لانگ مارچ مخالف بیان کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر نے وضاحتی بیان جاری کردیا۔

اسلام آباد( نامہ نگار) اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں کپٹن ریٹائٹرد محمد شفیع خان نے کہا ہے کچھ مقامی اخبارات نے صحافتی خیانت اور ذاتی ناپسندگی کی بنیاد سے میرے بیان کو توڑ مروڑ کر چھاپ دیاتھا۔ میں نے گلگت بلتستان پرنٹ میڈیا ایڈیٹر فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے ٹیکس مخالف تحریک کو مضبوط کرنے کیلئے کچھ اہم تجاویز اور مخالصانہ رائے دی تھی اور یہی رائے میں نے چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان ر ئیس اور آغا علی رضوی کو بھی دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سکردو میں ایک دن کا دھرنا گلگت میں بیس دن کے دھرنے سے ذیادہ پاور فل ہوتا ہے۔دوسری طرف دھرنوں میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع ہیں اور انکو گلگت کی طرف مارچ کرنا سردی کے موسم اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے بہت ذیادہ مشکل کام تھا کیونکہ کوئی حادثہ بھی ہوسکتا تھا کوئی سازش بھی کرسکتا تھا لہذا یہ دھرنا اگر سکردو میں ہی رہے گا تو حکومت پر ذیادہ پریشر پڑے گا، میری اس مخالصانہ تجویزپر دوستوں نے غور نہیں کیا اور لانگ مارچ شروع کیا۔لیکن کے ٹو اخبارچونکہ میرے اپوزیشن لیڈر عہدے سے ناراض ہیں اس وجہ سے انہوں نے منفی طریقے سے خبر چھاپ کر صحافتی اقدار کے ساتھ بددیانتی کی جس پر مجھے افسوس ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹیکو آئینی حقوق کا مطالبہ نہ کرنے کے شکوہ پر اُنہوں نے کہا یہ کام بطور عوامی منتخب نمائندہ وزیر اعلیٰ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں احتجاج کریں اُن مطالبے یہ بات واضح ہوگئی کہ گلگت بلتستان کے ڈمی نظام کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc