ہماری ناکامی اور دوسروں کی کامیابی۔تحریر: رجب علی بلتی

سب سے پہلے ہم اپنی سوچنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہے کیونکہ ہم نے کبھی کسی چیز کے بارے میں سوچا ہی نہیں اگر سوچا ہے تو بھی اپنی ذاتیات کے حد تک محدود رکھا ہے ۔ہر بندہ یہ کہتا ہوا نظر اتے ہے میں اکیلا کچھ نہیں کر سکتا مجھے پتہ ہے ہماری قوم نے میرے ساتھ نہیں دینا۔اور ہر وقت دوسروں کے اوپر منحصر رہنے کی عادی ہوگئی ہے ۔اور ہم اس کوشش میں رہیگا کی کوئی شخص میرے سے زیادہ ترقی نا کر پائے ۔جتنا کوشش وہ دوسروں کو نیچے لانے کے لئے کرتے اتنا کوشش وہ اپنے لیے کرے تو اسے بھی اگے جائے گا ۔کم وقت میں زیادہ ترقی چاہتے ہے ہم ۔محنت کم کرے ترقی زیادہ ہو ۔ہر وقت اپنے آپ کو دوسروں سے کم تر سمجھتے ہے ۔(کسی انسان کو دوسرے انسان پر کوئی فوقیت حاصل نہیں سوائے تقویٰ پرہیز گاری کے )۔ہمیں جس چیز کے بارے میں بیشک علم نہ ہو پھر بھی کہینگے میں جو کہ رہا ہوں بس وہی ٹھیک ہے یہ جہالت کی علامت ہے.نہ ہم اپنے آنے والی نسل کے بارے میں سوچتے ہے (اگر مسجد میں نماز کے دوران پچھلی صف سے بچوں کی آوازیں نہ آئیں تو اگلی نسل کے دین کی فکر کرو).اپنازخم اسے مت دکھاو جسکےپاس مرہم نہ ہو ہرناکامی کےدامن میں کامیابی کے پھول ضرور ہوتے ہیں ۔بادلوں کی طرح زندگی گزارو کیونکہ وہ صرف پھولوں پر نھیں کانٹوں پربھی برستے ہیں ۔ہم اپنی کامیابی کو چھوڑ کر دوسروں کے کامیابی کے اوپر توجہ کیوں رکھتے ہے کہیں وہ ہم سے آگے تو نی نکل رہا ۔ہمیں معلوم ہی نہیں کی کتنے لوگ ہمارے حقوق کھا رہے ہیں نہ ہم ترقی چاھتے ہے ترقی کب آئیگی جب لوگوں کے اندر علم آئیگی ۔ہم جتنے بھی کام سر انجام دیتے ہے ان کاموں میں کوئی مقصد نظر نہیں اتے بہت محنت اور کوشش کرتے ہیں ۔ پھر بھی ہم اپنے مقصد تک کیوں نہیں پونچتے کیوں کی ہم اصل مقصد کو چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کرتے ہے جسے ہم ناکامی کی طرف گامزن ہوجاتے ہے ۔ہم اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کےلیے بہت کوشش کرتے ہے مگر یہاں پر بھی ہمیں نہیں پتہ کی ہم نے کونسا راستہ اختیار کرنا ہے اور بچے کو موٹر سائیکل ،موبائل اور آج کل کے تمام ضروریات مہیا کردے ہیں تو وہ بچہ تعلیم کی طرف بلکل توجہ نہیں دیتا۔اسلئے ہمیں سوچنے کی ضرورت ہیں ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc