جمہوریت کا حُسن۔ تحریر: ایس ایم شاہ

جمہوریت یعنی عوام کی حکومت عوام پر عوام کے ذریعے۔ یہی اس کی تعریف ہونے کے علاوہ سب سے بڑی خوبی بھی سمجھی جاتی ہے۔ یہاں پر  بادشاہت، عنانیت، ذاتی پسند یا ناپسند، ذاتی فائدے  یا نقصان کو ملحوظ خاطر رکھنے کے بجائے عمومی فائدے کو ملحوظ خاطر رکھا جاتاہے۔ عوام ووٹینگ کے ذریعے  اپنے نمائندے اسمبلیوں میں بھیجتی ہے، ان سے بہت سارے توقعات  وابستہ رکھتی ہے، ان کے اچھے کاموں کی تعریف کرتی ہے، ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، ملت کی سربلندی کے لیے اچھے کام انجام دینےکی تلقین کرتی ہے۔ لیکن اگر وہی شخص عنان اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے کو “انا ربکم الاعلی” سمجھنے لگ جائیں، ذاتیات اور تعصبات کو فوقیت دیں، ملت سے کیے وعدوں سے مکر جائیں، ملت کی مشکلات کے وقت اپنی موجودگی اور حمایت کے ذریعے انہیں حوصلہ دینے کی بجائے ان پر  نہ ختم ہونے والا تنقید کا سلسلہ شروع کرے، انہیں مشکلات کے بھنور میں چھوڑ کر عیاشیاں کرتے پھریں، تب عوام مجبور ہوکر ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ عوام میدان عمل میں آنے کے بعد کوئی بھی طاقت ان کو روک نہیں سکتی، کیونکہ جمہوریت میں سب سے بڑی طاقت عوام ہی  ہوا کرتی ہے۔  جب تک بارہا مخالفتوں، جھوٹے وعدوں، بے بنیاد پروپینگنڈوں سے عوام کا جگر چھلنی نہیں ہوتا، ان کی زندگی اجیرن نہیں بن جاتی، ان کا مستقبل تاریک نہیں دکھائی دیتا، بہ الفاظ دیگر جب تک اپنے ووٹوں سے آگے گئے ایوان اقتدار پر براجماں  افراد سے مکمل طور پر  مایوس نہیں ہوجاتی، تب تک  عوام گھروں سے  نہیں نکلتی ہے۔ جب عوام میدان عمل پر اتر آتی ہے تب عوامی سیلابی ریلا  اتنا تیز  اور خطرناک ہوتا  ہے کہ پھر عیش و نوش میں محو عمل حکمرانوں کو مزید چون و چرا کی کوئی  گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ گلگت بلتستان کی عوام عرصہ دراز سے ظلم کی چکی میں پستی آئی ہے، یہاں کی عوام جہاں بہت ہی شریف النفس، ملنسار، مہمان نواز، محب وطن، سادہ زیست، با وفا، باوقار،  ایثار کے جذبے سے سرشار، صبر کا پیکر، مذہبی رواداری کا نمونہ … ہیں وہاں  یہ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں خواہ وہ ملک کے اندر ہوں یا باہر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بھی ہیں، پاکستان کے ساتھ وفاداری کی تو  یہی انتہا ہے کہ 70 سال بیت جانے کے باوجود آج تک یہاں کی عوام نے نہ صرف مملکت خداداد کے خلاف کوئی  بغاوت نہیں کی  بلکہ ہر محاذ  پر خواہ 1965  کی جنگ ہو، 1971 کا معرکہ ہو، 1999 کا  کارگل وار ہو یا “ضرب عضب ” اور “ردالفساد” آپریشن، سب میں شجاعت حیدری کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی میدان سے شکست کھاکر واپس نہیں لوٹے، جس کی گواہی آج بھی یقینا ہمارے محترم چیف آف آرمی سٹاف ضرور  دیں گے۔لیکن بدقسمتی سے ہر وقت ہمارے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا گیا، ہماری وفاداری کو داغدار بنانے کے لیے مختلف لیبل لگاکر، مختلف ملکوں کا ایجنٹ قرار دیکر   ہر ممکن کوشش جاری رکھی گئی، لیکن یہاں کی باغیرت اور باحمیت قوم  ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیکر،  اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ان تمام بے بنیاد پروپیگنڈوں پر خط بطلان کھنچتے رہے۔ اب تو ان جھوٹے پروپیگنڈوں کی حد ہوگئی جب عوامی ووٹ کے ذریعے ایوان میں پہنچنے والے وزیر اعلی ہی اپنی بد زبانی کی انتہا کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لیے جمہوری حدود میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج کرنے والوں پر “را ” کاایجنٹ ہونے کا الزام لگایا ساتھ ہی اپنی سابقہ روش پر چلتے ہوئے گلگت بلتستان کو الگ کرنے کے لیےدشمن کاآلہ کار بن کر اسے صرف سکردو کے ایک خاص مسلک کامعاملہ قرار دیا۔  جب گلگت بلتستان کی عوام نے اسے اپنے مشترکہ مسئلہ قرار دیکر آپ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تو اب میری نظر میں اتنا بڑا الزام لگانے کے بعد حفیظ الرحمن صاحب کو ایسے ایجنٹوں کا وزیر اعلی بنے رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اسے کسی دوسرے صوبے میں  پناہ لینا چاہیے۔ کسی بھی ملک کا یا صوبے کا سربراہ اگر اہم امور کے سلسلے میں بیرون ملک دوروں پر ہو تو  ملک کے اندر یا صوبے کے اندر معاملات گھمبیر ہونے کی صورت میں معاملے کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے فوری وطن واپس آجاتے ہیں اور داخلی مشکلات کو حل کرنے کے لیے دن رات ایک کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے نام نہاد وزیر اعلی ملک کے اندر ہوتے ہوئے بھی  بالکل اس کے برعکس سمت حرکت کرتے ہیں۔ جب ان کی مسلسل غلطیوں اور عاقبت نا اندیشیوں سے تنگ آکر عوام سڑکوں پر نکل آتے ہیں تو وہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور عوامی پنجے سے نجات پانے کے لیے فرار کا راستہ اپناتے ہیں۔ وزیر اعلی صاحب پورا ہفتہ گلگت بلتستان سے باہر رہے۔ لاہور اور اس کے گرد و نواح میں اپنے آقاؤں سے ڈکٹیشن لینے اور شادی بیاہ کے پروگراموں سے لطف اندوز ہوتے رہے اور خوبصورت محلوں میں بیٹھ کر چند کرائے کے اخبار نویسوں کو اعتماد میں لیکر بلند و بانگ بیانات  اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے “دل کو بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے” کا سامان فراہم کر تےرہے۔ آخرکار جب عوامی سمندر کے سیلابی ریلے میں بہنے لگےتب کہنے لگے کہ مذاکرات ہی معاملے کا حل ہے‛ختم نبوت کا معاملہ بھی مذاکرات پر  ہی منتج ہوا‛ عوام ٹیکس کے خاتمے کا مطالبہ کرنے کی بجائے آئینی حقوق کا مطالبہ کرتا تب مجھے بڑی خوشی ہوتی۔۔ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کی بجائے ان پر بے جا ٹیکسز  کے نفاذ پر عوام سراپا احتجاج کیا۔ یہاں تک کہ بلتستان کے عوام گلگت کی طرف مارچ کرنے لگے۔ طویل راستہ بھی طے کر لیا،  ڈمبوداس  تک پہنچ گئے۔ حکومتی مشینری کو اندازہ ہوگیا کہ اب ہم بچنے والے نہیں اور نہ ہی یہ لوگ ہمارے دباؤ میں آنے والے ہیں۔ تب بارہ گھنٹے تک مذاکرات بھی ہوئے۔ آخر کار یہ مذاکرات ناکام ہوگئے۔ پھر دوبارہ مذاکرات کا دور شروع ہوا۔ اسی طرح مذاکرات کے تیسرے دور میں  کافی گفت و شنید کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی اور تاجر برادری کے نمائندگان اپنے مطالبات منوانے میں کافی حد تک کامیاب ہوگئے۔ البتہ اب بھی عوام کے جذبات ٹھنڈے نہیں ہوئے اور شدت سے ان معاہدوں پر عملدرآمد کے منتظرہیں۔ وزیر اعلی کے لیے عوام کا جواب یہی ہوگا کہ جناب اگر آپ یہی بات پہلے سمجھ جاتے اور عوام کی بہترین ترجمانی کرتے ہوئے  ناجائز ٹیکسز کے معاملے کو پہلے ہی سلجھا دیتے دیتے تب یہاں تک  نوبت ہی نہ آتی۔ ہم نے صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ آپ کو تین مرتبہ چانس دیے تھے، مسلسل تین مرتبہ ناکامی کے بعدتو بورڈ کے امتحان میں طالب علم  بھی ری اپئر  ہو جاتے ہیں۔ اب آپ کوسمجھ جانا چاہیے کہ پرامن احتجاج کرنا ملک دشمنوں کا کام نہیں بلکہ جمہوریت کی بالادستی پر اعتماد رکھنے والوں کاوتیرہ ہے،  علاوہ ازیں  ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، سرکش حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا اور اپنے حقوق کو چھین لینا جمہوریت کا حسن ہونے کے ساتھ ساتھ  یہ ملت کے زندہ ہونے، باشعور ہونے اور باضمیر ہونے کی بھی  واضح دلیل ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc