ٹیکس ایداپٹیشن ایکٹ کی معطلی ، جزوی کامیابی ہے۔ تحریر: انجینئر شبیر حسین

ایک بات جو میں اس سے پہلے دانستہ چھپاتا تھا وہ یہ ہے کہ میں گلگت بلتستان میں ٹیکس کے نفاذ کے ایک حوالے سے حامی ہوں، مگریہ بات ظاہر نہ کرنے کی ایک وجہ تھی ، وہ یہ کٓہ اس ٹیکس مخالف تحریک سے ایک طرف تو عوام میں اپنے حقوق کے حوالے سے بیداری کی لہر اٹھی اور دوسرا ہماری عوام جو ستر سالوں سے اپنے متنازعہ سٹیٹس کی حقیقت سے آنکھیں چرا کر” صوبہ” نام کے ایک سراب کے پیچھے چل رہی تھی اس سے ہاتھ کھینچ کر متنازعہ سٹیٹس والے حقوق مانگنے میں لگ گئے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں ہم نے ایک لحاط سے اپنے عوام میں اپنی متنازعہ حیثیت واضح کر کے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے ، مگر کیا متنازعہ سٹیٹس کا ادراک ہی ہمارا ہدف ہے ؟ بلکل نہیں ، اسی لئیے میں نے اس اڈاپتیشن ایکٹ کی معطلی کو جزوی کامیابی قرار دیا اس لئیے کہ مین سجھتا ہوں کہ اب ہمیں متنازعہ حیثیت کے تمام تر حقوق کا مطالبہ کرنا ہے ، ہمارے لیئے اپنے لوگوں کو اپنی متنازعہ سٹیٹس کو سمجھانا ایک چیلنج سے کم نہیں تھا اور یہ سمجھانا کہ ہم مسئلہ کشمیر سے جڑے ہوۓ ہیں ، پاکستان ہمارے وسائل کو تو اپنا لے گا مگر ہمیں کبھی نہیں اپناۓ گا تب تک ، جبتک کشمیر ہتھیانے کے اسکے نا ممکن خواب سے آنکھیں نہیں کھل جاتی، ہم جتنی جلدی اس حقیقت کو کلی طور پر تسلیم کریں گے کہ مستقبل قریب میں مسئلہ کشمیر کے حل کا کوئی امکان نہیں اور ہمیں ایسے ہی لٹکے رہنا ہے اور جتنا عرصہ جو میرے خیال سے لامتناہی ہے ہم لٹکے رہیں ہم حقوق سے محرم رہیں گے جب تک ہم اس ناممکن نعرہ یعنی “صوبہ” بناو سے جان نہیں چھڑاتے۔۔ اب آتے ہیں کہ میں ٹیکس دینے کا حامی کیوں ہوں ۔ اس کی دو وجوہات ہیں ، ایک وجہ یہ ہے کہ اس سے ہم کسی حد تک اپنے ذرائع آمدن بنانے کی ابتداء کریں گے تاکہ اپنا صوبہ نماٰء علاقہ وفاق کے گرانٹس سے کسی حد تک آزاد ہوں دوسری وجہ یہ ہے کہ مین سمجھتا ہوں کہ اس وقت ہم جو ان ڈائریکٹ ٹیکسز دے رہے ہیں جی ایس ٹی وغیرہ کی مد میں جس کا ہمیں معلوم ہی نہیں جو اربوں میں بتایا جاتا ہے کی واپسی کی بات بھی کریں گے ، کیونکہ جب آپ کی جیب سے براہ راست پیسے نلکیں گے تو اپ دوسرے ذرائع سے اپ سے لیئے جانیوالے ٹیکسز کی واپسی کی بھی بات کریں گے ، ورنہ عام آدمی کو اس حوالے سے پتہ ہی نہیں چلے گا کہ 17یصد سیلز ٹیکس ہم سے ہر چیر پر لیا جا رہا ہے ۔ اگر ہم ان ٹیکسز کیلئے لڑتے ہیں جو ہم نے بلواسطہ لیا جا رہا ہے اور اس مین سے 50 فیصد بھی لینے میں کامیاب ہوتے ہیں تو ہمارا موجودہ بجٹ دوگناہو گا ، لہذا اس حوالے میں ٹیکس دینے کے حامی ہوں ، مگر کیونکہ ہم متازعہ ہیں اس لئیئے ٹیکس پر سوال اٹھتا رہے گا، اور جتنا سوال اٹھتا ہے اتنی ہی ہماری قومی حقوق کیلئے اہم ہے ۔ میری خواہش ہے حکومت اس طرح کے پنگے کرتی رہے اور ہمیں سڑکوں ہر آنے کا موقع دیتی رہے ، عوام یاد گار چوک سکردو ، گلگت، دیامر ، غذر ، استور، ہنزہ، نگر ، شگر ، کھرمنگ ، گنچھے کی بازاروں کی رونق بڑھتی رہے اور ہمارے لوگ ہمارے حقوق کی پامالی سے آگا ہوتے رہیں ، اور ایک دن ایسا آئے کہ حقوق کی راہ میں رکاوٹ بننے والے اور حوق کے غصب کرنے والے اس عوامی طاقت کے غیض و غضب کے پاوں تلے کچلے جائیں ، مجھے یقین ہے کہ وہ وقت آۓ گا اور بہت جلد آۓ گا ، مگر بیداری شرط ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc