آج ہم پھر بے روزگار لوٹا!! ذوالفقار علی کھرمنگی

محترم قارئین آج بھی میں روزانہ کی طرف اپنی آب بیتی لے کر بلکل بھی حاضر نہیں ہوا ہوں.البتہ اپنے جیسے دوست کی آب بیتی کو بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں .یقیناً میری تحریر سے اس کی بے روزگاری دور تو نہیں ہونگے البتہ سنا ہے بیان کرنے سے درد تھوڑا کم ہو جاتے ہیں.چلو مختصر مدت کے لئیے ہی سہی درد سے کچھ لمحے کے لئیے تو آذادی مل تو پائے گا.دوسرا بات ہم جیسے چھوٹے دل کے لوگوں کو بھی جینے کا تھوڑا سا سلیقہ مل جائے گا کیونکہ ہماری بھی صورتحال ان سے مختلف نہیں ہے.آج ہماری ملاقات ایک ایسے نوجوان سے ہوئی جو مسلسل تین سالوں سے بے روزگار ہے.موصوف کا کہنا تھا کہ 2013 میں جرنلزم میں ماسٹر کیا ہے.دسیوں جگہوں پر انٹرویو دیا لیکن کامیاب نہ ہو سکا.میں جہاں بھی نوکری ڈھونڈھنے جاتا ہوں وہاں مجھ سے میرے فیلڈ سے متعلق سوالات پوچھنے کے بجائے ایکسپرینس اور ریفرنس کا پوچھا جاتا ہے.وہ اپنی درد بھری کہانی سناتے جا رہے تھے اور ہم بھی ان کی کہانی کو بڑے شوق سے سنتے جا رہا تھا .اصل میں بات میرے دل اور مطلب کی تھی.ہم بھی اسی بستی کے ناکام عاشق تھے جس بستی کے یہ نوجوان بھی کھلاڑی تھے.دکھ و درد جب مشترک ہو تو ایسا لگتا ہے اس پردیس میں ہم کسی اپنے سے ملاقات کر رہے ہو .تو ہماری نظریں لگاتار اسی کی طرف تھا اور وہ بے روزگاری کی روداد سناتے جا رہے تھے.میرے نظریہ ان سے بے حد مختلف تھا میں بے روزگاری کی بڑھتی شرح کو ذمہ دار قرار دے رہا تھا اور اس نے رشوت ,ریفرنس اور سفارش کو مورد الزام دھر لیا. ایک آہ بھری اور دلائل دیتے ہوِئے کہا کہ اگر ان تینوں کی جگہ اگرہمارے معاشرے میں وجود نہیں رکھتا تو آج میں بے روزگار نہیں ہوتا. میں تو کیا معاشرے کا کوئی بھی فرد بے روزگاری کے عذاب سے نہیں گزرتا.ان چیزوں کی وجہ سے اہلیت اور قابلیت کو شکست ملتی ہے.اور اہل افراد مایوس ہو جاتا ہے تب وہ کسی کام کا نہیں رہتا.جب معاشرے میں اہلیت کی بنیاد پر فیصلے ہونا شروع ہو جائے تو دیکھ لیجے گا بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا.بات اس کی بلکل صیح تھا میں نے اب ان کے دلیل کے سامنے اپنا کمزور سا دلیل پیش کرنے کی کوشش بھی نہیں کی.کیونکہ واقعی میں ان کی دلیل میں تین سالوں کی محنت تھی.میں نے اسے مذاقاً کہا آپ کو اتنا عرصہ بے روزگار رہنا کا ایک فائدہ تو ہوا ہے آپ بہت اچھے تجزیہ نگار بن چکےہیں.ایک حسین مسکراہٹ کے ساتھ جدا ہوئے شاید آج انہیں احساس ہوا کہ اس سفر میں وہ اکیلے نہیں ہے. چونکہ ہم دونوں آج ساتھ ہی کسی ادارے سے بے روزگار نکلے تھے.وہ تو چلا گیا لیکن ہم ان کے نام بھی پوچھنا بھول گئے تھے.شاید درد غم ہم دونوں کے شدید تھے ہمں ایک دوسرے کا تعارف کرنے یا بھی خیال نہیں آیا.اس نے مجھے اور معاشرے کو سبق دے کے چلا گیا.تو کیوں نہ ہم آج سے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں.کیوں نہ ہم میرٹ کی پامالی کے خلاف صدائے احتجاج کرتے ہیں .ہمیں بس اپنے ذمہ داری سمجھ لینے کی ضرورت ہے.ہم ہی معاشرے کے وہ فرد ہے جو رشوت ستانی و سفارشی کلچر کو پرموٹ کرتے ہیں .ہم میں سے ہر شخص کا کہیں نہ کہیں کردار ان کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بن جاتا ہے.تو آج سے کیوں نہ ہم تہیہ کرتے ہیں کہ ہم ہر اس نظام کی مخالفت کرینگے جو دوسرں کے حق کو روک دیتے ہیں .اسی دعا کے ساتھ خدا ہر بے روزگار کو روزگار دلانے کے لئے کردار ادا کرنے کی توفیق ادا کریں.

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc