عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کے اہم رہنماوں کے خلاف حکومت نے اہم قدم اُٹھا لیا۔

گلگت ( دسٹرک رپورٹر) گلگت بلتستان میں جاری ٹیکس مخالفین کے خلاف حکومت نے اہم قدام اُٹھا لیا۔ گلگت کے سٹی تھانے میں عوامی ایکشن کمیٹی چرمین مولانا سلطان رئیس سمیت اہم عہدے داروں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت بقاعدہ طور پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 21دسمبر کی تاریخ کے ساتھ درج اس مقدمے میں حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کے اہم عہدے داروں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے 21دسمبر کو این ایل آئی مارکیٹ میں زبردستی دوکانیں بندکرائے جس سے ملکی معشیت کو شدید نقصان پونچا ہے اور بلا جواز حکمرانوں کے خلاف تقرر کرتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے جبری دوکانیں کھلوانے کے الزمات لگائے اور این ایل مارکیٹ کے انتظامیہ کو دوکانیں کھلوانے کا مورد الزام ٹھہرا کر اُنکی تبدیلی کا مطالبہ کیا جس سے دوکانداروں میں شدید دہشت پھیلی اور دکانیں بند کرنے پر مجبور ہوئے۔ ایف آئی آر میں یہ بھی موقف اختیار کیا ہے ٹیکس مخالف احتجاج میں مقررین نے اہم ملکی اداروں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔ جن افراد کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا ہے اُن میں مولانا سلطان رئیسچیرمین عوامی ایکشن کمیٹی،راجہ میر نواز میر،سید یعصوب الدین،راجہ ناصر،ابرار حسین،فدا حسین،وائس چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی،امتیاز گلگتی،محمد ابراہم،مسعودالرحمن،میرباز علی کھیتران،جہانزیب انقلابی اور حیات گُل کے نام شامل ہیں۔
اتحاد چوک پر موجود عوام سے ہم نے جب اس حوالے سے سوال کیا تو ذیادہ تر افراد کا یہ شکوہ تھا کہ۔ ایک خطہ جو قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں اور وفاق پاکستان اس حوالے سے مسلسل اقرار بھی کرتے رہے ہیں کہ گلگت بلتستان آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام ہیں لیکن یہاں کے عوام پاکستان کو اپنا ملک سمجھتے ہیں اس ملک کیلئے ہزاروں جوانوں نے ہر میدان میں قربانیاں دی ہے لیکن یہاں حقوق کی بات کرنا ہر گزرتے دن کے ساتھ جرم بنتی جارہی ہے لیکن کس قانون اور آئین کے تحت کوئی بتانے کیلئے تیار نہیں ۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc