سانحہ 1988 میں کون ملوث تھے پیپلزپارٹی کے اہم رہنما نے راز آفشاں کر دیا۔ نواز لیگ کو آمریت فیکٹری کی ایجاد قرار۔

گلگت(پ۔ر )پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ نواز لیگ آمریت کی فیکٹری کی ایجاد جبکہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی نرسری ہے۔ایک آمر کے گماشتوں کے پیروکاروں کی بھٹو شہید پر تنقید المیہ ہے گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں فرقہ واریت کا عفریت ضیاءالحق کا تحفہ ہے انکا دوسرا تحفہ نواز لیگ ہے جو سیاسی ناسور بن کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے درپے ہے۔نہایت افسوس کا مقام ہے کہ تاریخ سے نابلد لوگ بھی بیانات دے ریے ہیں جنکو یہ بھی معلوم نہیں کہ 1988 کے فسادات کے وقت پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں بلکہ انکے قائدین کے سرپرست ضیاءالحق کے مارشل لاء کا دور تھا۔تختِ لاہور کے حکمران خونی سیاست ایجاد کرنے والے وہ سائنسدان ہیں جن کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوۓ ہیں۔جن کے قائدین پنجاب میں درجنوں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ انسانیت سوز واقعات کے مجرموں اور پیشہ ور قاتلوں کی سرپرستی کرتے ہیں انکے حواریوں کی پیپلز پارٹی پر تنقید ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری کے مترادف ہے۔نواز لیگ والے پہلے وہ فارمولہ بتائیں جس سے لوہے کی دکان چلانے والوں نے عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹ کر پانامہ میں آف شور کمپنیاں قائم کیں۔ہم نے پہلے ہی کہ دیا تھا کہ نواز لیگ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے غیر سنجیدہ ہے اور نام نہاد آئینی کمیٹی بنا کر وقت ضائع کیا جارہا ہے۔صوبائی حکومت آئینی حقوق کے حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام سے بددیانتی اور خیانت کی مرتکب ہوئی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوریت کے ماتھے کا جھومر جبکہ نواز لیگ آمریت کا بدنما داغ ہے۔عدلیہ نے نام نہاد شرفا کی دم پر پاؤں رکھا ہے جس کی وجہ سے انکی بقایہ جات افراتفری کا شکار ہو کر شور مچا رہی ہے۔خاندان شریفیہ کی سیاست زمیں بوس ہوچکی ہے اور انکے آلہ کار بے ترتیب ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔نواز لیگ آکاس بیل کی مانند ہے جو جمہوریت کے پودے کو مرجھانے کے درپے ہے۔پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے ہزاروں ملازمین کو مستقل اور تنخواہوں میں اضافہ کیا۔جبکہ موجودہ حکومت نے اراکین اسمبلی و کونسل کی تنخواہوں میں تین سو گنا اضافہ کیا اور ملازمین کی تنخواہوں میں محض دس فی صد اضافہ کیا۔جبکہ کئی سالوں سے مستقلی کے منتظر ملازمین کو انصاف دینے کے بجائے انہیں جان بوجھ کر تنگ کیا جارہا ہے۔ نواز لیگ کی سیاست کا محور سریا اور سیمنٹ ہے اس لئے پل اور میٹرو عوامی مفاد کے لئے نہیں بلکہ اپنے کاروبار کی سربلندی اور منظور نظر ٹھیکیداروں کو نوازنے کے لئے بنائے جا رہے ہیں۔جن کے قائدین ایفی ڈرین کے کاروباریوں کو تحفظ دیتے ہیں انکی پیپلز پارٹی پر تنقید چہ معنی دارد۔ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبانے والے نوجوانوں کو کیا قرضے فراہم کرینگے۔نواز لیگ کا چھے نکاتی ایجنڈا کرپشن،اقربا پروری، لاقانونیت،فرقہ واریت، ٹھیکوں اور نوکریوں کی بندر بانٹ ہے۔گلگت بلتستان کے باشعور عوام نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا ہے کہ کون حکومتی مظالم کے خلاف عوامی احتجاج کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر اپنا اقتدار بچانے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔خالصہ سرکار موجودہ حکمرانوں کے گلے کا طوق اور اتفاق فونڈری کا سریا پاوں کی بیڑیاں بنے گا۔گلگت بلتستان کے عوام غیر سنجیدہ اور غیر منطقی تنقید کرنے والوں کی اصلیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔چونکہ ان شعبدہ بازوں اور حیلہ گروں کی عملی طور پر کوئی کارکردگی نہیں ہے اسلئے انکا کام صبح و شام بے بنیاد تنقید کرنا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc