داریل تانگیر کو ضلع نہ بنانے کی صورت میں سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ۔

چلاس(پ،ر) صدر جماعت اہلسنت گلگت بلتستان نے داریل میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی داریل تانگر کو ضلع نہ بنانا سراسر زیادتی ہے 40اور 45 ہزار کی آبادی والے علاقوں کو ضلع کا درجہ دیا جاتا ہے جبکہ -75 اور80 ہزار والے کو الگ الگ ضلع کیوں نہیں بنایا جارہا ۔داریل تانگیر کو ملاکر ایک لاکھ پچاس ہزار کی آبادی کو ضلع نہیں بنایا جارہا ہے آخر ہمارا قصور کیا ہے کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں ضلع نہ ہونے کی وجہ سے داریل و تانگر کے لوگوں کو چلاس جانا پڑتا ہے اسی وجہ سے سالانہ 15 کروڑ کا خرچہ آتا ہے اگر جلد از جلد ضلع کا درجہ نہ دیا تو ہم سڑکوں پر نکلیں گے۔مقررین نے خطاب میں کہا حفیظ الرحمن کی حکومت سے مہدی شاہ ہزار درجہ بہتر تھا جس نےسب ڈویژن کا درجہ دیا لیکن مسلم لیگ کی حکومت اخباری بیانات کے ذریعے عوام کو بیوقف بنا رہے ہیں۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc