گلگت بلتستان حکومتی کابینہ میں اعزازی وزیر کے بعد لامحدود اختیارات والے (ٹپی) کا دھوم۔

گلگت (ڈسٹرک رپورٹر) گلگت بلتستان میں نون لیگ کی حکومت نے ویسے تو مشیروں اور کوارڈنیٹرز کی انتخاب میں پاکستان کے چار آئینی صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ملکی تاریخی میں پہلی بار حفیظ الرحمن کی کابینہ میں ایک غیرمنتخب شخص کو ذاتی پسندیدگی کی بنیاد پر وزیر کے برابر عہدہ دیا ہوا ہے جو دنیا بھر میں سرکاری خرچے پر وزیر اعلی کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کے اراکین اسمبلی اپنے ہی وزیر اعلی سے نالاں نظر آتا ہے اور تحریک عدم اعتماد کی باتیں زور پکڑتی جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلکل اسی طرح وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن کا بھائی عطاالرحمن بھی اہم سرکاری میٹنگوں میں باقاعدہ شریک ہوتے ہیں اور عوامی منتخب نمائندوں اور سرکاری افیسرز پر فیصلے مسلط کرتے ہیں۔ اہم سرکاری میٹنگوں کے علاوہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعلی ہاوس میں اُن کیلئے خصوصی کمرہ بھی الاٹ کیا ہوا ہے جہاں نوکری کی لین دین اور پوسٹنگ وغیرہ کے معاملات اُن کی مرضی سے طے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان میں اس وقت ایک عجیب سیاسی کشمکش سے دوچار ہیں یہاں جہوریت کے نام پر ایک طرف میر فیملی اپنی مرضے کے فیصلے کرواتے ہیں دوسری طرف وزیر اعلی نے عہدے کو بادشاہت سمجھا ہوا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc