بلوچستان میں کامیاب آپریشن کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے کے پی کے،گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر میں سیاسی آپریشن کیلئے تیاریاں شروع کردی۔

کراچی (تجزیاتی رپورٹ:عبدالجبارناصر )بلوچستان میں کامیاب آپریشن کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کے خیبر پختونخوا ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سیاسی آپریشن (حکومتوں کی تبدیلی)کے حوالے سے باز گشت زوروں پر ہے،بلوچستان کے بعد خیبر پختو نخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں منتخب حکومتوں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکوں کے پس پردہ پاکستان کی سب سے بڑی جمہوری جماعت ہونے کی دعویدار پیپلز پارٹی کی قیادت کا نام آرہا ہے، جمعیت علماء اسلام ( ف ) کے سر براہ مولانا فضل الرحمن کے اعزاز میں آصف علی زرداری کی دعوت کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جارہا ہے جبکہ اطلاعات ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے خیبر پختونخوامیں حکومت کی تبدیلی کی کوشش سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض قوتوں نے سابق صدر آصف علی زرداری کو اس بات کا اشارہ دیاہے کہ اگر وہ سیاسی رابطوں یا کسی اور ذریعے سے خیبر پختونخوا،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں عدم اعتماد کی تحریک لانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں ’’لاجسٹک سپورٹ‘‘ فراہم کی جائے گی تاہم مالی اخراجات خود برداشت کرنے ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انہی شرائط پر مہم بلوچستان میں شروع کی گئی تھی جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہے۔ن لیگی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے عمل کے دوران2سے6 ارب روپے کے لین دین کی بازگشت بھی زبان زد عام ہے اور بلوچستان میں حقیقی سرمایہ کاری آصف علی زرداری نے کی اور اس وقت عملاََ دو صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔جمعیت علماء اسلام (ف)کے ذرائع کے مطابق گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن کی آصف علی زرداری سے ملاقات دراصل آصف علی زرداری کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے اعزاز میں دی گئی دعوت تھی ۔اس ملاقات میں مختلف سیاسی امور پر تبادلہ خیال ہوا اور خیبر پختونخوا میں ممکنہ سیاسی تبدیلی کے حوالے سے بات چیت بھی ہوئی تاہم مولانا فضل الرحمن نے عدم اعتماد یا حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے کسی بھی مہم جوئی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس سے تحریک انصاف قوم کے سامنے مظلوم بن جائے گی جبکہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت کے خاتمے میں تقریباََِ 4 ماہ باقی ہیں۔ایم ایم اے کے اہم رہنماء کے مطابق ملاقات میں حکومت کی تبدیلی سے زیادہ سینیٹ کے انتخابات میں خیبر پختونخوا سے زیادہ سے زیادہ نشستوں کے حصول پر مشاورت ہوئی ہے اور کوشش ہے کہ اس بار خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو 5سے زائد نشستیں نہیں لینے دی جائیں۔ دوسری پیپلز پارٹی کے سر براہ آصف علی زرداری خیبر پختونخوامیں تبدیلی کے لئے’’ بحالت مجبوری‘‘ سرگرم ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کوشش کی جائے تو با آسانی حکومت کی تبدیلی ممکن ہے تاہم اس کے لئے ن لیگ اور جمعیت علماء اسلام کے 36 ارکان کو راضی کرنا ہوگا۔اس وقت124رکنی ایوان میں تحریک انصاف61 ارکانہیں، لیکن 2 درجن سے زائدارکان کے بارے میں دعویٰ کای جارہا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ اور پارٹی کی پالیسیوں سے ناراض ہیں اور اختلاف کے لئے موقع کی تلاش میں ہیں جبکہ آفتاب شیر پاؤ کی قومی وطن پارٹی کے 10ارکان بھی پہلے سے ناراض ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے 5، پیپلزپارٹی کے 6، جماعت اسلامی کے 7اور دو آزاد ارکا ہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے رکن جاوید حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ20 سے 25 دن میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے خلاف اپوزیشن اور ن لیگ کے 20 ارکان عدم اعتماد تحریک پیش کر نے کے لئے تیار ہیں۔اس طرح کی باز گشت گزشتہ ایک ماہ سے ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی’’ لاجسٹک سپورٹ‘‘ کوئی اور فراہم کرنے کے لئے تیار ہے جبکہ سر مایہ کاری کے لئے پیپلز پارٹی کا پلیٹ فارم پیش کیا جارہا ہے۔پیپلز پارٹی کے رکن جاوید حسین کا دعویٰ اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔گلگت بلتستان کی 33 رکنی اسمبلی میں ن لیگ کے ارکان کی تعداد 24 ہے جبکہ سادہ اکثریت کے لئے 17 ارکان کی حمایت درکار ہے بظاہر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کافی مشکل عمل ہے تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے مسلم لیگ ( ن) کے اندر وزیر اعلیٰ کے خلاف ایک مخصوص گروپ مخصوص سوچ کے ساتھ سر گرم ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس گروپ کو کہیں سے’’ لاجسٹک اور مالی سپورٹ‘‘ مل جائے تو یہ گروپ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے میں دیر نہیں کرے گا۔ اسی طرح کی اطلاعات آزاد کشمیر کے بار میں بھی ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ ان تمام سرگرمیوں اور ہارس ٹریڈنگ کے پس پردہ پاکستان میں سب سے مضبوط جمہوری پارٹی ہونے کے دعویدار پیپلز پارٹی کی قیادت کا نام آرہا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc