نیا ٹیکس ایکٹ لانے کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی و انجمن تا جران کا کاندھا بھی استعما ل کیا جائے گا۔

گلگت (پ،ر  )پارلیما نی کمیٹی ، انجمن تاجران اور ایکشن کمیٹی کے مابین ہو نے والے معاہدے اور سفارشات میں سے منر لز پالیسی اور بلا واسطہ شقوں کو نکالنے کے بعد ایکشن کمیٹی و انجمن تاجران کے کور کمیٹی میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا ہے اور حکومت کی جانب سے ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012کو ختم کر کے نیا 2018کا ایکٹ لانے پہ اتفاق ہو ا ہے ۔ایکشن کمیٹی و انجمن تاجران کے ذرائع کے مطابق مزید ایک دن حکومت کو دینے پہ اتفاق ہوا ہے اور جو وعدہ پارلیما نی کمیٹی نے کیا ہے اس پر سینئر وزیر حا جی اکبر تابان سے استعفیٰ کا مطا لبہ کیا جائے گا اور نیا ٹیکس ایکٹ لانے میں حکومت ایکشن کمیٹی و انجمن تا جران کا کاندھا استعما ل کیوں کر نا چا ہتی ہے ۔ زرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ تین نکاتی ایجنڈے پہ اتفاق ہوا ہے اگر ان تین شقوں میں سے ایک بھی شق نکال کر نئے ٹیکسز کے نفاز کے لیئے ایکشن کمیٹی و انجمن تا جران کا کاندھا استعما ل کر نے کی حکومت نے چا لا کی کی تو حکمرانوں کا ائیر پورٹ پر ہی گھیراوکیا جا ئے گا ۔ زرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے نیت میں فتور پا یا جا رہا ہے جس کے بدلت دو شقوں کا نکال کر نئے انکم ٹیکسز سمیت دیگر ٹیکسز کا نفاز چا ہتی ہے جن دو شقوں کو نکال کر حکومت نے نو ٹیفیکشن کے لیئے سمر ی تیار کی ہے اس سمری پہ کور کمیٹی نے عدم اعتماد کیا ہے اور اس قسم کے فراڈ پہ ایکشن کمیٹی و انجمن تا جران ہر گز خاموش نہیں رہینگے اور اب ہم نے حکومت کی چا لا کی کو بھانپا ہے اس طرح حکومت اندھیر ے میں رکھ کر الفاظ کی ہیرا پھیری کر کے سمری تیار کر کے نیا ٹیکسز لگانے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتا ئج بر آمد ہو نگے ۔ زرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ جن شقوں پہ ایکشن کمیٹی و انجمن تاجران کا اتفاق ہوا ہے اس کے علاوہ کسی بھی قسم کا کوئی بھی نیا نو ٹفیکشن منظور نہیں ہے اور جو بھی نئی سمری ہو گی اسے ایکشن کمیٹی و انجمن تاجران کے چیئر مین و صدور کو دکھا کر اعتماد میں نہیں لیا گیا تو اس سمری کو ہم اپنے جو تے کے نوک پہ رکھتے ہیں اور اس کے بعد حکومت کے ساتھ ملاقات عوامی عدالت میں ہو گی ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc