ٹیکس ایڈاپٹشن ایکٹ کی معطلی کیلئے حکومت کی جانب سے گمراہ کن دلیل۔

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) گلگت بلتستان میں ٹیکسز کے خلاف جاری دو ہفتوں سے زائد شدید عوامی احتجاج اور لانگ مارچ کے بعد مذاکرات کے ذریعے وفاقی حکومت نے ٹیکس ایکٹ 2012 کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی نوٹفکیشن جاری نہیں ہوئے۔ اُس کمیٹی کے سربراہ نے پریس ریلیز کے ذریعے یہ بھی بتایا تھا کہ گلگت بلتستان ٹیکس ایکٹ2012 کو مکمل طور پر ختم کرکے نیا ٹیکس ایکٹ لایا جائے گا اور نئے ٹیکس ایکٹ کی منظوری گلگت بلتستان کونسل سے لی جائیگی۔مذاکرات میں ٹیکس ایکٹ ختم کرنے کیلئے بہانہ یہ بنایا گیا کہ چونکہ گلگت بلتستان کے عوام غریب ہیں لہذا ایکٹ2012 سے عام آدمی کی زندگی بُری طرح متاثر ہوریا ہے پُرانے ایکٹ کو ختم کرکے نئے ایکٹ میں پانچ لاکھ سے کم آمدن والوں پر ٹیکس لاگو نہیں ہو گا بلکہ صرف بڑی کمپنیوں اور ہوٹلز پر ٹیکس عائد ہونگے۔قانونی ماہرین کے مطابق ایک ایک گمراہ کُن دلیل ہے جس میں گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے براہ راست ملوث ہیں کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام کا سبسڈی سے لیکر ٹیکس تک کے احتجاج میں کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ چونکہ گلگت بلتستان کے عوام ٹیکس دینے کی سکت نہیں رکھتے لہذا ٹیکس میں چھوٹ دیا جائے بلکہ عوام کا ہمیشہ سے یہی موقف ہے کہ یہ گلگت بلتستان مسلہ کشمیر سے منسلک متنازعہ علاقہ ہے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام ہیں لہذا یہ خطہ پاکستان کے آئینی حدود سے باہر ہیں لہذا اس وجہ سے ہمیں وہ تمام حقوق میسر نہیں جو پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام کو دستیاب ہیں لہذا جب تک مکمل طور آئینی حقوق نہیں دئیے جاتے گلگت بلتستان کے عوام پر کسی بھی قسم کے ٹیکس کا نفاذ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

یاد رہے حکومت کی جانب سے اس قسم کے غیر منطقی دلیلوں کے بعد عوامی حلقوں میں سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اس سلسلے گلگت بلتستان یوتھ نے کراچی میں پریس کلب کے سامنے ایک زبردست احتجاجی مظاہرے کا بھی انعقاد کیا جس میں واضح طور پر سٹیٹ سببجیکٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی کو تمام قسم کے مسائل کا بہترین اور قانونی حل بتایا جاریا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc