ٹیکس کا نفاذاور حکومت کا کردار۔ تحریر: مظاہر ہلال آبادی

2014 پی پی دور حکومت میں سر زمین بے آئین کے باسیوں پر گندم سبسڈی ختم کرنے کی ناکام کوشش کی گی جس پر عوام نے تاریخی احتجاج اور دھرنے دے کر وقت حکومت کی نیندے حرام کی بل اخر فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوے.عین ایسی طرح وقت حکومت مسلم لیگ ن نے 2017 میں عوام پر ٹیکس ایڈابٹیشن 2012 کا نفاظ مسلط کی. خبر عوام میں جنگل کی اگ کی طرح پھیل گی اور یوں انجمن تاجران عوامی ایکشن کمیٹی حرکت میں ای اور عوام کو اس ظالمانہ اقدام کی خلاف یکجاں کی. دسوں اضلاع میں ہرتال کی کال دی گی اور مکمل شٹرڈاون پیہ جام ہرتال کرتے ہوے تاریخی دھرنوں کا اغاز شروع ہوا ادھر حکومت وقت بھی عوامی طاقت دیکھ کر سر جوڑ میٹنگیں کرنے لگے.پلان کی مطابق مسائل فوری کا حل نہ نکلنے پر 26 دسمبر کو تمام اضلاع سے لانگ مارچ گلگت کی جانب روانہ ہوے. اس اسنا میں حکومت وقت اور انجمن تاجران عوامی ایکشن کمیٹی کا مزاکرات ہوے اور دونوں جانب سے وفد مسائل کے حل کیلے اسلام اباد روانہ ہوے اس دوران انجمن تاجران و عوامی ایکشن کمیٹی نے ٹیکس ایکٹ 2012 کی منصوخی تک عوام کو معمول کی مطابق علامتی دھرنے جاری رکھنے کو کہے. قومی اسمبلی کی قایمہ کمیٹی براے کشمیر و گلگت بلتستان کا اجلاس ہوا جس میں ٹیکس ایکٹ 2012ختم کر کے 2018 کی نی ایکٹ لانے پر اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے .جس کیلے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان نے چھے رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو جلد فیصلہ اگلی کونسل اجلاس میں پیش کرینگے. 2015 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایینی نفاظ کی اصلاحات کی نفاظ کیلے سفارشات مرتب کرنے کیلے کمیٹی تشکیل دی.کمیٹی تین ماہ میں وزیر اعظم کو فیصلہ مرتب کر کے پیش کرنا تھا جو کی بد قسمتی سے بر وقت نہ ہو سکا. جس کا بل اخر نتیجہ یہ نکلا کہ گلگت بلتستان کو اینی یا عبوری یا سینٹ میں کوی نمایندگی نہیں دی جایگی البتہ موجودہ اختیارات میں اضافہ کر دیا جاے گا.دوسری جانب ہمسایہ ملک بھارت موقع سے فایدہ اٹھاتے ہوے گلگت بلتستان کی ایشوز کو اپنے میڈیا پر نشر کرتے ہوے پاکستان کی خلاف بولنے میں کوی کثر باقی نہیں رکھ رہا ہے پاکستان کو غیر مظبوط کرانے کیلئے اور علاقے میں امن کو خراب کرنے کیلئے کوئی حربہ ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا ہے گلگت بلتستان کے غیور عوام ان کے چال کو ناکام بناتے ہوے پاکستان کے پرچم کو ہاتھوں میں لیے اپنے حقوق کیلئے اواز بلند کر رہیں ہیں.حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جس سنجدگی سے مزاکرات کا راستہ ہموار ہے اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ گلگت بلتستان کے پسماندہ غریب عوام منفی دس ڈگری میں سڑکوں پر اپنے حق کے حصول کیلئے کوشاں ہیں بہت جلد رنگ لائنگے. عوام ہر طرح سے احتجاج کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں تاہم امید ہے کسی قسم کی بدامنی پھیلانے کا مرتکب نہیں بنے گی جس سے دشمن کو مزید پروپگنڈہ کرنے کا موقع نہ ملے.حکومت وقت وفاقی سطح پر اس اہم ایشو کو بھی حل کر کے سرخ رو ہونگے اور جب تک آئینی و عبوری سیٹ اب نہ ملے گلگت بلتستان میں کسی قسم کا ٹیکس عائد ہونے نہیں دینگے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc