صوبہ ناممکن خواب ہے ہماری منزل گلگت بلتستان میں اندرونی خومختاری۔ تحریر: اعجاز حسین بلتی

دھرتی ماں گلگت بلتستان کو بے آئین اور بغیر کسی شناخت کے ایک اور سال گزر گیے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہی روش رہا ہے کہ جب میری دھرتی ماں کے وسائل کی بات آتی ہے میری دھرتی کو اپنا شہ رگ قرار دیتے ہیں اور جب گلگت بلتستان کے باشندوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بناو تو بار ہا یہی جواب آیا کہ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا حصہ ہیں اور بین الاقوامی طور مسئلہ کشمیر کا حصہ بنائے جانے کے بعد گلگت بلتستان کو مکمل طور پاکستان کا آئینی صوبہ بنانا ممکن نہیں ہے کیونکہ یقینی طور کشمیر کاز متاثر ہوگا جوکہ پاکستان کبھی نہیں چاہے گا۔ ہندوستانی زیر انتظام کشمیر جموں و لداخ پاکستانی زیر انتظام کشمیر و گلگت بلتستان بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے۔ اگر پاکستان گلگت بلتستان کو اپنا آئینی صوبہ بناتا ہے تو یقینا ً ہندوستان جموں کو اپنا آئینی حصہ بنائے گا جس سے ہندوستان کے موقف کو تقویت حاصل ہوگی اور مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کمزور ہو گا۔ پاکستان گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کے عوظ کشمیر کاز کا نقصان کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ لہذا ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک گلگت بلتستان متنازعہ ہی رہے گا۔ لہٰذا میرے دھرتی کے باشندوں کا صوبے کے لیے بار بار مطالبہ کرنا فضول اور بے مقصد ہیں۔آج ہمارے پاس صرف ایک آپشن رہ گیا ہے آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ۔ ہمیں قومی اسمبلی میں کسی جعلی نمائندگی کا بھی مطالبہ کرنا فضول اور وقت کا ضیاع ہیں کیوں کہ قومی اسمبلی میں نمائندگی جی بی کا منزل نہیں ہماری منزل آزاد کشمیر طرز کی طرح اپنا سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ ، اپنا ڈنڈا ، اپنا جھنڈا ، اپنا ترانہ ، ، صدر اور وزیراعظم کا سسٹم ، زمینوں پرہمارا حق ملکیت ہے ، حق حکومت ہے ( ہماری عوام کی حکومت ہے نہ کہ کشمیر افئرز کے ایک سکریٹری کی) ،سٹیٹ سبجیکیٹ کی بحالی، سی پیک میں ہمیں تیسرا فریق تسلیم کرانا ،دیامر ڈیم کی 80 فیصد ، دریائے سندھ ، کے ٹو ، معدنیات ، ٹورزم ، ننگا پربت ، سیاچن ،گشہ بروم اور تمام چوٹیوں کا ریالٹی ہے. لہٰذا ہمارے یوتھ ، علماء ، بوڑھے، طلباء ، تاجر برادری ، ،مزدوروں ، خواتین ،سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے گزارش ہے کہ مرحلہ وار منصوبہ بندی کر کے حق ملکیت حق حاکمیت اور مخصوص ریاست کی ڈیکلیریشن کا مطالبہ کریں ۔ اس کے لیے اسلام اباد کی اسٹیبلشمنٹ کو باور کرانا ہوگا کہ اس مطالبے میں پ کا نقصان نہیں اور ساتھ ہی بین الاقوامی برادری کی حمایت بھی حاصل کرنا ہوگا۔ برائے کرم ایک نسبتاً کمزور اور مبہم موقف کو سامنے رکھ کر عوامی طاقت کو کمزور نہ کرے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc