گلگت بلتستان کیلئے ایک اور کمیٹی کی تشکیل، ایکٹ 74 کی طرز پر نئے ایکٹ کی تیاریاں شروع۔

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) ذراِئع کے مطابق گلگت بلتستان میں بھی آذاد کشمیر میں نافذ ایکٹ 74 کی طرز پر وفاقی کابینہ کی منطوری سے ایکٹ 2018 کے نام نے قانونی شفارشات زیرغور ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات کی بنیاد پر گلگت بلتستان کے عوام کی ستر سالہ محرومیوں کو ختم کرنے کیلئے جس طرح آزاد کشمیر کے نظام کو پارلیمنٹ ایکٹ 1974کے تحت آئینی تحفظ دیا گیا ہے بلکل اسی طرح گلگت بلتستان میں نافذ صدارتی حکم نامے کے تحت نافذ نظام کو پارلیمنٹ میں 2018 ایکٹ تحت آئینی تحفظ دیا جائیگا۔ مجوزہ نئے نظام کی نفاذ کیلئے قومی اسمبلی اورسینٹ میں باقاعدہ بحث کیلئے پیش کیا جائیگا اور قومی اسمبلی و سینٹ میں موجود دیگر سیاسی جماعتیں ان سفارشات میں ترامیم تجویز کرسکتی ہیں جبکہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ ذرائع کے اس کمیٹی کو بریسٹر ظفراللہ خان لیڈ کر رہا ہے لہذا اس کمیٹی کا نام ظفراللہ خان کمیٹی رکھا ہے جو فائنل ہونے کی صورت میں گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اورسینٹ میں بھی نمائندگی دی جائیگی۔
امور گلگت بلتستان کے ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے موجودہ حکومت کے پاس وقت بہت کم اور مسائلوں نے ذیادہ گھیرے میں لیا ہوا ہے لہذا گلگت بلتستان کے عوام کو اُن کی اُمنگوں کے مطابق حقوق ملنے کا امکان بہت کم نظر آتا ہے کیونکہ 2018 کی الیکشن میں پاکستان کا سیاسی صورت حال بلکل ہی مختلف ہوگا۔ دوسری طرف گلگت بلتستان کے نئی نسل میں بے اختیار صوبائی طرز کے نظام کو ختم کرکے گلگت بلتستان میں بھی آذاد کشمیر طرز کی سیٹ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور وفاق میں بیٹھے کچھ مقتدر حلقوں کا بھی اس حوالے یہی رائے ہے کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے مزید جھوٹ بولنے کے بجائے اگر کشمیر طرز پر سیٹ دیتے ہیں تو فائدہ پاکستان کو ہی ہوگا۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc