جنوبی ایشاء میں پاکستان کا بھارت پر پلڑہ بھاری،اہم انکشاف۔

بیجنگ (آئی این پی ) پاکستان نئی دہلی کی نخوت کو چیلنج کرنے والا جنوبی ایشیاء کا پہلا ملک بن گیا ہے اور بھارت کے ساتھ مساوی بنیادوں پر تعلقات کا خواہاں ہے۔ینان کے بین الاقوامی مطالعہ ادارہ کے چینی سکالر ہوانگ ڈی کائی کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک بھارت کے مائنڈ سیٹ کی مزاحمت نہیں کر سکے اور اسے برداشت کرنے پر مجبور ہو گئے۔چینی جریدہ گلوبل ٹائمز میں شائع شدہ اپنے مضمون میں انہوں نے لکھا کہ بھارت جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات میں برتری کے احساس میں مبتلا ہے ، بھارت نے اپنی خارجہ پالیسیوں میں نئی دہلی کی حیثیت کو کم کرنے پر حال ہی میں بنگلہ دیش ، سری لنکا ، نیپال ،بھوٹان اور دیگر ممالک پر نکتہ چینی کی ہے ۔وانگ ڈی کائی کے مطابق بھارت سلامتی و احترام میں کمی کے احساس میں مبتلا ہوسکتا ہے جو کہ ان علاقائی ممالک کے ساتھ جن پر اس نے برسوں تک زور دیا ہے تعلقات میں احساس برتری کا نتیجہ ہے ، جنوبی ایشیاء میں اہم طاقت کے طورپر بھارت ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسیوں میں برتری کی حیثیت پر انحصار کرتا ہے اور جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد سے چاہتا ہے کہ اس کے ہمسائیہ ممالک ’’پہلے بھارت ‘‘ پالیسی پر عمل کریں ،سرد جنگ کے دوران بھارت کے احساس برتری کی وجوہ ہیں تا ہم وہ دور اب لد چکا ہے جب بین الاقوامی تعلقات حسب مراتب اختلافات پر مبنی ہوتے تھے، سفارتی پالیسی کے طوپرر دوسرے ممالک پر بالادستی پر اصرار سے نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو گی بلکہ یہ ملک ’’بالادستی‘‘ کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا ، احساس بالادستی کے ساتھ ہمسائیہ ممالک سے نمٹنے پر بھارت نے عدم اطمینان کو ہوا دی ہے۔مضمون نگار نے لکھا ہے جب چین نے برابری اور مساوی تعاون کی بنیاد پر جدید بین الاقوامی تعلقات کی نئی قسم کی پریکٹس کا آغاز کیا تو جنوبی ایشیاء کے دوسرے ممالک نے اس کا پرجوش خیرمقدم کیا ، بھارت کا خیال ہے کہ یہ اس کی اپنی سفارتکاری کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے،اس کے اعمال حکومت اور میڈیا غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ بیجنگ اور جنوبی ایشیاء کے ممالک کے درمیان مراسم کی ترقی چین کے توسیع پسندانہ عزائم کا نتیجہ ہے،بین الاقوامی تعلقات اب نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں ،پاور پالیٹکس بالادستی کا جنون اور حسب مراتب کے امتیاز جیسے پرانے نظریات کو بتدریج ترک کیا جارہا ہے،باہمی احترام ، سچائی اورانصاف پر مبنی مراسم کے علاو ہ مساوی تعاون اہمیت اختیار کرتے جارہے ہیں اور یہ نئے عالمی نظام کا مستقبل ہیں، ابھرتی ہوئی طاقت کے طورپر بھارت کو فرسودہ اصولوں پر ڈٹے نہیں رہنا چاہئے بلکہ عالمی تعلقات کو ترقی دیں اور تبدیلی کو فروغ دیں ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc