شخصیت سے ملیئے.تحریر : ایڈووکیٹ شکورخان

نومبر کی کو‏ئی تاریخ تھی، یخ بستہ ہوائیں خزاں رسیدہ پتے اڑا رہی تھی۔ گھر میں والد میں اور ایک چھوٹا بھائی تھا۔ سکول سے آنے کے بعد بھیڑ بکریاں، ڈھورڈنگر ڈھونڈ لانے کی زمہ داری میری یا والدہ کی تھی۔ مال مویشی ڈھونڈنےپہاڑیوں کی طرف نکلتا تو شمال سے آنے والی سرد ہوائیں بدن کو چیرتی ہوئی گزرتی، کپکپی سےدانت بجنے لگتے، قمیض اوراکلوتی سویٹر سے سرد ہواوں کا مقابلہ نہ ہوسکتا تھا، بھرکوھلتی یاسن سب ڈویژن کا دوسرا بڑا گاؤں ہے، 70 کی دھائی میں گاؤں میں صرف تین دکانیں تھیں، بچوں کےلیے کوٹ اس سال کسی دکان سے دستیاب نہ ہوا۔ ان دنوں پیسوں کا رواج نہ تھا مال کے بدلے مال کی تجارت ہوتی تھی، لوگ سال بھر ادھار خریداری کرتے اور ستمبرکےمہینے سے زرعی اجناس یعنی گندم، جو، خشک میوہ جات، مال مویشی، دیسی گھی وغیرہ سےقرضےاتارتے اور ضرورت کی چیزیں دستی دستی خرید لیتے تھے۔
گاؤں میں عدم دستیابی کی وجہ سےبالآخر چائے کی پتی اور کوٹ کےلئے والد نے طاؤس جانے کا فیصلہ کیا،
والد نے گندم سے بھرا نمدا گھوڑے پر لاد کر مجھےبھی سوار کرایا اور خود باگ تھام کر چل پڑے۔ طاؤس پہنچ کر والد نے گندم ایک جاننے والے دکاندار کو دیا، تولنےسےفارغ ہوکر دکاندار بولا: کیا لو گے؟ والد نے کہا: بچے کو کوٹ اور چائے کی پتی دیں، بھورے رنگ کا ایک کوٹ دکان کی چھت سے جھول رہا تھا جے دکاندار بید کی چھڑی سے اتارنے لگا۔ میں دکاندار کو روکنا چاہا اور گودام نما کونے کی طرف اشارہ کرکے کہا : دکاندار چاچا وہاں سے کوث دےدو، یہ والا اچھا نہیں ہے، یہ سن کردکاندارنےغصے سے میری طرف دیکھا اور سپاٹ لہجے میں بولا: بچے! ادھر کا مال بکنے کے بعد گودام سے مال اٹھاتا ہوں، یہ کاروبار کا اصول ہے، میرے گودام میں بہت مال ہے، کیا ایک ایک کرکے تجھے دکھاؤں؟ دکانداری کا اصول یہ نہیں ہوتا، سمجھے! یہ کہتے ہوئے وہی ناپسندیدہ کوٹ زبردستی تھمایا، میرا تودل ہی بجھ گیا اور کن آنکھوں سے پار الماریوں میں تہہ کئے ہوئے شوخ رنگ کوٹوں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتا ہوا دکاندار کا تھمایا کوٹ بادل ناخواستہ پہننے لگا جو میرے سائز سے کافی بڑا تھا۔ بات جاری رکھتے ہوئےوہ بولا: دکانداری کے کچھ اصول ہوتے ہیں تم لوگوں کو کیا پتا، وہ مزید بھی کچھ کہےجارہا تھا کہ والد نے دکاندار کی لکچر نظرانداز کرتے ہوئے پوچھا: کوٹ کی قیمت بتاؤ، دکاندار بولا، پندرہ روپے، اس سے رعایت کی درخواست کی گئ تو وہ بولا: یک دام واحد کلام، یہی دکانداری کا اصول ہے۔ ہمارے پاس دوسرا آپشن نہ تھا، چاروناچار میر کے اس مصرعے کے مصداق کہ: “مستند ہے میرا فرمایا ہوا”۔ ہم نےدکاندارکےفرمان کر قبول ہے قبول ہے کہتے ہوئے چائے کی پتی بھی لی اور اس سر تا پا اصولی شخص سے رخصت ہوگئے، والد گھوڑے پہ سوار ہوئےمجھے بھی سہارا دے کر سوار کرایا اور گھوڑا چل پڑا، ان دنوں طاؤس سے آگے سڑک موجود نہیں تھی اس لیے گھوڑسواری کا عام رواج تھا۔ میں اس دن کے ایڈوینچر سے ذرا بھی خوش نہ تھا، اگلی صبح کوٹ پہن کر سکول گیا، ہم جولیوں نے کوٹ کی تعریف کی لیکن آپس میں کسھر پھسر کرکے قہقہے لگایے اور کن اکھیوں سے کوٹ کی طرف دیکھنے لگے، مچل بولا: شکورخان: کوٹ میرے سائز کا ہے تم ابھی چھوٹے ہو اسےسٹور کی کھونٹی پہ چڑھا دو، دو سال بعد اتار کر پہن لینا، بازمحمد بولا: بےچارے کوغصہ مت دلاؤ یارو! ابھی اتار کےدریا برد کردے گا اورسردیوں میں یونہی ٹھٹھرتا رہےگا۔ مچل حال ہی میں وفات پا چکا ہے جبکہ بازمحمد جو باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، دریا کےاوپر دھری سفیدے کی باریک شہتیر سے پھسل کرپانی میں گرا تھا، وہ میری آنکھوں کےسامنے پانی کے تند وتیزموجوں کی نظر ہوگیا, مجھےرہ رہ کےدکاندار کی الماریوں میں ٹھونسے رنگ برنگی کوٹ اور اس کا کرخت چہرا یاد آتا اور میں دکانداری سے متعلق اس کے سنہرے اصول زور زور سے دھرانے لگتا: ایک دام واحد کلام، میری دکان میں مال بہت ہےتجھےکیوں دکھاؤں، یہ دکانداری کا اصول نہیں وغیرہ وغیرہ گنگنانے لگتا۔ انہی دنوں افواہیں تیزی سےگردش کرنےلگیں کہ ہمارے گائیڈ کا استاد حاضرشاہ بلبل ولیجیٹ نامی عوامی دکان کھول رہا ہے جس میں چیزیں سستی مل جایا کریں گی، یہ سن کرہم بچے تجسس اور خوشی کے ملےجلےجزبات کا اظہار کرنےلگتے۔ ایک دن ہم بچوں نےسکول جاتے ہوئے سکول کے دروازے کے ساتھ والی بند دکان کے سامنے لوگوں کا ہجوم دیکھا، ہم نے اس جانب دوڑ لگائی، قریب جاکر دیکھا وہاں سودا کا ڈھیر لگا تھا، بوریوں میں بھرے گڑ، مٹھائی اورکھرپرا کے بےشمار تھیلے، تیل سرسوں اورتیل مٹی کےجرکین، ہارڈویر کا سامان، رنگ برنگ کپڑوں کےتھان، جوتے، جرابیں اور۔۔۔۔اورقوس ‍‍قزح کی مانند بےشمارشوخ رنگوں والےکوٹ بکھرے پڑےتھے۔
میں بھوک سےنڈھال پرندے کی طرح جھپٹا ، ایک ایک شوخ رنگ کوٹ اپنےننےہاتھوں میں تھام لیتا اورحسرت کے ساتھ واپس رکھ دیتا، سوچا، میرے والے سےیہ کوٹ تو بہت اعلی ہیں، ان کی قیمت بھی میرے کوٹ کی قیمت سے دوگنی ہوگی، ویسےتو میرے ابو ہم بچوں کی ہرمعصوم خواہش پوری کیا کرتےتھےلیکن اس دفعہ یقین نہ تھا کہ قلیل وقفےسے وہ دوسرا کوٹ بھی لےدیں گے۔ سبزکوٹ مجھے خوب بھا گیاتھا جسے پہلےہی الٹ پلٹ کر واپس رکھ چکا تھا، اسےدوبارہ دیکھنے کو جی مچلنےلگا لیکن انجانا سا خوف دامن گیر تھا، شائد طاؤس والے دکاندار کا کراخت چہرہ اور سپاٹ لہجہ میرے ننھے ذہن کو دبوچ رہا تھا۔ لیکن۔۔۔۔ بےخطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق ! میں نےلرزتے ہاتھوں سبزکوٹ کوچھوتےچھوتے پھرسے جھپٹ کراٹھالیا، اور اسی لمحے ننےکاندھےپرکسی کے بھاری بھرکم ہاتھ کا لمس محسوس ہوا، خوف سے ریڑ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑگئ، بمشکل مڑ کےپیچھے دیکھا، ہاتھ حاضرشاہ بلبل کا تھا، وہ پیار سے میری طرف دیکھ رہےتھے اور مسکرائے جارہےتھے، وہ شائد میری ذہنی کیفیت جان چکےتھے، بولے: بہت اچھا کوٹ ہے، لےلو، ہاتھ کےلمس کےساتھ ہی جس تیزی سے خوف سرایت ہوچکا تھا ان پرنظرپڑتےہی اسی تیزی سے رفوچکربھی ہوگیا، البتہ میں چھینپ سا گیا اور دبےلفظوں میں کہا: کوٹ کتنے کا ہے؟ وہ بولے، تین روپے کا ! یہ سن کر میں پھولےنہیں سما رہا تھا ،اتنا سستا کوٹ؟ یقین نہیں آرہا تھا، وہ مزید برلے: یہ کوٹ اڈھائی روپے کا پڑا ہے، چار آنے اور رعایت کروں گا یعنی پونے تین۔ میں تیزی سے بولا: نہیں نہیں پورے تین روپےہی دوں گا، میں یہ اپنا والا طاؤس سے پندرہ روپے کا خرید لایا ہوں، بلبل بولا: بیٹا، مجھے معلوم ہے، ایک نہیں، یہاں ہر دکاندار دس گنا مہنگا کرکےسامان بیچ رہا ہے، یہ لوگ کسانوں کے ذرایعے پیداوار کو مٹی کے بھاؤ خرید کر دوسروں کو تگنی قیمت پر دیتے ہیں، دکانداروں کےظلم سے کسانوں کو نجات دلانے کےلیےمیں لوگوں کےتعاون سےیہ دکان کھول رہا ہوں، کسانوں کے اجناس اچھی قیمت پہ خرید کر کم سےکم منافہ لےکربیچوں گا، وقت کےان فرعونوں کو بہت جلد سدھرتے دیکھوگے، جو راہ راست پر نہ آیا وہ گاہکوں کی راہ تکتا رہ جائےگا یوں اس کا ظلمت کدہ بالآخر بند ہو جائےگا، بچے بڑے سب بلبل کی گفتگو سن رہے تھے، تین روپے دام سے میں ذرا بھی نہ گھبرایا ، سوچا، کل گندم یا جو کا غلہ لا کر اس کی قیمت ادا کر کے لے جاؤں گا، یہ سوچ کر میں بولا: جی، میں کوٹ کل لےجاؤں گا، یہ سن کر بلبل مسکرایا، کہنےلگا، کوٹ ساتھ لیتے جانا، تجھےدام کی فکر کیوں ہےیہ میرا اور تمہاے ابو کے درمیان کا معاملہ ہے، تم جاؤ میں کوٹ لےکر بھاگم بھاگ سکول پہنچا، کوٹ ناپسندیدہ اتار کر بستے میں ٹھونس کر نیا کوٹ زیب تن کیا تو سکول کےصحن میں واہ واہ کی آواز گونجی، مجھے یوں لگا کہ میں سبز رنگ میں نہا گیا ہوں اور میرے ساتھ سارا جہاں سبزہ زار بن چکا ہے۔ نو سالہ بچہ جس کو ایک کہنہ سال دکاندار نے چند اصول سکھائے تھے یعنی “یک دام واحد کلام” یعنی 15 روپے سے قیمت کم نہ ہوگی، دوسرا، گاہک وہی چیز لینے کا پابند ہےجو دکاندار پیش کرے، چھانٹی یعنی سلیکشن کی اجازت نہیں دی جائے گی، میرا معصوم ذہن ان کاروباری اصولوں پر ایمان لا چکا تھا، آج بلبل نے اس تازہ ایمان و یقین پر پوری قوت سےضرب لگائی کہ ایمان متزلزل ہوگیا، کچا ایمان بلبل کا کاری ضرب سہہ نہ سکا، یوں کرچی کرچی ہوکر مٹی میں مل گیا۔ ایک اجنبی کاروباری نے جو زخم دیے تھےوہ بلبل کےپیاربھرے مرہم نےلمحوں میں بھردیےتھے۔  آج سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ حاضرشاہ بلبل بیمار ہوکر راولپنڈی کےکسی ہسپتال کے کارڈیالرجی یونٹ میں داخل تھےاور پیس میکر امپلانٹیشن کےبعد ڈسچارج کردیےگیےہیں، یہ جان کر بےحد دکھ ہوا اور ساتھ ساتھ ان سےوابستہ یادیں ذہن میں فلم کی طرح چلنے لگیں۔ یاسن میں معاشی انقلاب کے حوالےسے جب بھی تاریخ لکھی جائےگی تو اس میں دو ہی نام ملیں گے ایک آغاخان رورل سپورٹس پروگرام اور دوسرا حاضرشاہ بلبل۔ اس ادارے اور اس شخصیت نے عام آدمی کی معاشی زندگی میں معاشی انقلاب برپا کیا۔ بلبل نےمحض امداد باہمی سے سوسائٹی قائم کرکےسستہ کاروبار ہی متعارف نہیں کرایا بلکہ یاسن میں جدید زراعت اورباغبانی کے بھی بانی وہی ہیں۔ قدیم روایتی فصلوں میں آلو کی فصل کا اضافہ بھی ان کےسر ہے، کسانوں کو بیج فراہم کرنے کے ساتھ انہیں منڈیوں سے بھی متعارف کرایا، سیب اورچیری کے پودے کسانوں کو دہلیز پر فراہم کرکے انہیں باغات لگانے کی ترغیب دیں۔ ترمیوہ جات کو خشک کرنے کا میکنیزم فراہم کیا، خشک میوہ جات کو بڑی منڈیوں اوربعد ازاں بین الاقومی مارکیٹ تک رسائی کا اہتمام بھی کیا، دور دراز شہروں سے زیادہ دودھ دینے والی گائےاوربکریاں گاؤں لاکر‏‏عوامی سطح پر پالنے کی کوشش کی جس میں بوجوہ کامیابی نہ ہوسکی۔ بھرکوھتی گاؤں کی شادابی اور کسانوں کی خوشحالی بلبل کا خواب تھا اوراس خواب کی تعبیر کےلیے ان کے زرخیز ذہن میں پلان موجود تھا۔ گاؤں کےجنوب میں دریائےتھوئی کےجانب شرق اوردریائےدرکوت کی غربی جانب وسعی وعریض اراضی بنجرپڑی تھی، اس زمین پر چند اشخاص اورگروپوں کا دعوی تھا، بلبل نےاپنی ذہانت، دوراندیشی اورعوامی تعاون سےدعوی کنندگان کوقابو کرکےہزاروں کنال زمین سینکڑوں مفلوک الحال کسانوں میں پانچ پانچ کنال فی گھرانہ کےحساب سےتقسیم کیں، اور کسانوں کےساتھ زمین کی خریدوفروخت پرپابندی کا معاہدہ بھی کیا تاکہ غریب کسان کسی وقتی احتیاج کےہاتھوں بیچ کر زمین سےہاتھ نہ دھو بیٹھے۔
آج ہرکسان کےپاس جنگل بھی ہے اورمویشی کےلیے قدرے چارہ بھی۔ جاڑے کا موسم اورسرد شامیں ہیں اورٹمپریچرمائنس دس اوربیس کےدرمیان، بچوں نےجنگل سےخوب لکڑی لا کرجمع کیا ہے، لکڑیاں آتش دانوں میں جھونکی جارہی ہے، آگ دھک رہی ہے، شولےلپک رہےہیں، کھانے بھی اسی آگ پرہی پکائے اورکھائےجارہےہیں ،مہمانوں کی خاطرتواضع کی جارہی ہے، خشک و ترمیوہ دسترخوان کی زینت بنے ہیں، طرح طرح کے موضوعات پر گفت وشنید جاری ہے، ایسےمیں بلبل کویاد کرنےوالے کتنے ہوں گے؟ کیا ہرایک کو احساس ہوگا کہ اس جلنےوالی آگ، اس پرپکنے والی ترکاری اور سرو ہونےوالے انواع اقسام کےمیوہ جات خشک و تر کی دسترخوان پر موجودگی بلبل کی کاوشوں کی مرہون منت ہے۔ بلبل بھرکوھلتی میں پیدا نہ ہوتا توگاؤں کی معاشی ترقی کی سوئی کافی پیچھے کھڑی ہوتی، اس نےعام آدمی کوفرسودہ سوچوں سےچھٹکارا دلا کرنئی سوچ دیں ،معاشی ترقی کی نئی راہیں دکھائیں، اس نےتقاریراورباتیں کم کیں عمل زیادہ کیا۔ حاضرشاہ بلبل کی زندگی اورخدمات پرکتاب لکھنےسےان کی زندگی کےبہت کم پہلووں کا احاطہ ہوگا، اس کے لیے کئ کتابیں، مضامین اورمقالےدرکارہوں گے۔ جوکچھ بتایا گیا ہےوہ اس مرد کی شخصیت کےچند پہلو ہیں۔ ہمارے ہاں شخصیت اورجسامت کوگڑمڑ کیا جاتا ہے، بعض ناسمجھ فربہ اندامی اورخوش لباسی کو شخصیت کہتےہیں۔ فربہ اندام تنومند کم عقل ہرمحلےمیں پائےجاتےہیں لیکن بلبل جیسی کردار کی حامل شخصیت لاکھوں میں ایک ملےگی۔ اس عظیم انسان کےساتھ راقم کی نہ رشتہ داری ہے نہ خاص قربت، بلکہ ایک نہیں دو بار ان کی مشاورت سے آلو کاشت کرکے منڈی میں مندی کی وجہ سے خاصا نقصان اٹھایا اور سال بھر کی آمدن سےہاتھ دھونا پڑا تھا، بلبل پلاٹ کسانوں میں تقسیم کررہےتھےراقم نے بھی پلاٹ کی خواہش ظاہرکی تو موصوف نے صاف انکار کردیا تھا۔ راقم بروشال پبلک سکول کے بورڈ کا چیرمین تھا۔ سکول کی نئی عمارت کےافتتاح کےلیے شخصیت کے انتخاب کےموقعےپر ہم نےکسی اثر رسوخ کےحامل سیاسی یا مالدارشخص پر معروف سوشل شخصیت کو ترجیع دیں اور وہ بلبل کےسوا کون ہوسکتا تھا! انہیں کےدست مبارک سے فیتہ کاٹ کر افتتاح کیاگیا۔ بلبل کی تعلیم واجبی سی ہے، وہ نہ پیشہ ور کاروباری ہےنہ زیادہ مالداراور نہ سیاسی، ان کا شمار گاؤں کے عام لوگوں میں ہی ہوتا رہا ہے کیونکہ خود کو انہوں نے کھبی نمایاں نہیں کیا۔ وہ نام نہاد لیڈر جوبات غریب کی کرتےہیں اور اٹھتے بیٹھتے ہمیشہ اپنے جیسے امیروں کے ساتھ ہیں اور کام بھی انہی کا ہی کرتےہیں، ایسےلوگ شخصیتیں نہیں ہیں۔ ہمیں چاہیےکہ ہم بلبل جیسی حقیقی شخصیتوں کے مرحومین ہونےکا انتظار نہ کریں بلکہ زندگی ہی میں ان کی قدرجانیں، ان سےسیکھیں، ان کی خدمات کوسراہیں اوران کےنقش قدم پرچلیں ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc