سوشل میڈیا کا دور اور ہماری وابستگیاں۔ تحریر: شریف ولی کھرمنگی

میڈیا کا دور ہے اور کسی بھی ملکی و غیر ملکی ایشو سے واقف ہونا اب سیکنڈوں کام ہے۔ آج کل ہر کوئی پل پل کی خبروں سے بہت ہی آسانی کیساھ واقف ہوسکتے ہیں۔ ہر بندے کے ہاتھ میں اسمارٹ فون، انٹرنیٹ سمیت موجود ہیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داریاں بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ نوجوانوں کو اس طرف توجہ کرنا چاہئے کہ اس وقت دنیا واضح طور پر دو پولز میں تقسیم ہیں۔
1- ایک ظالموں کا پول
2-مظلوم اور مظلوموں کے حامیوں کا پول
ظالم ہمیشہ سے طاقتور ہی رہے ہیں۔ اور دنیا بھر میں اپنی طاقت کی گھمنڈ میں آگ لگاتا پھرتا ہے۔ مظلوم اس کے برخلاف اپنا بچ بچاو کی تدبیر کرتا ہے۔
اب یہ فیصلہ کریں گزشتہ اٹھارہ سالوں میں کہاں کہاں ظلم ہوئے اور کن کن مظالم کو کس نے انجام دیئے۔ اور مظلوم کون لوگ تھے، اور کون ان کے حامی تھے۔ ان دو طبقات یا گروہوں میں سے کن کے پلڑے میں ہم آتے ہیں یا ہمارا ملک یا اس کے اثرو نفوذ رکھنے والے آتے ہیں۔۔۔ْ؟ ہم اگر ان ظالمین کے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کے چاہنے والے ہیں تو آیا ہم درست ہونگے یا مظلوموں کے طبقے سے ہمدردی رکھنے والوں کے؟ ہم سب نے مرنا ہے ایک دن۔۔۔۔۔ پتہ بھی نہیں چلے گا کہ دنیا کے چند دن کیسے گزرگئے۔۔۔۔ اور ان چند دنوں میں ہم کن کن طبقات سے بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق رکھنے والے بنے رہے، یا انکی کھلی یا مصلحتوں کے تحت ڈھکے چھپے انداز میں ان کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنتے رہے۔۔۔۔اگر ظالموں اور ان کے حامیوں سے رہے، پھر یقینا ہماری پکڑ ضرور ہوگی۔ ہمیں مظلوم طبقے سے ہمدردی کا صلہ ضرور ملے گا۔ یہی نہیں، ہمارے واسطے، ہماری ہمدردیاں اور ہمارے تعلقات جانے انجانے میں کسی بھی طبقے سے ہم وابستہ رہے،۔۔۔۔۔ بعد کی تو بعد میں دیکھا جائیگا، آپ کے اپنے بچے ، آپکی اپنی نسلیں ان سے اثر انداز ہونگے۔ ان کی سوچ و فکر، تربیت و تعلیم آپ کے سماجی کردار پر منحصر ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ ہمیشہ مظلوم کی دادرسی کرتے رہیں اور آپکے بچے مظلوموں پر ظلم کریں، کم از کم ایسااگر کرے تو بھی آپ بری الزمہ ہونگے۔ اور اگر آپ ظالموں کی صف میں رہے زندگی میں، جوانی کی جوش میں، مفادات کیلئے، یا کسی تعلق کی بنیاد پر،،،،، تو کیسے ممکن ہے کہ آپ کے بچے اس سے اثر انداز نہ ہوں؟ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کی بجائے کسی اور کو فالو کرے۔۔۔۔۔؟؟
اسلئے اپنے سماجی رویئوں ، تعلقات، ہمدردیوں، اور آئے روز کے معمولات میں اپنی وابستگیوں پر غور و فکر کیجئے۔ آخرت کیلئے توبہ پر یقین کرکے غلط حرکات کرنا تو یقینا بیوقوفی ہے، لیکن کیا اپنی نسلوں کو جیتے جی کسی غلط راہ پر لگانے کو اچھا کام سمجھے گا کوئی؟
یقینا یہ سوچنے کی بات ہے۔۔۔۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc