گلگت بلتستان کوآئینی صوبے کے بجائے کیا ملنے والا ہے،فیصلہ محفوظ۔

اسلام آباد (بیورو رپورٹ ) سرتاج عزیز کمیٹی سے آئینی صوبے کی امید لگائے بیٹھے گلگت بلتستان کے عوام کی امیدوں پر مکمل طور پر پانی پھیر دیا۔ کل اسلام آباد میں وزیر اعظم پاکستان کے زیر صدارتگلگت بلتستان آئینی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس میں عوامی اُمنگوں کے مطابق گلگت بلتستان کو پانچواں آئینی صوبہ بنانے کی سفارشات منظور نہ ہوسکی، بلکہ موجودہ سیٹ اپ کو برقرار رکھتے ہوئے  ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جائے گا، اس کے علاوہ گلگت بلتستان کو مشترکہ مفادات کونسل، قومی مالیاتی کمیشن، قومی اقتصادی کونسل میں نمائندگی دی جائے گی مگر ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق سیاحت جنگلات، اورمنرلز کے شعبے سمیت وہ تمام محکمے جو اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت وفاق سے دیگر صوبوں کو منتقل کئے گئے تھے بلکل اسی طرح ان محکموں اور شعبوں کو اب جی بی کونسل کے بجائے گلگت بلتستان اسمبلی کے حوالے کیا جائے گا۔

یاد رہے گلگت بلتستان کے عوام پچھلے ستر سالوں سے گلگت بلتستان آئینی صوبے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن حقیقت میں یہ خطہ مسلہ کشمیر سے منسلک ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس خطے کی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرنا وفاق پاکستان کے بس کی بات نہیں کیونکہ یہ معاملہ اقوام متحدہ میں زیر التواء ہے لیکن عوامی نعروں کے پیش نظر وفاق سے بھی اس نعرے کو تقویت دی جاتی ہے اور آخر میں کہا جاتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ لیکن اس مرتبہ کچھ تبدیلی آئی ہے جس میں نئی نسل نے گلگت بلتستان کو بھی آذاد کشمیر طرز پر ایک مکمل قانونی سیٹ جس میں اس خطے کی پہچان موجود ہو دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے حالیہ ٹیکس مخالف تحریک میں آئینی صوبہ نہ بننے کی صورت میں کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا مطالبہ کیا ہے اور اس مطالبے کی قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے بھی حمایت کی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ کہاں تک جاتا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc