ڈبے کا دودھ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد( مانیٹرینگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈبے کے تمام دودھ جعلی اور مضر صحت ہیں کیوں کہ ڈبے کے دودھ میں کینسر کا سبب بننے والا فارملین میں کیمکل کی موجودگی پائی گئی ہے۔ ڈبے کا دودھ انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت کےخلاف سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دورانملک بھر میں دودھ کی پیداوار کے لیے بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں پر پابندی لگا دی گئی۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے بھینسوں کو لگائے جانے والے انجکشن سے کینسر جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں جس کے باعث بچے اور بڑے کینسر زدہ بھینسوں کا دودھ پینے پر مجبور ہیں ۔

یاد رہے گلگت بلتستان میں غیر معیاری ان رجسٹرڈ کمپینوں کے دودھ کی بھرمار ہے جو مارکیٹ میں مشہور کمپنیوں کے نرخ سے کچھ ہی کم قیمت پر فروخت ہوتے ہیں اور عوام سستے کی چکر میں خوشی سے زہریلا دودھ استعمال کرتے ہیں اس وجہ سے گلگت بلتستان میں عجیب قسم کی بیماریاں پھوٹ پڑ رہی ہے جس میں انسان معمولی سی طبعیت خراب ہونے پر لقمہ اجل کو لبیک کہتے ہیں جس کی وجہ غیرمعیاری اشیاء خورنوش اور  جعلی ادویات کا استعمال بتایا جاتا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc