا بھی ‏‏‏‏‏‏‏علم رکھتا تھا۔ اسی طرح اہل طاؤس کی کشورکشائی اورفتوحات کا سرخیل جو کھبی میدان جنگ میں کسی کے زیردست نہ آیا ہمیشہ زبردست رہا، اسی کی اپنی وصیت کےمطابق اس کا آخری آرام گاہ مرجع خلائق نہ بنایا گیا۔ وہ قرقلتی کےشمالی جانب پہاڑوں پر پھندس نامی بلندی پر واقع گمنام گرمائی چراگاہ میں ابدی نیند سو رہا ہے۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
طاؤس قدیم آباد یاسن کا مرکزتھا، سیلاب نے جب ویران کیا تو ایک جھونپڑی اوراخروٹ کا ایک ہی درخت بچ سکا وہ اب بھی موجود ہے۔ طاؤس صدیوں سنسان رہا۔ 1926 کےبعد نئ آبادکاری ‎شروع ہوئی اور 1975 تک زمینوں کا مفت عوامی تقسیم جاری رہا۔طاؤس بحری کھن سے قبل تھمرائی بھرکولھتی یاسن کا پائہ تخت رہا ہے۔ قلعہ تھمرائی سےملحقہ علاقہ جات بھرکولھتی، ہویلتی و سندھی دریاوں کے کناروں تک سرسبز و شاداب آباد تھے۔ دریائےسلگان وتھوئی کےکنارےگھنےجنگل تھے، یہ جنگل بھیڑیوں اور چیتون کا مسکن ہوا کرتے تھے جہاں سے یہ درندے نکل کرمال مویشی اوربھیڑبکریوں کی چیرپھاڑ کرتےرہتےتھے لیکن زندگی خوشحال تھی۔ اسی دوران پڑوسی ملک کےتھم (راجہ) نےاپنے ایلیچیوں کےذریعے یاسن کے بعض مقامی قبائل کےساتھ گھڑجوڑ پیدا کرلیا اور ایک شاطرکےمشورے پرتھمرائی کے تھم (راجہ) کو آدم خور Cannibal مشہورکردیا۔ یوں مقامی اکثریتی آبادی میں تھم کےخلاف نفرت ابھارنےمیں کامیاب ہوا۔ حالات موافق پاتےہی مقامی غداروں کی مدد سےجنگ لڑی گئ، مقامی تھم کو شکست ہوئی اور وہ دوران حراست خاندان سمیت قتل کردیا گیا۔ تھمرائی کا تھم آدم خورCannibal نہ تھا اور نہ گلگت کا مشہور راجہ اگورتھم کا پوتا شری بگورتھم کا بیٹا شیری بدت آدم خور تھا۔ آدم خوری کا الزام اپنے زمانےکا مشہور سیاسی حربہ تھا جومخالف کےخلاف رائے عامہ ہموارکرکے نفرت پیدا کرنےکے لیے لگایا جاتا تھا تاکہ اس کے خلاف جنگ کے دوران زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کی جاسکے، جس طرح آجکل کسی کےخلاف بھی نفرت ابھارنے کےلیےتوہین رسالت، توہین مذہب اور ‘غدار’ نامی حربے استعمال کیےجاتےہیں۔ تھمرائی کا تھم بمہ خاندان قتل ہونے کے بعد قلعےکو آگ لگادی گئ تھی جو بعد کےزمانےمیں دوبارہ آباد نہ ہوسکا۔ 1905 میں قلعےکی حدود میں کھدائی کےدوران قوم آبادیں (ناصرے شاخ) کےشرف نامی شخص کوقیمتی زیورات اورسلیمانی موتیان مل گئی تھیں جنہیں مہترجو شاہ عبدالرحمن خان گورنر یاسن کودے کرمعدوم تھمرائی قلعےکی شمالی جانب واقع وسعی بنجراراضی حاصل کی جس پراس کی نسل کے درجن بھرسےزیادہ گھرانے آج بھی آباد ہیں۔ ڈوڈول تھم بھرکولھتی کےموجودہ شوارن (پولوگراونڈ) کےقریب واقع قدیم قلعہ میں رہائش رکھتا تھا جس نے اپنی تھانگوش (راجگی) کےدوران راقم کےقبیلے پر شب خون مارا تھا۔ ڈوڈول تھم کےذوال کےبعد اس کا قلعہ بھی زمانےکےدست برد کا شکار ہوکرمعدوم ہوگیا۔
ٹیلی تھم (راجہ) عنان حکومت سنبھالنےکےبعد یاسن نوح کےقدیم قلعےمیں قیام پزیر ہوا۔ ٹیلی تھم اور ببلی گس(راجہ اور رانی)کے حوالےسے بروشسکی زبان کےلوک گیت اورگانےآج بھی مقبول ہیں۔گوہرآمان ڈورکھن یاسن، مڈوری کھن سندھی اور بھرکولھتی کےتیسرےکھن جوکہ موجودہ گورنمنٹ پرائمیری سکول اورجماعت خانہ والی زمین پرواقع تھا، میں حسب ضرورت رہائش پزیر رہا۔ 1860میں گوہرآمان فوت ہوا تواس کا ولی عہد ملک آمان الماروف متم تھم (سانولا راجہ) نے عنان حکومت سنبھالا جو سانولےرنگ گٹھے جسم اورمیانہ قد آدمی تھا۔ ملک آمان مستقلا ڈورکھن میں قیام پزیر ہوا اس نےسندھی اوربھرکوھلتی کےقلعہ جات کا بھولےسے بھی دورہ نہ کیا کیونکہ سلگان کےبڑےقبیلےاس کےشدید مخالف تھےاسےمعزول کرکےمیرولی کوتھانگوش (راجگی) دلانا چاہتےتھےجبکہ تھوئی اوریاسن خاص کےقبیلوں کی حمایت اسے حاصل تھی۔ 1863 میں
مہاراجہ کشمیرکی فوج ملک امان کےلشکرکو شکست دینےکی نیت سے پونیال سےآگےبڑھ رہی تھی تویاسن میں ملک امان کےحمایتی قبائل کا بیشتر حصہ عورتون بچوں سمیت مڈوری میں قلعہ بند ہوگیا اورملک آمان خود بجائےجنگ لڑنے براستہ کوہ غذر تنگیر کی جانب فرار ہوا۔ درازقد پنجابیوں اورخونخوار ڈوگروں نے مڈوری قلعہ میں نہیتے مردوں سمیت عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا۔سانحہ مڈوری کےساتھ ہی ملک امان کی تھانگوش (راجگی) کا سورج ہمیشہ کےلیےغروب ہوا۔
1863 میں عوام سلگان کی زبردست حمایت سے میرولی یاسن و کوہ غذر کا تھم (راجہ) بنا، (یاد رہےکہ ان دنوں آزسندھی تا درکوت سلگان کہلاتا تھا)۔ میرولی نے برکولھتی قلعہ میں مستقل رہائش اختیارکی اور1868 میں ہندور میں شوارن (پولوگراونڈ) تعیر کی، 1870 میں درکوت فرنگ بر کےمقام پر رائل جیوگرافیکل سوسائٹی لندن کے ممبرجارج ہیوارڈ کا قتل ہوا تواس قتل کا الزام میرولی کے سر دھرلیا گیا۔ سرکارانگلیشیہ کا پریشر اور مقامی قبائل کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے میرولی کےلیےنہ صرف راجگی سنبھالنا مشکل ہوا بلکہ جان کا خطرہ لمحہ بہ لمحہ بڑھنے لگا،1871 کی ایک سرد رات معمولی توشہ سفر کےساتھ میرولی راجگی اور وطن دونوں کو الودع کہہ کر بھرکولھتی کے قلعہ سے روانہ ہوا تو اس کےساتھ صرف گھر کی عورتیں، بچےاور راقم کے پڑدادے تھے۔ یہ لوگ درکوت بارڈرسے ہوکر بروغل وہاں سے واخآن پہنچے۔ افغانستان میں جلاوطنی کی حالت میں 1873 تک دو سال مقیم رہیں۔افغانستان سے واپسی پر چترال کارگن کےمقام پرمیرولی اپنوں کےبھیجے جلادوں کے ہاتھوں خون میں نہلا دیا گیا ۔میرولی دورکےاختتام کے بعد پلاون بخدور (ایم۔این۔اے جہانذیب کے پڑدادا) کو راجگی ملی تواس نے ڈورکھن یاسن خاص میں مستقل قیام کیا کیونکہ مڈوری قلعہ ڈوگروں کے یلغار کےدوران تباہ ہوچکا تھا اور بھرکولھتی قلعہ میرولی کی جلاوطنی کے دوران مقامی قبائل اکھاڑ کے لے گئےتھے۔1882 میں مہترامان ملک مہترچترال کا فرزند سردارنظام الملک کوہ غذر، مستوج اور یاسن کا تھم بنا تو اس نے ڈورکھن میں رہائش رکھی، نظام ملک 1893 میں چترال کےنالے میں شکار کھیلنےکے دوران کیلاش نوجوان کے ہاتھوں مارا گیا۔ بعد کےدوسال شورش وہنگاموں کی نذر ہوگئے کیونکہ انگریزچترال سمیت پورے گلگت بلتستان کو اپنی عملداری میں لینا چاہتےتھے جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہوئے اور یوں صدیوں سے قائم خطےکی خودمختار مملکتیں 1895 میں اپنےاختتام کو پہنچیں ۔1895 میں انگریزوں نے 18 سالہ شاہ عبدالرحمن خان کے لیے سالانہ وظیفہ مقرر کرکےگورنر کوہ غذر و یاسن کا عہدہ اسے سونپ دیا یعنی خودمختاری کےایک عہد کا اختتام اورانگریزوں کی نوکری کا آغاز ہوا۔ گورنری کا نظام یاسن میں 70 سال قائم رہنےکے بعد بالاخر راجہ محبوب ولی خان کی وفات کےساتھ ہی 1966 میں اپنےاختتام کوپہنچا۔بھرکولھتی میں چوتھا قلعہ “قلمقےکھن” عین آبادیوں کےبیچ ٹیلہ نما چٹان کے اوپر واقع ہے۔ اس کی دیواروں کے آثار اورشمالی برجی آج بھی صحیح سلامت ہے۔ کہا جاتا ہےکہ قلمقی لشکر نے حملہ کیا تومقامی آبادی قلعہ بند ہوکرمدافعت کرنے لگی۔ قلمق قلعےمیں داخلےکی ہزار جتن کےبعد بھی بری طرح ناکام ہوئے ان کا محاصرہ طویل ہوتا گیا تو انہوں نے کھوج لگانا شروع کیا کہ محصورین کےلیے زمین دوز پانی کس مقام سےجاری ہے۔ لشکر نےگھوڑوں کو سیم زدہ نمکین پانی پلایا، گھوڑے پیاس سے بیتاب ہوئےتو انہیں مخصوص حدود میں باندھ کر ان کی نگرانی شروع کردی گئ ، ایک گھوڑا اپنا سم زمیں پہ مار کر ہنہنانے لگا اسی مقام پر کھدائی کی گئ تو پانی کا کنکشن دریافت ہوا، محصورین حیرت انگیزطور پر جانوروں کےسینگ زیرزمین ایک دوسرے سےجوڑ کرپانی قلعےکےاندرلےگئےتھے۔ قلمق نے سینگوں کا کنکشن اکھاڑ کرپانی منقطع کردیا جس کے چند دن بعد ہی بھوکےپیاسے بےبس محصورین نےقلعےکےدروازے کھول دیے، مختصرسےمقابلےکےبعد نڈحال محصورین شکست سےدوچارہوئے، قلمق لشکرنےجوانوں کو تہہ تیغ کیا باقیوں کوغلام بنالیا اورقلعےکو مرکزبنا کر وہاں سے خطے پرحکمرانی شروع کردیں۔ چند سالوں بعد ہی ایک فیصلہ کن معرکے کےبعد مقامیوں نےقلمقوں کوشکست دیں، زیادہ ترہلاک ہوئےاورباقی ماندہ جانیں بچا کراپنےآبائی وطن ازبکستان (وسط ایشیا) لوٹ گئے۔یاسن کا کوئی بڑا گاؤں ایسا نہیں جو اپنے دور میں ملک یاسن کا مرکز نہ رہا ہو یا اس میں قدیم قلعے اور ان کےآثار موجود نہ ہوں۔ آز قدیم تا 1895 مالیہ، حشمت، قش ( مختلف اقسام کےٹیکس) عوامی سہولیات کےپیش نظرمتعدد قلعوں میں الگ الگ اکھٹے کئےجاتےتھے، غلہ، بکری وگھی کی شکل میں لگان نزدیکی قلعہ میں جمع ہوتا جہاں لشکری، سپہ سلار و دیگر کل وقتی ملازم تصرف میں لاتےتھے۔ 1895 کےبعد ٹیکس پالیسی انگریزوں کےہاتھ میں چلی گئ جس کےتحت رائج الوقت ٹیکس ڈورکھن یاسن کے علاوہ باقائدگی سےگوپس اور مرکزی کمسریٹ (سول سپلائی گلگت) بھیجا جانےلگا۔یاسن کے ہر گاؤں میں وقت کے ساتھ قلعےتعمیر ہوتے، مسمار ہوتے، گرتے، جلتے رہے اور یہ سلسلہ ہزاروں سالوں سے جاری رہ کر1895 میں کہیں جا کے رک گیا جس کے بعد پولیٹیکل ایجنسی کے ماتحت تعینات تمام گورنرز نے یاسن ڈورکھن میں اس لیےمستقل قیام اختیارکیا کہ ڈورکھن کےعلاوہ کوئی اور قلعہ صحیح سالم نہیں بچا تھا اورجنگیں بھی اپنے اختتام کو پہنچ گئ تھیں جس کی وجہ سےمزید کسی حصار، برجی یا قلعے کی تعمیر کی ضرورت نہ رہی۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc