ریڈیر سیٹ | تحریر عقیل نواز | قسط سوئم

ریڈیو سیٹ ۔۔۔
امی کے سامنے اظہارِ تمنّا سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ اب اگلے مرحلے میں ابّا سے بات کرنی تھی اور اس کے لئے ہم موقع کی طاق میں رہے۔ لیکن دو مہینے گزرنے کے باوجود بھی کوئی مناسب موقع ہاتھ نہ آیا۔ایسی صورت حال کو دیکھ کر ہم نے سوچا کہ کب تک تقدیر کے ہاتھوں کھیلتے رہیں گے ، ہر انسان کو چاہیے کہ اپنے لئے مواقع خود پیدا کرے۔ اس خیال کے ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر کمرِ ہمّت باندھی اور فیصلہ ہوا کہ ابا جی سے براہ راست بات کی جائے۔
ایک مرتبہ ابّا بازار جانے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ ہم سے کہنے لگے کہ امی سے پوچھ کر ضروری اشیاء کی فہرست تیار کریں۔امی کی مدد سے لسٹ تیار ہوگئی۔۔دل میں ایک مرتبہ پھر احمقانہ خیالات کی بارش ہوئی۔۔۔ کیوں نہ لسٹ کے آخر میں ۔۔ایک عدد ریڈیو ۔۔ کے تین الفاظ بھی درج کئے جائیں۔اس خرافاتی خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دل و دماغ میں تکرار شروع ہوئی۔مگر جلد آتشِ عشق غالب آگئی اور فہرست کے آخر میں خوب صورت انداز میں ۔ ۔۔ ایک عدد ریڈیو ۔۔۔ کے الفاظ نقش ہوگئے۔
اس کے ساتھ ہی حکم ہوا کہ فہرست میں شامل تمام ناموں کو پڑھ کر سُنایا جائے۔ہم نے حکم کی تعمیل کی۔ ایک مرتبہ پھر دل و دماغ کے مابین کشمکش کا آغاز ہوگیا کہ ریڈیو کا لفظ فہرست میں رہے یا نہ رہے۔۔۔ اس بار دماغ حاوی ہوگیا اور متوقع ڈانٹ کے پیشِ نظر ۔ ۔۔ایک عدد ریڈیو۔۔۔ کے الفاظ بے دلی کے ساتھ فہرست سے مٹادیے گئے۔۔ ۔۔۔
دل لگی کب باز آنے والی تھی۔فہرست سے نام تو مٹ گیا لیکن اسی دوران دوسری حماقت کا ارتکاب ہوا۔ہم نے فہرت والی کاغذ کو پلٹا اور لکھنا شروع کیا۔
۔۔جناب کاشا صاب ۔۔۔ (قادر شاہ صاحب دوکاندار کا نام) والد کے ذریعے ایک ٹیپ ارسال فرمائیں ۔۔۔۔(ٹیپ کا لفظ اس لئے استمال ہوا کہ قادر شاہ صاحب کی دوکان میںہم نے کچھ دنوں پہلے کچھ ٹیپ ریکارڑرز دیکھے تھے اور ان کے ساتھ ریڈیو بھی جُڑا ہوا تھا۔)
#یہ اس وقت کے الفاظ تھے جو ابھی تک ہمارے ذہین میں نقش ہیں ۔چونکہ ابّا کو زندگی میں کبھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا اس لئے وہ پڑھنے لکھنے سے قاصر ہیں۔ان کو معلوم نہ ہوسکا کہ فہرست کے پیچھے کوئی پیغام بھی ہے۔ابّا چلے گئے۔ شام کو سامان سمیت تشریف لائے۔ان کی آمد کے ساتھ ہی ہمیں طلب کیا گیا۔لیکن کوئی ڈانٹ نہ پڑی۔ لطیفے کی صورت میں اپنی خواہش کا اظہار کرنا کام آیا۔اُنہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ وقت حصولِ علم کا ہے لہذا اس طرح کے خرافات کی طرف دھیان نہ دیا جائے۔البتہ ریڈیو والے کی صحبت کے حوالے سے اس بار کوئی بات نہیں ہوئی۔
ہمارے عشق اور جنون میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ خواب و خیال میں ایک ہی آواز غالب تھی، ایک ہی عکس غالب تھا۔انہی دنوں ایک ناگہانی نعمت نے سارے حالات بدل کر رکھ دئیے۔
ہمارے گاوں میں ایک عالم ِ دین ہوتے ہیں ۔اللہ بھلا کرے ان کاکہ انہوں نے اس زمانے میں ایک ٹیپ کیسٹ لوگوں میں تقسیم کیا ۔ جس میں انہوں نے نماز کا ترجمہ مقامی زبان میں کیا تھا۔مقامی سطح پر ان کی اس کاوش کو کافی پزیرائی ملی اور لوگ ان کیسٹوں کو ہاتھوں ہاتھ لینے لگے۔
ایک دن ابّا کو اس کیسٹ کا علم ہوا۔وہ خصوصی طور پر اپنے ایک دوست کی دوکان پر گئے اور اس کیسٹ کو سُن آئے۔مقامی زبان میں نماز کا ترجمہ اور نماز کے متعلق دیگر مسائل اور ان کا حل سن کر ان کے دل میں خواہش ظاہر ہوئی کہ کیوں نہ اس چیز سے میں اپنے گھر میں مستفید ہولیا جائے ۔۔۔ لیکن اس کیسٹ کو سُنّے کیلئے ایک عدد ٹیپ ریکارڑر کی بھی ضرورت تھی.

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc