ضلع شگر بلتستان میں واقع سرفہ رنگا میں دنیا کی بلند ترین صحرائی کار ریس کی تیاریاں عروج پر، صحرا خیموں کا ولیج بن گیا ۔لیکن متاثرین سیلاب ذدگان آج بھی بے یار مددگار حکومتی راہ دیکھ رہا ہے۔

شگر( نامہ نگار) ضلع شگر  بلتستان میں واقع سرفہ رنگا  میں دنیا کی بلند ترین صحرائی کار ریس  کی تیاریاں عروج پر صحرا خیموں کا ولیج بن گیا ۔دوسری طرف لیکن متاثرین سیلاب گیول آج بھی بے یار مددگار حکومتی راہ دیکھ رہا ہے۔ وہیں انتظامیہ کی طرف سے میزبان شگر کو   بھی اس اہم  ایونٹس میں مکمل نظراندازکرنے پرشگر کے مختلف عوامی حلقوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتاہے۔تفصیلات  کے مطابق پاکستان کی سطح پر ہونے والے پہلی دنیا کی سب سے بلند سرد صحرائی کار اور موٹر ریلی کی انتظامات مکمل ہوگئے ہیں، کار اور موٹر ریس کیلئے ٹریک مکمل ہوچکے ہیں ۔ ریس میں شریک ہونے والے شرکاء اور مہمانوں کیلئے جربہ ژھو شگر میں ٹینٹ ویلیج کا قیام  عمل میں لایا ہے۔ اس ریس میں شرکاء کی تفریح کیلئے مے فنگ، ،چراغان،کلچر شو،بلتی ڈانس اور دیگر تفریحی ایونٹس بھی منعقد ہونگے۔

گلگت بلتستان میں اس قسم کے ایونٹس کا انعقاد سے یقینا قومی ثقافت کو اُجاگر کرنے کے حوالے سے ایک مثبت اقدام ہے لیکن مصبیت کی اس گھڑی میں جہاں پانچ لوگ ابھی تک سدپارہ سیلاب میں دبے ہوئے ہیں اُنہیں تلاش کرنے کا سلسلہ بلکل ہی سُست روی کا شکار ہے وہیں گیول کا پورا گاوں سیلاب سے بلکل ہی تباہ برباد ہوا ہے لیکن مقامی حکومت نے اس حوالے سے سوتیلی ماں سے سلوک روا رکھا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc