نیاسال اور دانشمندی کے دو اہم تقاضے۔ تحریر : محمد حسن جمالی

کائنات میں زندگی سے قیمتی ترانسان کا کوئی سرمایہ نہیں- ہرانسان کے لئے زندگی بہت پیاری ہے – ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی زندگی رفاہ اور آسائش میں گزرے، تندرستی, خوشی اور سکون سے لبریز ہو ،غم اور مصیبتیں اس سے دور ہوں- یہ چاہت ہر انسان کی فطرت اور دل کی آواز ہے – جن لوگوں نے فطرت اور عقل سلیم پر خواہشتات کو غالب آنے دیا ہے ان کی نگاہ اپنی ذات کی حد تک محدود رہتی ہے، وہ اپنے لئے تو رفاہ اور آسائش سے بهر پور سکون کی زندگی چاہیں گے مگر دوسرے انسانوں سے یکسر طور پر لاتعلق رہیں گے – لیکن جو افراد عقل سلیم کے مالک ہیں ، جنہوں نے فطرت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خواہشات نفسانی کا اسیر ہونے سے اپنے آپ کو بچالیا ہے، وہ فقط اپنی ذات کے بارے میں سوچنے کے بجائے پوری انسانیت کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں، وہ صرف اپنے لئے پر سکون زندگی کے متلاشی نہیں رہتے بلکہ ساری بشریت کو چین کی زندگی فراہم کرنے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں ۔ نئے سال میں دانشمندی کے دو اہم تقاضے ہیں – پہلا اہم تقاضا تو یہ ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں – ہم اپنے گریبان میں جهانگ کر دیکهیں کہ گزشتہ سالوں میں ہم انسانیت کی بهلائی, فلاح اور بہبودی کے لئے کس قدر فکرمند رہے – ہم تمام تعصبات سے بالاتر ہوکر انسانیت کی بنیاد پرکتنے انسانوں کے کام آئے اور ہم نے کتنوں کو مشکلات اور مسائل سے نجات دلانے میں کردار ادا کیا – ہم نے کتنے مظلوم افراد کے لئے دل میں نرم گوشہ رکها اور کتنے ظالموں سے اظہار نفرت کیا – ہم گزشتہ سالوں میں اپنے ملک اور قوم سے کتنا فیصد محبت کرتے رہے ؟ کیا ہم نے اپنے وطن کے حقیقی دوست اور دشمن کو پہچاننے کی کوشش کی ؟ کیا ہم نے یہ سوچنے اور سمجهنے کی سنجیدہ جدوجہد کی ہے کہ عرصہ دراز سے پاکستان کے طول وعرض میں ہونے والی دہشتگردی کاروائیاں کرنے والے کون ہیں؟ دہشتگردوں کی تربیت کہاں اور کون کررہے ہیں ؟ پشاور آرمی پبلک سکول کے نونہالوں، پاراچنار میں شهید ہونے والے بے گناہوں سمیت پاکستان کی سرزمین سے بے جرم وخطا زندگی سے محروم ہونے والے وکیلوں, صحافیوں، ڈاکٹرز اور بے جرم وگناہ مختلف شہروں سے اغوا کرکے لاپتہ کئے ہوئے اسیروں کے لئے ہم نے کتنا درد دل کیا اور کیا ہم نے غور کیا کہ ان کے پیچهے کون لوگ ہیں ؟ ان کا مکتب و مذہب کیا ہے؟ کیا ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ پاکستان کے اندر مسلمان مسلمان کے جانی دشمن کیوں بن گئے ہیں، کیوں مسلمانوں کا ایک ٹولہ دوسرے مسلمانوں کو کافر سمجهتا اور کہتا ہے کیا واقعتا اسلام اس چیز کی اجازت دیتا ہے ؟ اس ٹولے میں اتنی شدت پسندی کس نے پیدا کی اور ہدف کیا ہے؟ کیا ہم نے سوچا کہ گلگت بلتستان جیسا محب وطن خطہ ستر سال گزرنے کے باوجود آئینی حقوق سے محروم کیوں ہے ؟ پاکستانی حکمران گلگت بلتستان کو حقوق دینے سے انکاری کیوں ہیں؟ کیا اس خطے کے ساتهہ یہ آشکارا ظلم نہیں ؟ کیا ہم نے گلگت بلتستان کو حقوق دلوانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے ؟ نیاسال کا دانشمندانہ تقاضا یہ ہے کہ ہم مذکورہ سوالوں پر غور وفکر کریں اور ان کے تسلی بخش جوابات تلاش کریں اور جوابات منفی نکلنے کی صورت میں ہم سال جدید کے آغاز میں ہی ان پہلووں پر سوچ کر اپنی کمیوں کا جبران کریں – نیا سال کا دوسرا اہم دانشمندانہ تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ماضی سے حال اور مستقبل کے لئے درس عبرت حاصل کریں بچہ بچہ جانتا ہے کہ پاکستانی عوام کی بے شمار مشکلات اور مسائل کا بنیادی سبب نظام سیاست کا موروثی ہونا ہے کئی دہائیوں سے پاکستان کے اندر زمام حکومت کچهہ اشرافیہ خاندان کے افراد کے ہاتهوں وراثت کے طور پر منتقل ہوتی جارہی ہے- وطن عزیز کے باسیوں کے لا ینحل مسائل اور مشکلات کا اصلی سبب یہی موروثی نظام سیاست ہے – پاکستان میں جمہوریت کے نام پر بدترین آمرانہ نظام رائج ہے, جس میں چند خاندان عوام پرمسلط ہیں اورپشت در پشت ہم پر حکمرانی کررہے ہیں،-پاکستان میں اشرافیہ خاندان کے علاوہ دوسرے محنت اور زحمت کرکے پڑهہ لکهہ اپنے اندر قابلیت صلاحیت اور علمی استعداد پیدا کرکے ڈاکٹر، انجینئر، بیوروکریٹ، قانون دان، فوجی آفیسر،بزنس مین، پروفیسر اور سائنسدان تو بن سکتے ہیں اگر نہیں بن سکتے توایک کامیاب سیاستدان نہیں بن سکتے یہ حق صرف چند خاندانوں کو حاصل ہے اور وہ حق حکمرانی لے کر پیدا ہوئے ہیں جو کہ معاشرہ کے 98 فیصد عوام کے لیے یہ ایک شجر ممنوع ہے-اس سلسلے میں کالم نگارنادر بلوچ صاحب نے انتہائی مدلل انداز میں ایک دلچسپ اہم کالم ۲۰۱۸ موروثی سیاست سے وابستہ توقعات کا سال کے عنوان سےتحریرکیا ہے جو 31/12/2017 کو وائس آف نیشن پر شایع ہوچکا ہے قارئین محترم اسے ایک بار ضرور پڑهیں بلوچ صاحب نے اپنے کالم میں موروثی سیاست کی ایک جهلک یوں دکهائی ہے کہ اس وقت نئے خیبر پختوخوا کے وزیراعلٰی پرویز خٹک نے اپنے بھائی لیاقت خٹک کو نوشہرہ کا ناظم، وزیر مال علی امین گنڈاپور نے اپنے بھائی عمر امین کو تحصیل ناظم، وزیر قانون امتیاز قریشی نے اپنے بھائی اشفاق قریشی کو تحصیل لاچی کا ناظم اور وزیراعلٰی کے مشیر خلیق نے بھائی کو تحصیل ناظم بنوایا۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام کا بیٹا بھی ضلعی ناظم منتخب ہوا، جبکہ پیپلزپارٹی کے محمد علی شاہ کے بھائی احمد علی شاہ بھی ناظم منتخب ہوئے تھے۔ملکی سیاست میں چند خاندان شروع سے حاوی رہے ہیں اور سیاست کا مرکز بھی یہی خاندان ٹھہرے ہیں، اس بات سے اندازہ لگائیں کہ نواز شریف نااہل ہوئے تو انہیں پارٹی کی صدارت دینے کیلئے نہ صرف پارلیمنٹ سے آئین میں ترمیم کرائی گئی، حتٰی مسلم لیگ نون کے دستور میں بھی ترمیم لانا پڑی۔لیگی دستور میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ کسی بھی امیدوار کیلئے آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا اترنا ضروری ہے، عدالت سے نااہل ہونے والا شخص جماعت کے کسی بھی عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا، لیکن جیسے ہی نواز شریف کو سپریم کورٹ سے نااہلی کا سرٹیفیکیٹ ملا تو فوراً پارٹی کا دستور تک بدل دیا گیا۔خاندانی سیاست اس ملک پر کتنی حاوی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نواز شریف نے اپنی نشست یعنی حلقہ این اے 120 پر اپنی اہلیہ کو کھڑا کیا اور آئندہ کے وزیراعظم کیلئے بھی اپنے بھائی شہباز شریف کے نام کا اعلان کر دیا ہے، کیا مسلم لیگ نون میں فقط شریف خاندان ہی بڑے عہدوں کیلئے اہل ہے اور باقی پوری جماعت میں کوئی بھی امیدوار وزارت عظمٰی کیلئے اہل نہیں۔اسی طرح پیپلزپارٹی والے خود کو بھٹو خاندان کے بغیر فارغ تصور کرتے ہیں، جے یو آئی (ف) کی بقاء مفتی محمود کا خاندان ہے، اے این پی باچا خان سے نیچے نہیں آسکتی۔یہ صورتحال ہے پاکستان میں سیاسی نظام کی – اب سال جدید کے شروع میں دانشمدی کا تقاضا یہ ہے کہ اہلیان پاکستان وطن عزیز میں موروثی سیاست کا خاتمہ کرنے کے لئے مل جل کر جدوجہد کریں – 2008 کے الیکشن میں سوچ سمجهہ کر اپنا ووٹ استعمال کریں – قابلیت اور صلاحیت والے افراد کو ووٹ دے کر منتخب کریں – نمائندوں کے انتخاب میں ان کے سابقہ کردار کو ہر گز فراموش نہ کریں – پاکستانی سیاستدانوں کے ماضی سے حال اور مستقبل کے لئے درس عبرت لیتے ہوئے اہلیت والے افراد کو اپنا نمائندہ چن لیں –
افراد کے ہاتهوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc