گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں قائد ایوان کی تبدیلی کیلئے لاوا پک رہا ہے۔

اسلام آباد (بیورو رپورٹ ) گلگت بلتستان اسمبلی میں ان ہاؤس تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ممبر اسمبلی جاوید حسین اور سابق وزیراعلی سید مہدی شاہ نے بھی اس حوالے سے اخباری بیانات کے ذریعے اظہار کردیا۔ مہدی شاہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگلا وزیر اعلی ضلع دیامر سے ہوگا۔مگر اس ممکنہ تحریک عدم اعتماد میں اصل کردار بلتستان سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی کا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق بلتستان کے ممبران اسمبلی وزیراعلی کے رویے سے سخت بیزار ہیں۔ اور بالخصوص بلتستان مخالف پالیسیوں اور بلتستان مخالف بیانات سے انتہائی بددل ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ مہینوں عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے بعد حفیظ الرحمن کا بلتستان مخالف بیانات کے بعد بلتی ممبران کی طرف سے وزیراعلی کے بیان کے خلاف بظاہر کوئی رد عمل نہیں آیا۔ لیکن ذرائع کے مطابق بلتی ممبران اسمبلی اندرون خانہ کوئی کھچڑی پکا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بلتی ممبران کی خاموشی جی۔بی کے سیاسی منظر نامے پہ ایک بھونچال برپا کرسکتے ہیں۔ کھرمنگ سے منتخب اسمبلی اقبال حسن صاحب جو وزیراعلی کی کچن کیبنٹ کے ممبر سمجھے جاتے تھے۔ وہ بھی وزیراعلی کی پالیسیوں سے سخت متنفر نظر آرہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق منتخب ممبر اسمبلی کو اطلاعات کا قلمدان دینے کے بعد ایک غیر منتخب اور عوام میں غیر مقبول شمس میر کو اطلاعات کے محکمے کا پورا اختیار دے کر منتخب ممبر کو غیر فعال کرنا بھی بلتی ممبروں کو ناگوار گزرا ہے۔ وزیراعظم خاقان عباسی کے جلسے میں لوگوں کے نہ آنے پر وزیر اعلی اور ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان کا لب ولہجہ بلتی ممبران اور عوام بلتستان کے خلاف ہونا بھی اسکی ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں سابق وزیراعلی سید مہدی شاہ کا بیان اگلا وزیراعلی ضلع دیامر سے ہوگا۔ اس پر ممکنہ طور پر وزرات اعلی کے امیدوار جانباز خان نے بھی کوئی تردیدی بیان نہیں دے کر سیاست سے دلچسپی رکھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ جانباز خان کی خاموشی نے عدم اعتماد کی تحریک کو مزید تقویت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق جانباز خان اندرون خانہ عدم اعتماد کی تحریک لانے کی لابی میں انتہائی متحرک نظر آرہے ہیں۔ جبکہ میر سلیم بھی وزیر اعلی اور انکی کابینہ کی پالیسیوں کے شروع دن سے ناقد رہے ہیں۔ وہ بھی عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لئے متحرک ہیں۔ میر سلیم سے اسکے والد گورنر میر غضنفر اور والدہ رکن اسمبلی رانی عتیقہ اپنے گھریلو چپقلشوں کیوجہ سے ناراض ہیں۔ آگر میر سلیم اپنے گھریلو مسائل کو حل کرکے والدین سے معافی تلافی کرنے میں کامیاب ہوئے تو وزرات اعلی کے مضبوط امیدوار ثابت ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف آپوزیشن اراکین اسمبلی کی کثیر تعداد عدم اعتماد کے لئے پر تول رہی ہے۔ جسکے روح رواں لیڈر آف اپوزیشن کیپٹن شفیع خان ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلی کی الیکشن کمپین کے روح رواں دیامر سے تعلق رکھنے والے سابق مسلم لیگی رہنما اور سابق سپیکر ملک مسکین یشکن براداری کے ممبران اسمبلی کیساتھ رابطوں میں ہیں۔ اور جگلوٹ کے مقام پر ملک مسکین صاحب نے وزیراعلی کے خلاف تقریر کرنے کے بعد حفیظ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لئے کمر کس لی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ممبران اسمبلی اس تحریک عدم اعتماد کی اونٹ کو کس کروٹ بیٹھاتے ہیں

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc