ٹیکس کو مارو گولی اور اُٹھ جاو اپنے حق کیلئے۔ تحریر : انجئنیر شبیر حسین

میں اس بات پر خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ حکومت ٹیکس ایشو کو لٹکا کر عوام کو اپنی دانست میں تھکا رہی ہے اور عوامی ایکشن کمیٹی کو ٹیکس آڈاپٹیشن ایکٹ کے خاتمے کا کریڈٹ جانے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے ، میرے جیسے ایک بندے کیلئے جس کا مسئلہ دراصل ٹیکس نہیں یہ بڑی خوش آئیند بات ہے کہ حکومت اس ایشو کو لٹکا کر حق پرست اور حقوق کے حامیوں کو یہ موقع فراہم کررہی ہے کہ وہ عوام میں اہنے حقوق کے حوالے سے مزید شعور اجاگر کرے اور عوام اپنے آئینی حقوق کیلیے ایک بار پھر سے پوری طاقت کے ساتھ اٹھ جاے ، گلگت بلتستان میں جب ہماری غیرتمند قوم نے اپنی زیادتیوں پر آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا اور سڑکوں ، چوراہوں ، بازاروں میں نکل کر احتجاج شروع کیا تو اسلام آبا راولپنڈی میں مقیم گلگت بلتستان کے سپوتوں نے بھی اسلام آباد پریس کلب کے سامنے جمع ہو کر احتجاج رکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا ، جب جب بندہ ناچیز کو کچھ بولنے کا موقع ملتا ، کوشش کرتا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو جوڑ کر وہاں پر جمع افراد اور سننے اور “رکارڈ”کرنے والوں کئ خدمت میں اپنا اصل مسئلہ پہنچانے کی کوشش کروں ، یعنی ہمارا مسئلہ در اصل گلگت بلتستا ن کی خود مختاری، ہمارے وسائل پر ہمیں حق تصرف ، ہمارے معدنیات پر ہمارا قبضہ ، ہماری زمینوں پر ہمارا حق ملکیت ، ہماری نوکریوں پر ہمارے لوگ ، ہمارے دریا ہماری ملکیت ، سی پیک میں ہمارا پورا پورا حصہ ، سٹیسٹ سبجیکٹ کی حکومت پاکستان کے اپنے موقف کی تحت بحالی کیونکہ ہم حکومت پاکستان کے بقول کشمیری ہیں ، ہمارے عوام پر ہماری اپنی حکومت ، ہمارا سیاچن ہمارا اپنا ، ہمارا سوست ہمارا اپنا ، ہمارا کے ٹو ہمارا اپنا ، ہمارا دیوسائی ہمار اپنا، ہمارا شنگریلا ہماری ملکیت ، ہماری جھیلیں ہماری اپنی ، ہمارے پہاڑ ہمارے اپنے ، ہمارا سونا ہمارا اپنا ، ہمارے صحرا ہمارے اپنے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ اپ اپنی دانست میں اپنے منفی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوام کو تنگ کر رہی ہے مگر ہمارے حساب سے آپ ہمیں اپنی عوام تک ہمارے یہ پیغام پپہنچانے میں ہماری مدد کر رہے ہیں ۔ نواز شریف نے 134 دن کا دھرنا دینے کی اجازت دے کر پوری قوم پر یہ آشکار کرنے کا موقع دیا تھا کہ وہ خود دنیا کے سب سے بڑے چور ہیں اور پاکستان کو قرضون میں جکڑ کر مالا مال ہونے والے حکمران ہیں ،بلکل اسی طرح ان کے پیرو کا آج جی بی عوام کو اپنے عقلمند آقا کے نقش قدم پر چلتے ہوۓ ایسا ہی موقع دے رہے ہین کہ وہ یہ جان لے کہ ہمارے کون کون سے حقوق ہین جسے ہم سے چھینا گیا ہے ، دنیا کس کس طرح کے حقوق کے مزے لیتی ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ دنیا میں کس کس طرح کی آزادی ہے اور ہم کس قید میں ہیں ، دنیا کہاں پہنچی ہیں اور ہم کہاں ہیں ، مین شکریہ ادا کرتا ہوں اس حکومت کا جو عوام کے اصل قائدین کو ان کے پیغامات عوام تک پہنچانے اور عوام کو اپنی اگلی منزل کیلئے تیار کرنے میں مدد کر رہی ہے ۔ گلگت بلتستان والو خوش ہو جاو اور اس موقع سے فائدہ اٹھاو ، عوام کو بتاو ، دنیا نے سیلیکان کے انقلاب سے انسانی جسم کے مردہ حصوں کو دماغ سے جوڑ کر زندہ کرنا شروع کر دیا ہے ، دنیا مریخ پر پہنچی ہے ، دنیا نے روبوٹ سے باقاعدہ کام لینا شروع کر دیا ہے ، دنیا نے اپنی جان بچانے کیلئے ڈرون کا استعمال بڑھا دیا ہے ، دنیا اب گندھے کام نہیں کرے گی بلکہ اس کیلئے روبوٹ بناۓ ہیں ، مگر ہمارے پاس ان سب کی ا،ب سکھانے کا ادارہ اب تک موجود نہیں ، دنیا نے انسان کے کروموسومز کی مدد سے انسان کی فوٹو کاپی یعنی کلون بنایا سیکھا ہے ، دنیا نے ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے بے اولادوں کو اولاد کی نعمت سے نوازنا شروع کیا ہے ، دنیا نے دل ، جگر ، گردے تبدیل کرنے شروع کئیے ہین مگر ہمارے ہاں میڈیکل کی تعلیم کا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے ، دنیا سائنسدان ، فلسفی ، تاریخ دان ، فنکار ، اداکار ، مصنف اور مفکر بنا رہی ہے مگر ہمارے ہاں اسی نیت سے بناے والی یونیورسٹی میں تین ڈیپارٹمنتس میں کل ایک سو اسی طلباء کو داخلہ دیا جاتا ہے ، جو ایک اچھے سکول میں نرسری کے طلباء کی تعداد کے برابر ہے ، جی بی والو اگر اپکو کسی نے اپنی تقریر مین یہ باتیں نہین بتائی تو میری اس ٹوٹی پھوٹی تحریر سے جان لو کہ دنیا کھانے کیلئے سب سے اچھے کا انتخاب کرتی ہے جبکہ آپکو سڑا ہوا گندم ، سڑا ہوا پھل وہ بھی مہنگے داموں ، دو نمبر آئیل ، دو نمبر دوائیاں ، ملاوٹ شدہ گھی ، پاوڈر کی دہی ، انتریون کی کوکنگ آئل ملتی ہے ، جان لو یہ سب اور گولی مارو ٹیکس کو اور اٹھ جاو اپنے حق کیلئے ، اٹھ جاو اپنی شناخت کئلئے اٹھ جاو اپنی تعلیم کیلئے ، اٹھ جاو یونیورسٹی کے حصول کیلئے ، اٹھ جاو ٹیکنکل اداروں کے حصول کئلئے ، اٹھ جاؤمیڈیکل کالج کیلئے ، اٹھ جاو وومن یونیورستی کئلے ، اٹھ جاو اور چھین لو اپنا حق ، ہم دربدر ہوۓ ، تعلیم کیلیئے مزدوری کیلیے ، روزگار کئلیے۔ کیا آنے والی نسلوں کو بھی اپنی طرح دربدر کی ٹھوکریں کھانے کئیلیے چھوڑ دو گے ، نہیں جناب ، اب نہیں تو کبھی نہیں ، یہ سی پیک کا دور ہے ، اور سی پیک کی ابتداء ہے منوا لو اپنا سب کچھ ، بعد میں کچھ نہیں ملے گا ، سی پیک کی تکمیل کیبعد اٹھ گیا تو تمہں ایجنٹ ، بھارتی و امریکی جاسوس کہ کر کال کوٹھریوں کے نذر کردئیے جاو گے ، آج اٹھو اوراپنا حق لو ورنہ کل تمہارا حال بہت برا ہو گا ، خدا را ہوش کے ناخن لو اور اٹھ جاو۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc