سی پیک۔ تحریر: حمایت حسین خیال

قسط نمبر ۱
سی پیک نہ صرف ایک ملٹی پراجیکٹ ہے بلکہ او ابی او آر کا سب سے زیادہ اہمیت کے حامل روٹ سمجھا جاتا ہے. سی پیک کے آغاز کے وقت ۴۶ بلین ڈالر مختص کئے گئے تھے جو کہ اب بڑھ کر ۶۶ بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ چینی صدر شی جن پنک نے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے او بی او آر کے اغراض و مقاصد سے پردہ اٹھا. اس کے ساتھ ساتھ او بی او آر میں پاکستان کو شامل کرنے کی بھی تجویز دی. چینی صدر کے خطاب میں بہت سارے سوالوں کے جوابات بھی موجود تھے. ۱۵ مئی ۲۰۱۷ کو چین کے دارلحکومت بیجنگ میں منعقد ہونے والی عظیم تقریب بعنوان بلٹ روٹ فورم میں ۲۹ کے قریب مختلف ممالک کے سربراھان، ۱۴۰ ممالک کے نمائندے اور ۷۰ بین اقوامی تنظیموں نے شرکت کر کے اس کی اہمیت دنیا کے سامنے واضح کر دی. او بی او آر کے ذریعے چین عالمی تجارتی منڈیوں تک رسائی حاصل کرے گا. اس طرح امریکی ورلڈ نیو آرڈر کے بدلے چینی ورلڈ آرڈر کامیاب ہوتے نظر آئے گا. او بی او آر چھ زمینی اور سمندری راستوں پر مشتمل ہے۔.
بنگلہ دیش- چین – انڈیا – میانمار
چین – منگولیا – روس
چین – وسطی ایشیاء – مغربی ایشیاء
چین – انڈونیشیا
یورپ زمینی راستہ
چین – پاکستان اقتصادی راہداری
اب ہمیں اس بات پہ غور کرنا چاہیے کہ آخر ان پانچ راستوں کے علاوہ سی پیک کیوں..؟
سی پیک مندرجہ بالا تمام راستوں میں مختصر ترین راستہ ہونے کیساتھ ساتھ گوادر بندرگاہ کی جغرافیائی حیثیت اور اس کی قدرتی خصوصیات ہیں. گوادر دنیا کے سب سے بڑے بحری راستے پر واقع ہے. یہاں سے عالمی تجارت پر نظر رکھی جا سکتی ہے. یہ پاکستان کی کثیر آبادی والے شہر کراچی کے قریب ہے. کراچی کو پاکستان کے معاشی دارالحکومت کہا جاتا ہے . کراچی میں موجود نجی اداروں کو ملک کی ریڑھ کی ہڑی سمجھا جاتا ہے اور کراچی ریوینو کو جنریٹ کرنے والی سب سے بڑی شہر ہے. گوادر ایرانی زمینی بارڈر سے صرف ایک سو بیس (۱۲۰) کلو میٹر کی دوری پر ہے. جس کو پوری دنیا میں ثقافتی سپر پاور سمجھا جاتا ہے. اومان ۳۸۰ کلومیٹر دوری کے فاصلے میں موجود ہے. گوادر سے براستہ افغانستان وسط ایشیائی ممالک تک رسائی ممکن ہے، جو کہ قدرتی وسائل میں مالا مال ہیں. گوادر سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں واقع ھے. پہاڑوں کی بلندی ۴۷۰ فٹ ہے جو گدار کی خوبصورتی کو دو بالا کرتی ہیں . گوادر اور اس کے آس پاس علاقے پون چکی ( wind mill) کے لئے بھی موزوں ہیں. سی پیک کی وجہ سے پاک چین دوستی اور مضبوط ہو گی. جہاں پاکستانی اور چینی باشندوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہو گی وہی چینی مصنوعات کو افریقہ یورپ اور خلیجی ممالک تک پہنچنے ک لئے راستہ بھی فراہم ہوگا. تجارت کے علاوہ چین عالمی رونما ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے گا . سی پیک کا یی بھی فائدہ ہے کہ چین اب سوتھ چائینا سی جیسے مقبوضہ علاقوں پہ سر زیادہ نہیں کھپائے گا. اس طرح خطہ میں موجود دیگر ممالک کو بھی سکھ کا سانس لینے کا وقت میسر آئے گا۔ سی پیک کا آغاز چین کے شہر کاشغر سے ہوگا. گلگت بلتستان سے ہوتے ہوئے کے پی کے میں داخل ہوگا اور پورے پاکستان کو سڑکوں اور ریلیوے کا ایک نیٹ ورک بچھاتے ہوئے بلوچستان میں موجود گوادر بندرگاہ پہ اختتام ہوگا. سی پیک کا پہلا پڑاؤ سوست بارڈد ہے لیکن ڈرائی پورٹ کو مختلف جغرافیائی، ماحولیاتی اور دیگر سیاسی حالات کے پیش نظر حولیاں منتقل کیا گیا ہے۔ یقیناً اتنے بڑے منصوبے کے جہاں اس قدر فوائد موجود ہیں وہی ان کے کچھ نہ کچھ منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں. ان منفی اثرات کا پہلے سے ہی تدارک کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی اثرات:
سوست گیٹ وے آف پاکستان. گلگت بلتستان ایک مقبوضہ خطہ ہے. اس خطے کے دعویداروں میں بھارت، کشمیر، پاکستان اور خود گلگت بلتستان ہیں. مسئلہ گلگت بلتستان کشمیر مسئلے سے جڑا ہوا ہے. اقوام متحدہ میں اس کے مقبوضہ ہونے کی کئی قرادادیں موجود ہیں. خصوصاً ۱۳ اگست ۱۹۴۸ کی وہ قرار داد جو پاکستان نے خود گلگت بلتستان کو مقبوضہ بنا کر اقوام متحدہ میں پیش کیا. اقوام متحدہ نے انڈیا اور پاکستان کی حکومت کو فوج کے انخلا اور ریفرنڈم کا حکم دیا. لیکن ایسا ہو نہیں سکا. ۱۹۹۹ کی جنگ اس بات نشاندہی کے لئے کافی ہے کہ حکومت انڈیا اور حکومت پاکستان ایک انچ پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں. تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ گلگت بلتستان کے درمیان سے سی پیک گزارا جائے اور بھارت خاموش رہیے. انڈیا کو یہ بھی ڈر ہے سی پیک کی تکمیل سے خطے میں پاکستان اور چین کا طوطی بولے گا. کئی بھارتی نیوز چینلز بتا چکے ہیں کہ سی پیک ان کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے. ۲۰۱۵ کو بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ چین کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج نے گلگت بلتستان کے بارے میں اپنے تحفظات چینی صدر کے سامنے رکھ دئیے. اور دوسری بار اگست ۲۰۱۶ کو بھارتی وزیرخارجہ نے چینی وزیر خارجہ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا۔۔ گلگت بلتستان کے قوم ہرست راہنماؤں نے بھی کئی دفعہ کہا ہے کہ انہیں سی پیک منصوبے میں تیسرا فریق تسلیم کیا جائے. ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان چونکہ مقبوضہ خطہ ہے ، گلگت بلتستان کیساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق برتاؤ کیا جائے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو جنگ عظیم دوئم کے کچھ محرکات میں جرمنی برلن بغداد ریلیوے منصوبے کو بھی سمجھا جا تا ہے. جو کہ گریٹر جرمنی کے ارادوں کو واضح کر رہا تھا. جرمنی بھی عرب ممالک میں موجود قدرتی ذخائر تک رسائی چاہتا تھا. اب ضرورت وقت یہی ہے کہ مسئلہ گلگت بلتستان کو حل کیا جائے. تاکہ خطے میں کشمکش اور جنگی تناؤ پیدا نہ ہو جائے اور خطے میں موجود امن کی فضا قائم رہے۔۔

جاری ہے

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc