مرے بچّے جواں ہونے لگے ہیں۔ تحریر : شریف ولی کھرمنگی

ستر سالوں سے بنیادی انسانی حقوق سے محروم و محکوم خطہ گلگت بلتستان کو اس زمانے میں دنیا کا سب سے زیادہ نظر انداز شدہ خطہ کہلائے تو غلط نہیں ہوگا. ایسے علاقے کے عوام جو منفی پندرہ کی درجہ حرارت میں بھی ہفتوں تک سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے لیکن ایک پتّہ بھی کہیں نہیں توڑا. اکیسویں صدی میں بھی تمام تر بنیادی شہری حقوق سے محروم ہیں مگر ملک کیساتھ محبت میں ان سے بڑھ کسی کا کردار نہ کبھی رہا نہ کبھی کسی اور خطے کے عوام سے ایسی بےلوث محبت کی توقع کی جاسکتی ہے. ہم عمران خان کی طرح پارلیمنٹ پر لعنت تو نہیں بھیج سکتے لیکن سوال اٹھانا ہمارا حق ہے کہ اس پارلیمنٹ کا ہمارے خطے کے بارے میں کیا کردار رہا جس نے اس علاقے کے بیس لاکھ عوام کی رائے کو شریک کئے بغیر ستر سال بیتا دیئے!۔گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں وزارت افرادی قوت نے ملک بھر کے بیروزگاروں کی تفصیلات بتادیں. ان کے مطابق ملک بھر میں کل بیروزگار گریجویٹس تقریبا پانچ لاکھ ہیں. یوں ۲۰۱۴-۱۵ کی سروے کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد میں پونے آٹھ ہزار, پنجاب میں تین لاکھ سے زیادہ, سندھ میں تقریبا ایک لاکھ, پختونخواہ میں سوا ۸۳ ہزار اور بلوچستان میں گیارہ ہزار بے روزگار گریجویٹس ہیں. کمیٹی نے گلگت بلتستان کو نظر انداز کرکے ثابت کیا کہ ہم کس کھاتے میں آتے ہیں. اور کسی نے سوال بھی نہیں پوچھنی کہ جس علاقے کو آئینی اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے , وہاں کے جوانوں کی کیا حالت ہے….! اس سے قبل دیگر صوبوں کیساتھ ہونیوالی مردم شماری کے نتائج بھی نامعلوم وجوہات کی بناء پر ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔ کوئی پوچھے بھی تو کیوں! جس وزیر کو اس علاقے کی وزارت دی گئی ہے اسکو ووٹ کہیں اور سے ملتے ہیں, اسکو تو بس تنخواہ اور مراعات ہمارے نام پر لیکر عیاشی کرنے سے مطلب ہے وہ تو مزے سے بغیر کچھ کہے, کچھ کئے مل ہی جاتی ہے. تو اسکو کیا پڑی کہ گلگت بلتستان کے جوانوں کی بیروزگاری, محرومی, حقوق وغیرہ کے لفڑوں میں پڑ جائے.
یہاں ایک ہی یونیورسٹی ہے اور دوسری یونیورسٹی کا ابھی آغاز ہونے والا ہے , لیکن نہ کوئی پروفیشنل کالج, نہ فنی ادارہ, نہ کوئی ریسرچ کا ادارہ, نہ معیاری ہسپتال, نہ ہی معروف تعلیمی, تربیتی, سائنسی اور تحقیقی اداروں کی کوئی شاخ. نہ ہی اعلیٰ عدلیہ سے انصاف کی سہولت, اور نہ ہی یہاں کی اسمبلی کو آئین سازی کا اختیار. کسی ریاست کے سینیٹ کی طرز پر ایک کونسل اُس میں بھی آدھے سے زیادہ اراکین بشمول چیئرمین غیر مقامی ہیں. جنکا یہاں کے عوام سے کوئی لینا دینا تو دور کی بات خود اِس موجودہ چیئرمین کو وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے کئی ماہ تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ انکی چیئرمین شپ میں ایک کونسل نامی ادارہ بھی ہوتا ہے جس کے کاندھے پر رکھ کر بیس لاکھ کی غیر آئینی آبادی کو چلایا جاتا ہے۔یہاں جاب اور مواقع کی ضروریات کتنی ہے اور کھپت کس حد تک ہیں یہ تو اس خطے کے دھکے کھاتے جوان ہی بہتر سمجھتے ہیں. شہروں میں پہلے تو مواقع ہیں ہی اتنے کہ ایک پوسٹ کیلئے ہزاروں درخواستیں پہنچ جاتی ہیں. ان میں سے پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں اسّی فیصد تو پی آر اور سفارش کی بنیاد پر ہی تعیناتیاں ہوتی ہیں. دوسری طرف وفاقی سرکاری اداروں میں ویسے بھی کوٹہ سسٹم کے تحت گلگت بلتستان کے عوام کیلئے محدود ترین مواقع میسر ہیں. جبکہ مقامی اداروں میں اکثر و بیشتر اندرون خانہ بولیاں لگا کر نوکریوں کی خرید و فروخت کے ذریعے غریبوں کے حقوق کا استحصال اور میرٹ کا قتل عام کیا جانا قابل فخر کام تصوّر کیا جاتا رہا ہے. یہاں کے خود دار عوام اپنا پیٹ کاٹ کربھی محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کو اندرون اور بیرون ملک پڑھنے کیلئے بھیج دیتے ہیں. اور اس محروم علاقے کے جوان بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ہمیں ہر میدان میں کس کس طرح سے دبائے جاتے رہے, اور کس کس طبقہ کا اس میں کردار ہے۔حکمرانوں کی لوٹ مار, کرپشن, بددیانتی اور اقرباپروری کی مرہون منت بیرونی سود سمیت قرضوں کے سہارے چلنے پر مجبور پاکستان کیلئے سی پیک ایک امید کی کرن ہے. لیکن جس خطے کے بغیر پاکستان چین کا ہمسایہ نہیں کہلاسکتا, سی پیک پاکستان تک پہنچ نہیں سکتا, اور دشمن کی نظروں میں ہمیشہ سے اس خطے کی اہمیت کسی بھی دوسرے محاز سے بڑھ کر رہی, وہ یہی محروم و محکوم گلگت بلتستان کا خطہ ہے. مگر حکمرانوں کی بددیانتی کی انتہا دیکھیں کہ ۵۶ بلین ڈالر کے منصوبہ سی پیک میں اس علاقہ گلگت بلتستان کیلئے یعنی ہمارے لئے ایک پائی بھی نہیں, بلکہ الٹا پہلے سے موجود سوست ڈرائی پورٹ, جس کے طفیل چین اور پاکستان ایک مدت سے باہم تجارت کرتے رہے, اور مقامی عوام میں سے بعض کو کاروبار اور بعض کو محنت مزدوری کرنے کا ایک وسیلہ بنا رہا, اب اسکو بھی یہاں گلگت بلتستان سے ہٹا کر حویلیاں لیکر جارہے ہیں, کیونکہ وہاں سے ان وفاقی حکمرانوں کو قومی اسمبلی وغیرہ کیلئے ووٹ ملیں گے. چونکہ سی پیک اسی علاقے سے گزر رہی ہے اسلئے یہاں کے مقامی حکمران جماعت کے ملازموں یعنی سیاسی رہنماوں کو رٹوایا گیا ہے کہ سی پیک کی وجہ سے اس خطہ گلگت بلتستان میں انقلاب آئیں گے ( شاید کنٹینرز کے دھویں اور پنکچر شاپ سے)۔ اس محروم طبقے کے عوام منفی بارہ کی شدید ترین سردی میں اپنے اوپر نافذ کرنیوالی غیر آئینی ٹیکس کے خلاف احتجاجی جلسے اور لانگ مارچ کریں تو کسی کو ہوا تک نہیں لگتی, بلکہ مطالبات کو مقامی طور پر مان لینے پر مجبور ہونیوالے نامی گرامی قانون سازوں کو بھی وفاقی حکومت کی جانب سے کونسل میں ٹھونسے ہوئے افراد اور دیگر کی جانب سے ٹرخادیا جاتا ہے۔ ایک مشال خان کے قتل پر ملک بھر کی میڈیا مہینوں چیختی ہے, لیکن گلگت بلتستان کے دلاور عباس کو بیس پنجابی غنڈوں کی طرفسے بربریت کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارے جانے پر ملک بھر کے انسانیت انسانیت کے نام پر واویلا کرنیوالے تجزیہ کاروں کی زبانوں پر تالے پڑجاتے ہیں, سول سوسائیٹی کے نام پر رونے دھونے والے اور اپنے آپ کو ہیرو بنا کر پیش کرکے این جی اوز سے ڈالرز لینے والے تماشائی بن جاتے ہیں, کوئی قلمکار لکھنا گوارا نہیں کرتا, کوئی سیاست دان اپنے احتجاج میں ذکر تک نہیں کرتا. گزشتہ روز سے جاری پوزشن جماعتوں کیطرفسے لاہور کے دھرنے کو ہی دیکھ لیں , تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین موجود تھے, بڑی بڑی تقریریں سانحہ ماڈل ٹاون کے خلاف کیں, اس حکومتی دہشت گردی کی یقینا ہم سب بھی بھرپور مذمت کرتے ہیں, لیکن اسی ماڈل ٹاون میں اس دھرنے سے ایک ہی روز قبل بربریت کا نشانہ بن کر موت کی آغوش میں جانیوالے دلاور عباس کا کسی نے ذکر تک کرنا گوارا نہیں کیا. وجہ صاف ظاہر ہے, کہ دلاور کا تعلق جس خطے سے تھا وہاں سے عمران خانز آصف زرداری , طاہر قادری وغیرہ میں سے کسی کو قومی اسمبلی کی سیٹ کیلئے کوئی ووٹ نہیں پڑنیوالا۔ یہ سب محرومیاں نئی نہیں, اب بہت اچھی طرح جان چکے ہیں کہ ہم ستر سالہ محرومیوں کو ختم یا ان میں کمی, کسی سے گزارش کرکے یا منت سماجت کرکے نہیں کروا سکتے. ہمیں خود اٹھنا ہے, اپنے لوگوں کو جگانا ہے. اور اب ان تمام استحصال کرنے والے اداروں, نظر انداز کرنیوالی پارلیمنٹ اور پارلیمانی جماعتوں اور محکومیوں پر لب سی لینے والے تجزیہ کاروں سمیت تماشا دیکھتے عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ ~
مجھے محروم تم رکھوگے کب تک
میرے بچے جواں ہونے لگے ہیں

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc