محکمہ تعلیم بلتستان کی تا حیات ویٹنگ لسٹ کی عجیب پالیسی۔ تحریر: سکندر علی زرین

گلگت بلتستان کے محکمہ تعلیم کے تحت 30 ستمبر 2016 کو تقریبا 750 اساتذہ بھرتے ہوئے۔ یہاں کی تاریخ میں پہلی بار شفاف اور مناسب طریقہ کار کے تحت میرٹ پر اساتذہ بھرتی کئے گئے۔ این ٹی ایس کے تحت ٹیسٹ لئے گئے۔ تحریری ٹیسٹ، انٹرویو اور تعلیمی اسناد کے علحدہ علحدہ نمبر مختص کئے گئے۔ یوں پہلی تمام اضلاع میں میرٹ پر پڑھے لکھے اور اہل افراد استاد کے منصب جلیلہ ہر فائز ہو سکے۔ محکمہ تعلیم نے30 ستمبر 2016 کو ٹیسٹ اور پینل انٹرویو کے بعد صوبے کے تمام اضلاع اور یونین کونسلز پر کولیفائی کرنے والے اساتذہ کی فہرست جاری کی۔ ساتھ ہی ساتھ ویٹنگ لسٹ پر موجود امیدواروں کی فہرست بھی دی گئی۔ ویٹنگ لسٹ سے مراد اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ متعقلہ سرکل (ضلع، یو سی وغیرہ) کی کسی ایک یا چند نشستوں پر کامیاب امیدواروں میں سے ایک یا چند ایک، کسی بھی وجہ سے اپنی حاصل کردہ سیٹ پر براجمان نہیں ہوتے تو ان خالی شدہ سیٹوں کو ویٹنگ لسٹ پر موجود امیدواروں کے ذریعے پر کیا جاتا ہے۔ مگر یہ ویٹنگ لسٹ سدا بہار نہیں ہوتی۔ اس کی ایک مدت ہوتی ہے جس کے بعد یہ فہرست موثر و قابل عمل نہیں رہتی۔ عموما سرکاری اداروں میں بھرتیوں کے باب میں ویٹنگ لسٹ کے قابل عمل ہونے کا دورانیہ 3 ماہ کا ہوتا ہے، تاہم کچھ ادارے 6 مہینے تک ویٹنگ لسٹ کو قابل قبول و عمل گردانتے ہیں۔ اس کے بعد ویٹنگ لسٹ کی وقعت نہیں رہتی، نہ ہی اس لسٹ پر موجود امیدوار کوئی دعوی کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد متعلقہ محکمے میں کوئی اسامی تخلیق یا خالی ہوتی ہے تو از سر نو ٹیسٹ، انٹریو کے ذریعے بھرتیاں کی جاتی ہیں۔ یہ ایک منطقی اور مناسب طریقہ کار بھی ہے۔
تاہم محکمہ تعلیم بلتستان نے انوکھی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ 30 ستمبر 2016 کو جاری ویٹنگ لسٹ کو آج بھی سنبھال رکھا ہے۔ بلتستان کے چاروں اضلاع میں 2017 میں سینکڑوں اساتذہ مدت ملازمت کی تکمیل کے بعد ریٹائرڈ ہو چکے۔ 2018 کے پہلے 3 سے 4 ماہ میں بھی درجنوں اساتذہ ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ جبکہ کچھ نئے اسکول کھل جانے سے ٹیچر کی نئی اسامیاں بھی تخلیق ہوئی ہیں۔دوسری جانب محکمہ تعلیم بلتستان مزکورہ اسامیوں کو مشتہر کرتے ہوئے ٹیسٹ، انٹرویو لینے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔ ان اسامیوں ہر 2016 کی گھسی پٹی ویٹنگ لسٹ پر موجود امیدواروں کو ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل پچھلے ڈیڈھ سال سے جاری و ساری ہے۔ ہر ضلعے اور یونین کونسل کی ویٹنگ لسٹ کے ابتدائی امیدوار پہلے ہی نوکریوں پر لگ چکے اور آخری نمبروں پر موجود امیدوار بھی محکمہ تعلیم کی مہربانی سے بنا کسی محنت اور میرٹ کے اصول کے ٹیچر لگتے جا رہے ہیں۔ تازہ خبر یہ ہے کہ کل ہی سکردو ٹاون ایریا کی کئی خالی نشستوں پر اس پرانی ویٹنگ لسٹ کی کافی نیچے پوزیشن پر موجود چند امیدواروں کو لیٹر تھما دئے گئے ہیں۔ اول تو یہ کہ قانون اور منطقی اصول کے مطابق یہ ویٹنگ لسٹ ڈیڈھ سال بعد قابل عمل نہیں، دوم یہ کہ ویٹنگ لسٹ پر موجود امیدوار جنہیں اب استاد بنایا جا رہا ہے این ٹی ایس ٹیسٹ اور انٹرویو میں قلیل نمبر لیکر اس فہرست میں کافی نیچے براجمان ہیں۔ مثال کے طور پر ضلع شگر کے لئے مرد اساتذہ کی 25 سیٹیں تھیں۔ ٹیسٹ کے بعد 75 امیدواروں کا انٹرویو کیا گیا۔ پہلے 25 کو کامیاب قرار دیا گیا جبکہ انٹرویو کے مرحلے تک پہنچنے والے بقیہ 50 امیدواروں کے نام ویٹنگ لسٹ پر رکھے گئے۔ پچھلے ڈیڈھ سالوں میں اس فہرست پر موجود امیدواروں کو اٹھا اٹھا کر ٹیچر تعینات کیا جا رہا ہے۔ یعنی آپ نے زندگی میں کبھی ایک ٹیسٹ دیا تھا،، کبھی نہ کبھی تو ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا بلاوا آ ہی جائے گا۔ دوسری جانب بلتستان بھر میں اعلی تعلیم یافتہ اور قابل نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے اس بات کے منتظر ہیں کہ محکمہ تعلیم خالی اسامیاں کب مشتیر کرے۔ مگر محکمہ تعلیم نہایت سہل پسند اور سست الوجود ثابت ہوا جو نئی اسامیوں پر نئے سرے سے ٹیسٹ لینے کی بجائے ایک پرانی ویٹنگ فہرست پر اکتفا کئے بیٹھا ہے اور 2016 میں این ٹی ایس میں کم نمبر کے حامل اور ناکام ہونے والے امیدواروں کو نوازنے میں مصروف ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc