انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان تجارت میں تیزی آگئی، 20 پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر تجارت محمد پرویز ملک نے کہاہے کہ انڈونیشیا نے مزید 20 پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم کردی ہے۔ محمد پرویز ملک نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات پر ڈیوٹی ختم ہونا انڈونیشیا سے یک طرفہ مراعات کا حصول پاکستان کی کامیابی ہے، وزارت تجارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے تاہم جی ایس پی پلس اسکیم کے جائزے کو کامیاب بنانے کے لیے مل کر محنت کر رہے ہیں۔سابق چیف سکرٹیری گلگت بلتستان موجودہ سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈاگا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت نے کہاکہ برآمدات میں کمی کو روکنے کے لیے موجودہ حکومت نے برسراقتدار آ کر حکمت عملی تبدیل کی جس سے مثبت نتائج ظاہر ہو رہے ہیں اوربرآمدات مثبت سمت میں گامزن ہیں، حکومت آزادتجارت کے معاہدے کامیاب بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور نئی منڈیاں تلاش کی جا رہی ہیں، انڈونیشیا میں ترجیحی تجارتی معاہدے میں مزید رعایتیں ملی ہیں۔محمد یونس ڈاگا نے کہاکہ مارکیٹ تک رسائی اہمیت کی حامل ہے، انڈونیشیا کی حکومت کو بتایا کہ ترجیحی تجارتی معاہدہ ہمارے مفاد میں نہیں اور اس سلسلے میں ہمیں کامیابی ملی ہے، چین پاکستان ایف ٹی اے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایاکہ انڈونیشیا نے آم پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی، ٹوٹا چاول پر 450 روپے فی کلو ڈیوٹی، ایتھائل الکوحل پر 30فیصد ڈیوٹی کے ساتھ تمباکو، ڈینم، وون فیبرک، ٹی شرٹس، جرسیوں، مردانہ ٹراؤزر، بیڈلینن سمیت 20اشیا پر ڈیوٹی ختم کردی ہے، پہلے سال ڈینم کی برآمدات 100 ڈالر تک بڑھائیں گے۔ ایک سوال پر محمد پرویز ملک نے بتایاکہ انڈونیشیا کی جانب سے ڈیوٹی ختم کرنے کی منظوری ہو چکی ہے تاہم اس سلسلے میں معاہدے پر انڈونیشیا کے صدر دورہ پاکستان کے دوران 26 تاریخ کو دستخط کریں گے۔ ایک اور سوال پر سیکریٹری تجارت نے بتایاکہ پاکستان نے انڈونیشیاکو کوئی سہولت یا مراعات نہیں دینی، ہم انڈونیشیا سے زیادہ تر پام آئل درآمد کرتے ہیں، دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تجارت 2 ارب 44کروڑ ڈالر ہے۔ وزیر تجارت نے بتایاکہ فروری میں چین کے ساتھ ایف ٹی اے پر نظرثانی کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc