پاک امریکہ تعلقات پر ایک نظر۔ تحریر عابد حسین ہلا ل آبادی

پاکستان کی آزادی نے برصغیر کو نئی چیلنجوں کے کنارے پر لایا ۔ نئی وجود میں آنے والی ریاست ہونے کے باوجود، پاکستان کو بڑی طاقتوں کے ساتھ خارجہ پالیسی سمیت کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا . وقت کا انتخاب “سویت یونین “اور” امریکہ” میں محدود تھا۔ جنگ عظیم دوم میں اتحادیوں کے فتح یاب ہونے کے بعد دنیا دو بلاک میں بٹ گئی ، ایک امریکی اوردوسری سویت یونین اس دور کو”سرد جنگ “سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس وقت تک برطانیہ تقریبادنیا کی غریب ممالک کو اپنی “نوآبادیاتی نظام “کا حصہ بنا چکے تھے۔جنگ عظیم دوم کے بعد برطانیہ کی اجارداری ختم ہوئی اور اس کے بدلے دنیا میں ایک اور طاقتور ملک نے دنیا میں اپنی اجارداری قائم کرنے کے لئے ایک الگ نظام قائم کرنا شروع کیا جسے” استعماری” اور “استکباری نظام “کہا جاتا ہے ۔اور اس نظام کے تحت جتنے بھی غریب اور کمزور ممالک تھے ان کو اپنی خارجہ پالیسی پھیلانے کے لے استعمال کیا ۔اور بدقسمتی سے پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل تھا جو آزادی کے بعد روس کے بجائے امریکی بلاک میں شامل ہونے کو ترجیح دی۔پاکستان اپنی ابتدئی مشکلات سے نکالنے اور بھارت سے خوف زدہ ہوکر امریکہ سے اپنی تعلقات کو بہتر بنانے اور علاقے میں امریکی پالیسی کو فروع دینے کے لیے کئی اہم دفاعی معاہدات کرنے پڑے ، جس میں سیٹو اور سینٹو بہت اہمیت کے حامل تھے ۔ اور 1958 میں جب پاکستان میں فوجی حکومت قائم ہوئی ۔ایسے میں امریکی حکومت اس وقت کے آرمی چیف جنرل ایوب خان کے ساتھ تعلقات کو اور مضبوط کر دیا۔اس وقت تک چائنہ بھی دنیامیں اپنی طاقت کا لوہا منوانے میں کا میاب ہوے ۔ ایسے میں پاکستان نے چین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوا . امریکہ نے 1965 اور 1971 کے پاک بھارت جنگوں میں امداد بند کرکے یہ پیغام دیا کہ امریکہ قابل اعتماد پارٹنر نہیں ہے، جیسا کہ امریکہ نے پاکستان کی سخت ضرورت وقت حمایت نہیں کی. افسوسناک بات یہ ہے کہ 1979 ء میں امریکہ کے مفادات نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جب افغانستان کے سوویت حملے نے پراکسی ایجنٹوں کو استعمال کرتے ہوئے جنگ میں قدم اٹھایا. 1979 میں افغانستان پر روس نے قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہونے امریکہ نے ایک بار پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا تو اس وقت کے فوجی حکمرانوں نے امریکہ کے ساتھ دینے میں تاخیر نہیں کی اور افغان جہاد کے نام سے شروع ہونے والی یہ جنگ بظاہر روس کی دراندازی کو رونے کے لیےتھا اس جنگ میں پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک نےبھی اس جنگ میں افغانیوں کا ساتھ دیا۔لیکن امریکہ اس جنگ سے کچھ اورمقاصد حاصل کرنا چاہتا تھاوہ یہ کہ روس کی طاقت کو ختم کرکے دنیا پر اپنا اجارداری قاَئم کر سکوں ۔ ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے 1981 ء میں، پاکستان اور امریکہ کے درمیان $ 3.2 بلین فوجی اور اقتصادی امداد کے منصوبے پر اتفاق کیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان اس معاہدے کے تحت خطے میں سیکورٹی اور اقتصادی ترقی کے لئے اپنی ضروریات اور امریکی مفادات کو پورا کریں ۔ حیرت انگیز تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جب بھی اس علاقے میں امریکی مفادات ہیں تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات مضبوط ہو جاتے ہیں ۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پاک ہمسایہ تعلقات اچھا نہیں رہا ۔ علاقے میں طاقت کی دوڑ، ایٹمی اسٹاک کی ڈھیر، علاقائی تنازعات اور بڑے کھلاڑیوں کے درمیان اتحاد دیکھنے کو ملا ۔ 9/11 کا واقعہ دنیا کی تاریخ میں ایک اہم مقام ثابت ہوا. اس واقعے کا براہ راست اثر جنوبی ایشیا ء پر پڑا. ایک قابل ذکر رجحان یہ ہے کہ افغانستان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر حملے اور نیٹو، اور امریکہ کی شکل میں بین الاقوامی افواج کی موجودگی نے نہ صرف خطے کی اسٹریٹجک اہمیت اور بڑھا دیا ۔ موجودہ علاقائی صورتحال کے نتیجے میں پاک امریکی تعلقات میں تبدیلی دکھا ئی دیتا ہے ۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں اینٹی سوویت فورسز کی حمایت کرکے سوویت یونین کے خلاف پراکسی کے طور پر امریکیہ کی خدمت کی، جس کی بنیادی طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو اربوں ڈالر کے فنڈ ملے . 9/11 نے ایک بار پھر مغرب کے لئے دروازوں کو ایک بار پھر کھول دیا اور خاص طور پر امریکہ کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی خواہش کی تکمیل کا راستہ آسان کردیا ۔اس وقت سے جب پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ شامل ہو گیا، اس سے نمٹنے کے لئے کئی روایتی اور غیر روایتی سیکورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ۔ سیاسی ، معاشی خرابی ،سماجی سیٹ اپ خراب کر رہی ہے، اسامہ بن لادن کو 2 مئی، 2011 کو میں قتل کیا گیا تھا. اسامہ بن لادن کا واقعہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں ایک اہم تبدیلی تھی. یہ واقعہ نہ صرف فوجی اشرافیہ کے لئے بلکہ اس ملک کےلئے بھی بہت شرمناک تھا۔ تازہ تریں چھ ملکی اسپیکر کی ملاقات اور علاقے امریکہ کے بجائے روس کی بلاک کا انتخاب پاکستان کے لئے کس حد تک فائدہ ہوگا ؟ وقت فیصلہ کریگا۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc