ضرب شمشیر علی ۔ تحریر مولانا محمد دین چلاسی

گلگت بلتستان کا کشمیر سے آیاھوا غیرمقامی جبری مسلط وزیر اعلی جامعہ اشرفیہ لاھور کانام نہاد سند یافتہ نیم ملا حضرت علامہ حافظ حفیظ الرحمان دامت بربادھم العالیہ اور ریاستی سلامتی ادارے ۔اور عدالت عظمی کے درمیان تنازع میں اک افسوسناک پہلو یہ بھی دیکھنے میں آیا ھیکہ جب عدلیہ کے اعلی ججز کیخلاف کوئی عام شہری اگر بات کرے تو وہ فورا توھین عدالت کے زمرے میں آجاتا ھے یا پھر آرمی آفیسر کے ذات یا اسکی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ھیں تو پھر فورا قانون حرکت میں آکر شمشیر برھنہ بن جاتا ھے یا کوئی داڑھی والا اسلام کی بات کرتا ھے تو اسپر دھشت گردی کا مہر ثبت کرکے اے ٹی۔اے۔ کے زمرے میں لایا جاتا ہے ۔
۔لیکن جب جی ۔بی۔کا وزیر اعلی کشمیر کے وزیر اعظم سے ملکر کسی فرد واحد کی نااھلی کو ملک میں بغاوت سے تعبیر کریں ۔پاکستان کے وجود پر تیغ زنی کریں اور عدالت کے فیصلے کو مسترد کریں تو ایسے صورتحال میں ریاست کے سلامتی ادارے ۔۔اعلی عدلیہ کے حکام ۔اور پاک آرمی کا کاروائی نہ کرنا نہ صرف سمجھ سے بالا تر ھے بلکہ حیرت کی انتہاء بھی ہے ۔۔کیونکہ۔۔۔
جی بی وزیر اعلی کشمیری وزیراعظم کے اشاروں اور کشمیری وزیراعظم انڈیا کا سائلنٹ ممبر کی حیثیت سے ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار بن کر دانستہ یا غیر دانستہ ملک دشمن طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کرتے ھوئے ھمیشہ سے تضادات کا شکار رھے ھیں ۔۔اور یہ دونوں کشمیری برادران اب تک جاگیرداروں ۔وڈیروں۔۔رشتہ داروں ۔ٹھیکداروں ۔کی جم غفیر کو عوام کی حکومت کہتے آئے ھیں اور وہ لاقانونیت کو فروغ دیتے ھیں اور قانون کی گرفت سے بچنے کیلئے عوام کی دھائی دیتے رھتے ھیں۔انکے نزدیک عوام کی عدالت اگر انہیں ووٹ دیدیں تو پھر وہ تنقید اور قانون دونوں سے بالا ھیں ۔۔۔
یہیں وجہ ھیکہ وہ میڈیا سے سینگ لڑاتے ھیں۔
اعلی عدلیہ کو آنکھیں دکھاتے ھیں اور پاک فوج پر چنگھاڑتے ھیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc