وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے عوام کا نہیں بلکہ صرف مخصوص مکتبہ فکر کی نمائندگی کررہے ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم شگر

شگر(پ ر) مجلس وحدت المسلمین شگر کے سیکریٹری اطلاعات محمد ظہیر عباس نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مولوی حفیظ الرحمن نکی جانب سے حالیہ ٹیکس مخالف ہڑتال اور احتجاج کو مخصوص مسلک کی جانب سے قرار دیکر ثابت کیا کہ خود گلگت بلتستان کے عوام کا نہیں بلکہ صرف ایک مخصوص مکتبہ فکر کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اس بیان کے بعد اس کی کابینہ میں شامل بلتستان کے ممبران کو کابینہ میں رہنے کا کوئی جواز نہیں۔ اگر ان ممبران اور وزراء میں معمولی سی غیرت ہوتو وہ سیٹ کو لعنت مار استعفیٰ دے دیں عوام انہیں گلے سے لگائیں گے۔ مولوی کی اس بیان کے بعد بلتستان سے حکمران پارٹی کے عہدیداروں اور ممبران کی ضمیر بھی جھنجھوڑا ہے۔ کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ہمیں مولوی حفیظ سے یہی توقع تھا کہ مخصوص مکتب فکر اور مخصوص مائنڈ سیٹ کے مدرسے فارغ تحصیل مولوی حفیظ الرحمان کی ذہنیت ہمارے پرامن خطے میں اپنی سوچ کے ذریعے علاقے کی امن کو تباہ کرنے سے باز رہے ۔ان کا بیان گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازش ہے۔ گلگت بلتستان کے عاقبت نااندیش وزیراعلی خطے کی سکیورٹی اور وحدت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو چکا ہے،مسلم لیگ (ن) کی بوریاں بستر گول ہوتے دیکھ کر اس پرامن خطے میں پھر اپنے آقاؤں کی اشارے پر آگ و خون کی ہولی کھیلنا چاہتا ہے۔قومی سلامتی کے اداروں اور اعلی عدلیہ کو اس افسوناک بیان پر نوٹس لینا چاہیے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc