گلگت بلتستان کی خودمختاری کا مسئلہ اور ’’خصوصی صوبہ” تحریر: محمد حسین نیویارک

گلگت بلتستان میں منفی دس ڈگری کی شدید سردی کے باوجود علاقے کے تمام دس اضلاع میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور مختلف اضلاع سے لوگوں نے دو سو سے تین سو کلومیٹر کے دشوار پہاڑی راستوں سے گزر کر گلگت شہر کی طرف لانگ مارچ کیا ۔ موجودہ نیم صوبائی سیٹ اپ کے قیام کے بعد لگایا گیا ٹیکس اڈاپٹیشن ایکٹ 2012 کو مسلسل احتجاج کے بعد منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے. وفاق کی طرف سے علاقے سے گزرنے والی پاک چائنہ اقتصادی راہداری کو قانونی چھتری دینے کے لیے علاقے پر بطور صوبہ ان ٹیکسوں کے نفاذ کے اعلان پر شروع ہونے والا یہ احتجاج گزشتہ دو مہینہ سے جاری تھا مگر اس میں شدت اس وقت آئی جب حکومت نے پچھلے مہینے کیے گئے ٹیکسوں کے نفاذ کی منسوخی کے اعلان کے باوجود وہ منسوخ نہیں کیے۔

مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کی مشترکہ عوامی تحریک ’’ عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ اور انجمن تاجران کی کال پر دیے جانے والے اس احتجاج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گلگت بلتستان کی مختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، کراچی کے پریس کلبوں کے سامنے بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ جبکہ سوشل میڈیا پر متحرک نوجوانوں نے حقوق کی آواز کو مزید بلند کیا۔ دوسری طرف قومی ذرائع ابلاغ نے اس بڑھے اور منظم احتجاج کو مکمل نظر انداز کر دیا اور اس پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے 2013 اور 2014 میں متنازعہ اور دُور دراز پسماندہ علاقے کی حیثیت سے گلگت بلتستان کو بھٹو دور سے حاصل سبسڈی کے خاتمے کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا، پھر 2015 اور 2016 کے دوران علاقے کے ہزاروں اراضی پر بلا معاوضہ حکومتی قبضے کے خلاف اور سی پیک میں علاقے کو نظر انداز کیے جانے کے خلاف ،مختلف اوقات میں احتجاج ہوتا رہا ہے۔ یوں یہ احتجاجی تحریک گزشتہ پی پی دور حکومت سے اب تک پانچ سالوں سے جاری ہے جس میں وقتا فوقتا شدت آتی جا رہی ہے۔

لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جب تک انہیں مکمل طور پر آئینی حقوق نہیں دیے جائیں گے تب تک علاقے پر ٹیکسوں کا نفاذ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ اس لیے وہ یہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ ’’حق دو ٹیکس لو‘‘ گلگت بلتستان کے عوام بجا طور پر کہتے ہیں کہ پچھلے ستر سالوں سے ہم تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں۔ آئینی و دستوری لحاظ سے گلگت بلتستان صوبہ ہے اور نہ خود مختار ریاست اور نہ ہی آزاد جموں و کشمیر ریاست کا حصہ۔ یعنی ہمارا کوئی بھی شخص پاکستان کا صدر، وزیر اعظم، ممبر قومی اسمبلی و سینٹ، عدلیہ، انتظامیہ، اسلامی نظریاتی کونسل و غیرہ جیسے کسی بھی آئینی ادارے کا رکن سمیت کسی بھی بڑے منصب پر فائز نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح گلگت بلتستان کا کوئی باشندہ ملک کے کسی صوبے کا رکن بھی نہیں بن سکتا۔ پاکستان کے دیگر صوبوں یا علاقوں کے حقوق اور گلگت بلتستان کے حقوق کے معاملے میں اس بنیادی فرق کو بخوبی سمجھیے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں یا صوبوں کے عمومی حقوق آئینی و قانونی طور پر تسلیم شدہ ہیں، ان کا معاملہ گڈ گورنینس یعنی بہتر طرز حکمرانی سے جڑا ہوا ہے جبکہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے آئینی و سیاسی حقوق مکمل سلب ہیں وہ اصلاً تسلیم ہی نہیں کیے گئے ہیں۔

موجودہ صوبائی سیٹ اپ کیا ہے؟
گلگت بلتستان میں موجودہ صوبائی شکل کسی طور پر آئینی صوبہ نہیں ہے۔ موجودہ اسمبلی، گلگت بلتستان کونسل، وزیر اعلی اور گورنر خالصتاً نمائشی عنوانات ہیں۔ ان کے اختیارات دونوں ہی مقامی کونسلر سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے جس میں گلگت بلتستان کے نام کا کوئی صوبہ وجود ہی نہیں رکھتا، کسی بھی آفیشل دستاویز، قومی نصاب سمیت دیگر لٹریچر میں گلگت بلتستان کا صوبے کے طور پر ذکر کہیں نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح عملی طور پر قومی اسمبلی، سینٹ بین الصوبائی مفادات کونسل، این ایف سی ایوارڈ سمیت کسی بھی آئینی فورم پر گلگت بلتستان کی نمائندگی نہیں ہے۔ وفاق اپنے ایک وزیر اور اپنی بیوروکریسی کے ذریعے اس علاقے کو انتظامی طور پر کنٹرول کرتا ہے۔ چنانچہ گلگت بلتستان کے تمام کلیدی عہدوں پر وفاق ہی اپنے بندے بھیجتے ہیں۔ چنانچہ علاقے کے معاملات میں وزیر اعلیٰ سے زیادہ چیف سیکٹری کی حیثیت فیصلہ کن اور اہم ہوتی ہے۔

گلگت بلتستان بنیادی سیاسی حقوق سے محروم کیسے ہے؟
بھارت اور پاکستان کے مابین متنازعہ کشمیر کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر ہے جس کو بھارت کے آئین میں عبوری طور پر خصوصی خودمختاری کا درجہ حاصل ہے جس کے تحت اسے راجہ سبھا اور لوگ سبھا یعنی پارلیمنٹ اور سینٹ دونوں میں نمائندگی حاصل ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کے زیر انتظام خود مختار ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے جسے داخلی خود مختاری حاصل ہے جبکہ تیسرا حصہ گلگت بلتستان ہے جسے نہ پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل ہے اور نہ ہی داخلی خود مختاری بلکہ ایک غیر آئینی صوبے کا لولی پاپ دے کر علاقے کے بیس لاکھ عوام کو بے وقوف بنا کر رکھا گیا ہے۔ الغرض گلگت بلتستان ایسے تمام حقوق سے محروم ہے جو ایک متنازعہ علاقے کے لیے حاصل ہیں۔ جبکہ پاکستان ہی کے زیر انتظام آزاد جموں و کشمیر ریاست کو دفاع، خارجہ اور کرنسی کے سوا تقریباً تمام دیگر ریاستی امور میں داخلی خودمختاری حاصل ہے۔ ان کا اپنا صدر، وزیر اعظم، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ، پبلک سروس کمیشن وغیرہ موجود اور فعال ہیں اسی طرح سٹیٹ سبجیکٹ رول کے تحت سرزمین کشمیر کا تحفظ کیا جاتا ہے اور کوئی بھی غیر مقامی وہاں زمینوں کی خرید و فروخت نہیں کر سکتا۔
اگرچہ آئین پاکستان میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کا بھی ذکر موجود نہیں ہے مگر اقوام متحدہ کے مسئلہ کشمیر کے مطابق گلگت بلتستان متنازعہ کشمیر کا حصہ ہے۔ پاکستان کے پاس موجود دو حصوں میں سے ایک حصےیعنی آزاد کشمیر کو خود مختاری دی گئی ہے لیکن دوسری طرف گلگت بلتستان کو یہ خود مختاری حاصل نہیں ہے۔

گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کے حل کے لیے ممکنہ آپشنز

آئینی اصلاحات کی ایک اور جدو جہد بھی جاری ہے. وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا کی سات ایجنسیاں) کے خیبر پختونخوا میں انضمام یا علیحدہ صوبے میں سے کسی ایک آپشن کا انتخاب فاٹا کے عوام کا بنیادی حق ہے، اسی طرح خود مختار ریاست (آزاد کشمیر طرز کی) یا مکمل آئینی صوبہ میں سے کسی ایک آپشن کا انتخاب گلگت بلتستان کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ پاکستان فاٹا کے لیے کوئی بھی ایک حل دینے کے لیے تیار ہے مگر گلگت بلتستان کے لیے کسی ایک بھی آپشن پر غور نہیں کیا جا رہا ہے۔
سرتاج عزیز کمیٹی گلگت بلتستان کو ’’خصوصی‘‘ صوبہ بنانے کی سفارش کر رہی ہے، اس سفارش میں‌اختیارات کس حد تک وفاق سے گلگت بلتستان کو منتقل کیا جا رہا ہے، اس کی تفصیلات کا ابھی قومی اسمبلی میں‌بحث ہونا باقی ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ خصوصی صوبہ اس لیے دیا جا رہا ہے تاکہ خصوصی بچے کی طرح اس خصوصی صوبے کو ”سٹریچر” پر بٹھائے رکھ کر علاقے سے اقتصادی راہداری کو ’’قانونی‘‘ طور پر گزارا جائے۔ گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کے مستقل کے لیے ممکنہ طور پر کئی حل موجود ہیں،

پانچواں آئینی صوبہ
پہلا آپشن: گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں آئینی صوبہ بنایا جائے۔ مگر اسے آئینی صوبہ بنانے کے لیے حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر سے متعلق جمع قرارداد میں اپنے اصولی موقف میں تبدیلی اور پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم لانی ہوگی جس کے بعد علاقے میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کرایا جانا ہے۔ پاکستان نے یہ امید بھی لگا رکھی ہے کہ جب بھی مسئلہ کشمیر پر پیش رفت ہو اور پورے متنازعہ خطے میں استصواب رائے کیا جائے تو اٹھائیس ہزار مربع میل سے زائد رقبے کے بیس لاکھ باشندے یعنی گلگت بلتستان کا ووٹ مکمل طور پر پاکستان کے حق میں ہوگا جس سے مجموعی صورت حال پاکستان کے حق میں جائے گی۔ ایک بہانہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ پاکستان جی بی کو فی الحال آئینی صوبہ نہیں بنانا چاہتا تاکہ بھارت کشمیر پر اپنا موقف مضبوط نہ کر لے۔ بھارت سے کئی جنگیں لڑنے، ہزاروں جانیں دینے اور کھربوں ڈالر کے قومی وسائل خرچ کرنے کے بعد کشمیر کی قیمت پر شاید پاکستان گلگت بلتستان کو کبھی بھی مکمل ٓئینی صوبہ نہ بنائے، اس کے علاوہ کشمیری قیادت بھی اس کی شدید مخالفت کرتی ہے۔ چنانچہ آئینی صوبہ نہ بنانے کے عزم کا اظہار مختلف وفاقی وزراء، سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور رہنماؤں نے متعدد بار کیا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر طرز کی داخلی خود مختار
دوسرا حل داخلی خود مختاری دینے کا ہے۔ جی بی عوام زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے تصفیے تک اب کشمیر طرز کی خود مختار ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کو داخلی ریاست کا درجہ ملنے کی صورت میں یہاں آزاد کشمیر کی طرح کرنسی، خارجہ پالیسی ، دفاع اور مواصلات وغیرہ کے معاملے میں پاکستان کے زیر انتظام ہو گا جبکہ دیگر معاملات میں گلگت بلتستان خود مختار ہوگا۔ گلگت بلتستان کی مقامی قوم پرست سیاسی تنظیموں کا بنیادی موقف یہی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر ریاست میں انضمام
تیسرا ممکنہ مگر علاقے کی عوام کے نزدیک انتہائی نا مطلوب آپشن یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان کو موجودہ آزاد کشمیر ریاست میں ضم کیا جائے۔ مگر ستر سالوں سے کسی طرح تعامل نہ رہنے، جعرافیائی دوری اور وسائل و اختیارات میں تقسیم نیز سب سے بڑھ کر گلگت بلتستان کے عوام کے اس آپشن کے لیے غیر آمادگی کے باعث یہ حل انتہائی نامطلوب ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ
لہذا اگر حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ نہیں‌بنانا چاہتی تو اس کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کے مسئلے پر اسے مسئلہ کشمیر کے تصفیے تک آزاد کشمیر کی طرز پر داخلی خود مختاری دینے کے عزم کا اظہار کرے اور علاقے میں استصواب رائے (ریفرنڈم) کرانے کے لیے اقوام متحدہ کو ریفرنڈم کی نگرانی کرنے کی درخواست کرے۔۔ اس حل میں مسئلہ کشمیر پر بھی فرق نہیں پڑتا اور علاقے کو اس کی خواہش کے عین مطابق سیاسی حقوق پر مبنی خود مختاری بھی حاصل ہو جائے گی۔ یہی آسان ترین اور ہر ایک کی جیت (win-win) حل ہے۔ پاکستان کے لیے بہتر یہی ہے کہ ستر سال سے پکتے ہوئے لاوے کو پھٹنے سے پہلے حل کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc