دلاور قتل کیس: اب مذمت نہیں چلے گی -جی بی یوتھ الائنس کراچی

لاہور میں بلتستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم دلاور کو صاحب اختیار گھرانوں کے 20 لڑکوں نے کرکٹ بیٹ اور وکٹس سے کھیل کے دوران تشدد کر کے قتل کر دیا. گلگت بلتستان میں تعلیم اور روزگار کے مواقع کی عدم موجودگی کے سبب گھر سے دور نکلنے پر مجبور یہ نوجوان (دلاور) بھی اب ان سینکڑوں نوجوانوں کی لسٹ میں شامل ہو چکا جنہیں شہر کی اذیتیں نگل گئیں.
گلگت بلتستان یوتھ الائنس کراچی کے نمائندوں نے اس کیس کے حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس بلایا جس میں مرحوم کی روح کے ایصال و ثواب کے لئے دعا کی گئی اور مشترکہ اعلامیے میں یہ کہا گیا کہ دلاور کا بہیمانہ قتل گلگت بلتستان میں تعلیم اور روزگار کے سہولتوں کی عدم موجودگی اور پاکستانی سماج میں بڑھتے عدم برداشت کے رویوں کا پردہ چاک کر گیا ہے. طلبہ نے مزید کہا کہ دلاور معصوم کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات پر ان کی نظر ہے. کسی بھی سیاسی دباو میں اگر قاتلوں کے ساتھ نرمی برتی گئی تو گلگت بلتستان یوتھ الائنس ملک گیر ہڑتال کی کال دے گی. ہم یہ بھی باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہمارا تعلق قدیم تہذیبوں کے گہوارے سے ہے. ہم امن, رواداری اور برداشت کے ماحول کو پروان چڑھانے پر یقین رکھتے ہیں, ہمارے صبر و برداشت کا امتحان نہ لیا جائے.
ہمارا مطالبہ ہے کہ:
1. دلاور کے قتل کی شفاف انکوائری کی جائے اور قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جائے.
2. کسی بھی سیاسی دباو سے بالاتر اس کیس کے پس پردہ سیاسی دباو کا پردہ فاش کیا جائے.

3. دلاور قتل کیس میں وزیر اعلی گلگت بلتستان سے اپیل کرتے ہیں کہ پنجاب حکوت (بالخصوص لاہور کی انتظامیہ) سے مل کر قاتلوں کی گرفتاری میں اپنا کردار ادا کرے.
4. لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں موجود محکوم اور پسماندہ خطوں کے نوجوانوں/طالبعلموں کو تحفظ فراہم کیا جائے.

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc