دلاور کی موت اور علاقے میں تعلیمی درسگاہوں کا فقدان۔ تحریر: انجینئرشبیر حسین

والدین کی اکلوتی اولاد دلاور حسین کا لرزہ خیز قتل گلگت بلتستان کیلئے ایک بڑے سانحے سے کم نہیں ،حصول علم کیلئے نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنے گھروں کو خیر باد کہ کر پردیس کو اپنا مسکن بنانے والے گلگت بلتستان کے نوجوان پورے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں پھیلے ہوئے ہیں ،خضدار بلوچستان سے داود انجنیرنگ کالج کراچی تک ، بلوچستان یونیورسٹی سے ہزارہ یونیورسٹی تک علم کے متلاشی یہ نوجوان اپنے علم کی پیاس بجھانے کیلئے صدقہ خیرات کی طرح کوٹے پر ملنے والی ایک ایک دو دو سیٹوں پر تعلیم کر رہے ہیں یا پھر پرائیویٹ تعلیمی اداروں مین زیر تعلیم ہیں ، میڈیکل انجینرنگ ، ڈپلومہ یہاں تک کی سوشل سائنسز کی بہتر تعیلیم کیلئے بھی ہمارے نوجوان اپنے گھر بار سے دور کالجوں اور یونیورسٹیز مین داخلہ لینے پر مجبور ہیں ، جس کی بنیادی وجہ گلگت بلتستان میں معیاری تعلیمی اداروں کا قیام نہ ہونا ہے ۔ گلگت بلتستان کا 1947 میں پاکستان کے زیر انتظام آنے کے 55 سال بعد 2002 میں جنرل مشرف دور میں گلگت میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے نام سے ایک یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا مگر تاحال یونیورسٹی جی بی کے طلباء کو معیاری تعلیم دینے میں ناکام ہے ۔ طلباء قراقرم یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی بجائے پاکستان کے دور دراز شہروں میں بہتر اور معیاری تعلیم کیلیے دوسری یونیورسٹیز میں داخلہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں ، میں سمھجتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو جس طرح دوسری تمام تربنیادی انسانی حقوق سے دور رکھا گیا اسی طرح تعلیم سے بھی دور رکھا گیا ، یہ تو بھلا ہو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا جنہوں نے گلگت بلتستان میں تعلیم کے میدان مین خاطر خواہ کردار اداکرتے ہوئے یہاں کے علم دوست طلباء کی علم کی پیاس کسی حد تک بجھانے میں کردار ادا کیا ، ان پرائیویت اداروں کے قیام کے بہت ہی کم عرصے میں ضلعی سطح پر کئے گئے سرویز میں گلگت بلتستاں کے کچھ اضلاع پورے پاکستان میں ٹاپ پر آئے ہیں جبکہ باقی اضلاع کی پوزیشن بھی کافی بہتر ہے ۔ قراقرم یونیورسٹی میں معیار تعلیم کی بہتری کی امید اس لئی نہیں کی جا سکتی کہ اسے کیمپسز کے نام پر تقسیم در تقسیم کر کے مین یونیورسٹی کو کمزور کر دیا گیا ہے ، بلتستان یونیورسٹی کے نام سے بھی ایک ادارے کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے جس میں فی الحال 150 طلباء کو داخلہ دیا جا رہا ہے ، ایسے میں پرائیویئٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ہزاروں طلباءکے پاس اسکے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں جاکر اپنے علم کی پیاس بجھاے ، ہزاروں کی تعداد میں طلباء طالبات ایسے ہیں جن کے والدین انہیں دور درازشہروں میں حصول تعلیم کیلئے بھیجنے سے قاصر ہیں ، خاص طور پر طالبات کی تعداد بہت زیادہ ہیں جنکودور راز تعلیم کے حصول کیلئے بھیجنے میں معاشرتی روایات آڑے آتی ہیں۔ ایسے میں ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ نہ صرف ہماری دو یونورسٹیز کو بہتر بنانے مین کردار ادا کرے بلکہ ایلیمنٹری سے کالج تک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں معیار تعلیم کی بہتری کیلئے بھی کردار ادا کریں ، قراقرم یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی میں داخلے کی گنجائش بڑھانے، ڈیپارٹمنتس میں آضافے اور معیار کی بہتری کیلئے کردار ادا کریں ۔ گلگت بلتستان کے طلباء اور جوانوں کو بھی چاہیے اور پوری قوت سے یہ مطالبہ کرے کہ حکومت ہماری تعلیم ضروریات پوری کرنے کیلئے میعاری تعلیم اداروں کا قیام عمل میں لائے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت گلگت اور سکردو دونوں مین ایک ایک وومن یونیورسٹیز ، ایک ایک میڈیکل اور انجئیرنگ یونیورسٹیز ، تمام اضلاع میں معیاری ٹینکل اداروں کا قیام عمل بہت ضروری ہے ، تاکہ علاقے میں تعلیمی سہولیات کی دستیابی سے ہمارے بچے اپنے علاقے میں ہی تعلیم حاصل کر سکیں اور دلاور جیسے انجام سے بچے رہیں، ہماری دو حکومتوں کی دس سال کی بہتر توجہ سے ہمارے طلباء و طالبات کیلئے بہتر تعلیمی سہولیات کا حصول ممکن بنا سکتی ہے ،اگر ایسا ممکن نہیں ہوا تو ہمارا اور ہمارے طلباء کا دیار غیر میں دلاور عباس والا حال ہوتا رہے گا ۔ دلاور کی موت اور علاقے میں تعلیمی درسگاہوں کا فقدان۔والدین کی اکلوتی اولاد دلاور حسین کا لرزہ خیز قتل گلگت بلتستان کیلئے ایک بڑے سانحے سے کم نہیں ،۔ حصول علم کیلئے نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنے گھروں کو خیر باد کہ کر پردیس کو اپنا مسکن بنانے والے گلگت بلتستان کے نوجوان پورے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں پھیلے ہوئے ہیں ، خضدار بلوچستان سے داود انجنیرنگ کالج کراچی تک ، بلوچستان یونیورسٹی سے ہزارہ یونیورسٹی تک علم کے متلاشی یہ نوجوان اپنے علم کی پیاس بجھانے کیلئے صدقہ خیرات کی طرح کوٹے پر ملنے والی ایک ایک دو دو سیٹوں پر تعلیم کر رہے ہیں یا پھر پرائیویٹ تعلیمی اداروں مین زیر تعلیم ہیں ، میڈیکل انجینرنگ ، ڈپلومہ یہاں تک کی سوشل سائنسز کی بہتر تعیلیم کیلئے بھی ہمارے نوجوان اپنے گھر بار سے دور کالجوں اور یونیورسٹیز مین داخلہ لینے پر مجبور ہیں ، جس کی بنیادی وجہ گلگت بلتستان میں معیاری تعلیمی اداروں کا قیام نہ ہونا ہے ۔ گلگت بلتستان کا 1947 میں پاکستان کے زیر انتظام آنے کے 55 سال بعد 2002 میں جنرل مشرف دور میں گلگت میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے نام سے ایک یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا مگر تاحال یونیورسٹی جی بی کے طلباء کو معیاری تعلیم دینے میں ناکام ہے ۔ طلباء قراقرم یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی بجائے پاکستان کے دور دراز شہروں میں بہتر اور معیاری تعلیم کیلیے دوسری یونیورسٹیز میں داخلہ لینے کو ترجیح دیتے ہیں ، میں سمھجتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو جس طرح دوسری تمام تربنیادی انسانی حقوق سے دور رکھا گیا اسی طرح تعلیم سے بھی دور رکھا گیا ، یہ تو بھلا ہو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا جنہوں نے گلگت بلتستان میں تعلیم کے میدان مین خاطر خواہ کردار اداکرتے ہوئے یہاں کے علم دوست طلباء کی علم کی پیاس کسی حد تک بجھانے میں کردار ادا کیا ، ان پرائیویت اداروں کے قیام کے بہت ہی کم عرصے میں ضلعی سطح پر کئیے گئے سرویز میں گلگت بلتستاں کے کچھ اضلاع پورے پاکستان میں ٹاپ پر آئے ہیں جبکہ باقی اضلاع کی پوزیشن بھی کافی بہتر ہے ۔ قراقرم یونیورسٹی میں معیار تعلیم کی بہتری کی امید اس لئی نہیں کی جا سکتی کہ اسے کیمپسز کے نام پر تقسیم در تقسیم کر کے مین یونیورسٹی کو کمزور کر دیا گیا ہے ، بلتستان یونیورسٹی کے نام سے بھی ایک ادارے کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے جس میں فی الحال 150 طلباء کو داخلہ دیا جا رہا ہے ، ایسے میں پرائیویئٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ہزاروں طلباءکے پاس اسکے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں جاکر اپنے علم کی پیاس بجھاے ، ہزاروں کی تعداد میں طلباء طالبات ایسے ہیں جن کے والدین انہیں دور درازشہروں میں حصول تعلیم کیلئے بھیجنے سے قاصر ہیں ، خاص طور پر طالبات کی تعداد بہت زیادہ ہیں جن کودور دراز تعلیم کے حصول کیلئے بھیجنے میں معاشرتی روایات آڑے آتی ہیں۔ ایسے میں ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ نہ صرف ہماری دو یونورسٹیز کو بہتر بنانے مین کردار ادا کرے بلکہ ایلیمنٹری سے کالج تک کے سرکاری تعلیمی اداروں میں معیار تعلیم کی بہتری کیلئے بھی کردار ادا کریں ، قراقرم یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی میں داخلے کی گنجائش بڑھانے ، ڈیپارٹمنتس میں آضافے اور معیار کی بہتری کیلئے کردار ادا کریں ۔ گلگت بلتستان کے طلباء اور جوانوں کو بھی چاہیے اور پوری قوت سے یہ مطالبہ کرے کہ حکومت ہماری تعلیم ضروریات پوری کرنے کیلئے میعاری تعلیم اداروں کا قیام عمل میں لائے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت گلگت اور سکردو دونوں مین ایک ایک وومن یونیورسٹیز ، ایک ایک میڈیکل اور انجئیرنگ یونیورسٹیز ، تمام اضلاع میں معیاری ٹینکل اداروں کا قیام عمل بہت ضروری ہے ، تاکہ علاقے میں تعلیمی سہولیات کی دستیابی سے ہمارے بچے اپنے علاقے میں ہی تعلیم حاصل کر سکیں اور دلاور جیسے انجام سے بچے رہیں، ہماری دو حکومتوں کی دس سال کی بہتر توجہ سے ہمارے طلباء و طالبات کیلئے بہتر تعلیمی سہولیات کا حصول ممکن بنا سکتی ہے ،اگر ایسا ممکن نہیں ہوا تو ہمارا اور ہمارے طلباء کا دیار غیر میں دلاور عباس والا حال ہوتا رہے گا ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc